ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے


abdul majeedکچھ عرصہ قبل ’ہم سب‘ پر رائٹ ونگ اور بائیں بازو کے مابین ’معرکہ حق و باطل‘ جاری و ساری تھا لیکن اب یوں دکھتا ہے کہ کمیونسٹ بھائیوں کا مجادلہ تائبین کے ساتھ جاری ہے۔ اس ضمن میں ایک دھواں دار تحریر میں عزیز دوست نے کمیونزم کے دفاع میں کریمیا کے تاتاریوں کو بھی رگید دیا۔ ابھی یہ تحریر ذہن میں تازہ ہی تھی کہ بین الاقوامی خبروں پر نظر پڑی۔ یورپ میں ہر سال Eurovisionنام کا مقابلہ موسیقی ہوتا ہے جس میں یورپ بھر سے گلو کار شریک ہوتے ہیں۔ اس برس یہ مقابلہ یوکرائن میں پیدا ہونے والی ایک تاتاری النسل لڑکی نے جیتا اور اس کے گانے کا عنوان ’1944‘ تھا۔

دس مئی سنہ 1944ء کے روز سویت انٹیلی جنس (NKVD) کے سربراہ بیریا (Lavrentiy Beria) نے سٹالن کو ایک میمورینڈم پیش کیا جس کے مطابق کریمیا کے تاتاریوں نے ہٹلر کی جرمن افواج کی پیش قدمی کے بعد ان کی مدد کی اور یہ عمل روس سے غداری کے مترادف ٹھہرا۔ ایک ہفتے کے اندر NKVD کے اہلکار کریمیا پہنچ چکے تھے اور پو پھٹنے سے کچھ لمحے قبل انہوں نے ہزاروں تاتاریوں کو اپنا گھر بار سمیٹنے کا حکم دیا۔ پندرہ منٹ کی مہلت ختم ہونے پر تاتاری مردوں، خواتین اور بچوں کو ٹرینوں میں بھر کے وسطی ایشیا کے مختلف مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کچھ ہی ماہ میں دو لاکھ تاتاری افراد اس طرح بے گھر ہوئے۔ اس سفر کے دوران بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بہت سے لوگ منزل پر پہنچ کر نامساعد حالات کے ہاتھوں مارے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق کریمیا بدر ہونے والوں میں سے ایک تہائی افراد دس سال کے وقفے میں مارے گئے۔ اس جبری نقل مکانی کے بعد کریمیا میں مسجدوں، قبرستانوں اور رہائشی عمارات کو زمین بوس کیا گیا تاکہ سابقہ رہائشیوں کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ جنگ کے دوران قید سے بچنے کی غرض سے کچھ تاتاریوں نے جرمن فوج کا ساتھ دیا تھا لیکن اس جرم کی سزاایک نسل کو بھگتنی پڑی۔ سنہ 1967ء میں روسی حکومت نے باضابطہ طور پر کریمیا کے تاتاریوں کے لئے ’معافی‘ کا اعلان کیا۔ بیریا کے مظالم اور خاص طور پر جنسی جرائم کی کہانیاں اس کی موت کے بعد منظر عام پر آئیں اور سینکڑوں روسی خواتین اس کی شہوت کی بھینٹ چڑھیں۔ روسی ریاست نے بالشویک انقلاب سے سنہ 1991ء تک اپنے شہریوں پر جو مظالم ڈھائے، ان پر ان گنت کتب لکھی جا چکی ہیں۔ سائبیریا میں موجودGulag  کے متعلق کتب اور فلمیں موجود ہیں۔ ماسکو ٹرائل کی قلعی ان دنوں شائع ہونے والے بین الاقوامی اخبارات میں کھل گئی تھی، آپ آج بھی انہیں غیر جانب دار سمجھ رہے ہیں۔ کریمیا کے تاتاریوں کا موازنہ پاکستانی طالبان سے کرنا ناانصافی ہو گی کیونکہ پاکستانی حکومت نے کبھی طالبان اور ان کے لواحقین کو بوریا بستر سمیت علاقہ بدر نہیں کیا۔

مجاہد مرزا، جمال نقوی اور وجاہت مسعود تو بیسیوں صدی کے اواخر میں تائب ہوئے، کمیونزم اور ’روسی حقیقت‘ سے انحراف کی کہانی تو بہت پہلے شروع ہو گئی تھی۔ سنہ 1921ء میں Kronstadt کے مقام پر سویت بحریہ کے اہلکاروں اور کسانوں نے ’بالشویک انقلاب‘اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا۔ یہ باغی افراد بالشویک حکومت کے سخت اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے، ان کے مطابق ’یہ وہ سحر تو نہیں کہ جس کی آرزو لے کر، چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں‘۔ اس بغاوت کو ’سرخ آرمی‘ نے کچھ ہفتوں میں کچل دیا اور ہزاروں ’باغی‘ کھیت رہے۔برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں جب Reformed کمیونسٹ ملتے تو ایک دوسرے سے دریافت کرتے:’تمہارا Kronstadt کب پیش آیا؟‘ یعنی تم نے سویت روس کی بربریت پر پردے ڈالنا کب چھوڑا، وہ کون سا موقع یا واقعہ تھا جب تم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب روس کا Apologist نہیں بننا؟ ماسکو ٹرائل کے بعد امریکہ اور یورپ میں بہت سے لوگ ’تائب‘ ہوئے۔ آرتھر کوئسلر نے سنہ 1940 ء میں شہرہ آفاق ناول Darkness at Noon لکھا۔ سپین میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران روسی انٹیلی جنس نے سٹالن کے مخالفین کو جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔ اس خانہ جنگی میں شرکت کرنے والے جارج آرویل نے سنہ 1945ء میں Animal Farm تحریر کیا۔ہینا آرینڈٹ Hannah Arendt نے سنہ 1951ء میں The Origins of Totalitarianism تحریر کی۔ سنہ 1956ء میں روس نے ہنگری پر چڑھائی کر دی تو برطانیہ میں سوشلسٹ پارٹی کے بیشتر سرخوں نے کمیونزم کو خیر باد کہا۔

سٹالن کے مرنے کے بعد ماؤ زے تنگ نے چین میں انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ شروع کیا۔ سنہ 1957ء میں چین کے ہر صوبے کو اناج کی ایک مخصوص مقدار پیدا کرنے کا ہدف دیا گیا۔ اس طرح ’عظیم قحط   (The Great Famine)کی ابتدا ہوئی جس کے نتیجے میں تین سے چار کروڑ افراد مارے گئے۔ جن صوبوں نے مزاحمت کی کوشش کی، وہاں لوگوں کے گھر مسمار کر کے سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ کچھ صوبوں میں پچاس فیصد تک درخت کاٹ دیے گئے۔ اس اقدام کے باعث کمیونسٹ جماعت کے چنیدہ راہنماؤں نے ماؤ پر تنقید کی۔ قحط کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی تنقید کا رد عمل ’ثقافتی انقلاب‘ کی شکل میں آیا جو بظاہر رد انقلابیت کے خلاف مہم تھی لیکن اس انقلاب نے چینی معاشرے کا نقشہ بدل دیا۔ ثقافتی انقلاب کے دوران ’ریڈ گارڈز‘ نے کنفیوشس کی قبر کھود ڈالی۔ اس دور میں ہر سکول، سرکاری دفتر، فیکٹری حتیٰ کہ فوج میں بھی دو گروہ موجود تھے جو ایک دوسرے کو اپنے سے کم تر کمیونسٹ خیال کرتے تھے۔ ثقافتی انقلاب کی پچاسویں ’سالگرہ‘ کے موقعے پر دائی سیجی یا جی شیانلن کی کتب دیکھ لیجئے جو اس دور کی کہانی آسان الفاظ میں سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ کمبوڈیا میں پال پوٹ بھی کمیونسٹ راہنما تھا، اس نے نسل کشی میں ماؤ اور سٹالن کے نقش قدم پر عمل کیا۔ بھارت میں چونتیس برس تک مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت تھی۔ وہاں معاشی پسماندگی، بھتے اور بد معاشی کے فروغ میں کمیونسٹ جماعتوں کے کردار کے قصے ممتا بینر جی سے سنئے۔ البانیہ میں انور ہوجا اور رومانیہ میں چاوشسکو کی حکومتوں سے ان ممالک کے عوام آج بھی پناہ مانگتے ہیں۔

کمیونزم اور ’انقلابی سچ‘ پر ایمان رکھنا ذاتی معاملہ ہے البتہ اس ضمن میں تاریخی حقائق کو مختلف رنگ میں پیش کرنا بد دیانتی ہے۔

روس اور چین کو پس پشت ڈال کر پاکستان میں ’کمیونسٹ سیاست‘ کی تاریخ کا مشاہدہ کریں۔ ضرب المثل ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ نوزائیدہ ملک میں کمیونسٹ جماعت نے طالع آزما جرنیلوں کو ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن قدرت (یا ایوب خان کہہ لیں) کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ لیکن سارے فسانے میں ’وہ بات‘ تو موجود تھی، آپ کو ٹھیک سے سمجھ نہیں آئی۔ راولپنڈی سازش کیس کا ہوا امریکہ سے پینگیں بڑھانے کی غرض کھڑا کیا گیا۔ 60ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ کے مقابلے میں کمیونسٹ جماعتوں کی ایک نہ سنی گئی۔ بھٹو حکومت کے ابتدائی دور میں پیپلز پارٹی میں موجود سوشلسٹ حلقے نے صنعتیں قومیانے کا تجربہ کیا اور جب مزدوروں نے فیکٹریوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو سرکار نے تشدد کا استعمال شروع کر دیا۔ بالآخر 1977ء میں شروع ہونے والی بھٹو مخالف تحریک میں کمیونسٹ جماعتیں شریک تھیں۔ ضیاء کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تو سویت روس کاجنازہ تیار کھڑا تھا۔ پاکستان کے موجودہ اور سابقہ سیاسی اور سماجی مسائل کمیونسٹ جماعتوں کو سمجھ نہ آئے۔ گزشتہ ایک دہائی سے ملک میں جاری دہشت گردی کے متعلق کمیونسٹ جماعتوں اور جماعت اسلامی کا موقف ملتا جلتا ہے۔

پاکستان معرض وجود میں آیا تو کمیونسٹ پارٹی کو پرولتاری نہ ملے کیونکہ پاکستان میں صنعتی مزدوروں کی تعداد بہت کم تھی، لہٰذا ریلوے ملازمین (جو کہ سرکاری ملازم تھے)کو پرولتاری قرار دیا گیا۔ سعادت حسن منٹو نے سنہ 1948ء میں ’سیاہ حاشئے‘ تحریر کی تو ترقی پسند مصنفین لٹھ لے کر ان کے درپے ہوئے۔ منٹو نے جیب کفن میں لکھا: ’یہ کیسے ترقی پسند ہیں جو تنزل کی طرف جاتے ہیں۔ یہ ان کی سرخی کیسی ہے جو سیاہی کی طرف دوڑتی ہے۔ یہ ان کی مزدور دوستی کیا ہے جو مزدور کو پسینہ بہانے سے پہلے ہی مزدوری کے مطالبے پر اکسا رہی ہے۔ یہ ان کی سرمائے کے خلاف محنت کی مبارزت کس قسم کی ہے کہ یہ خود سرمائے سے مسلح ہونا چاہتے ہیں اور اپنے محبوب ہتھیار، درانتی اور ہتھوڑا اپنے مخالفوں کے ہاتھ میں دے رہے ہیں۔‘

کارل مارکس اور اینگلز کے طے کردہ معاشی اصولوں پر عمل کرنے والے ممالک، سیاسی طور پر جبر اور استبداد کی علامت بن گئے، جہاں اختلاف رائے کا مطلب موت تھا، جہاں تنقید کرنا اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا، جہاں انٹیلی جنس ایجنسیاں راج کرتی تھیں۔ مشرقی جرمنی کی بدنام زمانہ ’سٹاسی‘ کے بارے میں مشہور تھا کہ اس ملک میں ہر تیسرا شخص اس ایجنسی کے لئے جاسوسی پر مامور تھا۔ یکسانیت اور جمود تخلیق کے چشموں پر بند باندھنے کا کام کرتے ہیں۔سوشلزم سے حاصل ہونے والے ضمنی فوائد سے انکار نہیں اور زمانہ جدید کی فلاحی ریاستوں کا تصور سوشلزم کی دین ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید اور معاشی ناانصافی کی بنیادوں کو سمجھنے میں سوشلسٹ لکھاریوں نے اہم کردار ادا کیا۔ آزادی نسواں، بنیادی انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق اور آزادی اظہار رائے کے ضمن میں سوشلزم کے ماننے والوں نے (غیر سوشلسٹ ممالک میں) نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

 کچھ برس قبل مبارک حیدر صاحب سے 1991ء میں ان کے دورۂ روس اور اس دوران مشاہدات کے متعلق سوال کیا تو جواب ملا: ’اگر کوئی نظریہ مختلف علاقوں اور حالات میں لاگو کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر دفعہ یہ تجربہ ناکام ٹھہرے تو سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ عمل میں نہیں بلکہ نظریے میں ہے‘۔

پس نوشت: برادران ملت کو ’ہم سب‘ کی رجعت پسندی اور رد انقلابیت کی دہائی دینے سے زیادہ کارل مارکس کے حضور شکرانہ ادا کرنا چاہئے کہ جس نے عالم بالا سے 2008ء کا معاشی بحران بھیج دیا ورنہ کمیونسٹ بھائیوں کو کوئی بھی بات کرنے کا موقع کہاں ملتا۔ گئے وقتوں میں ’اسلام خطرے میں ہے‘ کے نعرے سنا کرتے تھے، گردش دوراں نے یہ وقت بھی دکھانا تھا کہ اب ’کمیونزم خطرے میں ہے‘۔

 


Comments

FB Login Required - comments

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 19 posts and counting.See all posts by abdulmajeed