تعلیمی نظام کی مکمل پرائیویٹائزیشن


safdar saharپاکستان میں جبری(آپ اسے لازمی کہہ لیں) اور مفت تعلیم کا ماڈل برطانیہ سے مستعار، بلکہ یوں کہیں کہ وراثت میں آیا۔ جبری( لازمی) تعلیم کا برطانیہ میں دستور 1880میں جب کہ سرکاری تعلیم کے مفت کیے جانے کا قانون 1891میں منظور ہوا۔ امریکہ میں یہ حادثہ برطانیہ کے بھی بعد ہوا۔ قبل ازیں ان ممالک میں تعلیمی نظام مکمل طور پر پرائیویٹ تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیوں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ نجی تعلیم نظام کی بجائے سرکاری نظام تعلیم متعارف کرایا جائے۔ وہ ایکٹ جس میں مفت لازمی سرکاری تعلیم کو متعارف کرایا گیا تھا اس کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے ڈبلیو ای فارسٹر نے کہا تھا کہ ان سرکاری سکولوں کے قیام کا مقصد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے متبادل کو متعارف کرانا نہیں ہے بلکہ اس میں موجود جو خلا ہیں اس کا مقصد ان کو پر کرنا ہے۔ مزید تفصیل اس اجمال کی یہ کہ دور دراز کےچھدری آبادیوں میں نجی سکول مالکان کو کم طلبا کی وجہ سے مناسب نفع میسر نہیں آتا تھا ، یہ وجہ ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں سکول کھولنے سے ہچکچاتےتھے۔ ریاست نے اپنی طرف سے ایسے علاقوں میں سرکاری سکول شروع کیے تاکہ ایسی آبادیوں کے بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔ مگر آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ نظام تعلیم جو فقط خلا کو پر کرنے آیا تھا ، اس نے نجی تعلیمی نظام کو ناک آئوٹ کر دیا۔

لبرل تعلیم کے سب سے بڑے حامی اس ای جی ویسٹ اس حوالے سے لکھتے ہیں:
’’مگر جو حکام اس سرکاری سکولوں کی سکیم سے متعلق تھے وہ زیادہ ہی جذباتی تھے جس کا اظہار انکی رپورٹوں سے ہوتا تھا جو وہ ان سکولوں کی ضروریات سے متعلق دیتے تھے، یوں جب یہ سرکاری سکولوں کے ڈھانچے برطانیہ بھر میں کھڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ ان کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں فاضل گنجائش موجود ہے۔ جب اس فاضل گنجائش کا بھید کھلا اور سکولوں میں دیکھا گیا کہ ادھی نشستیں بچوں سے محروم ہیں تو ایجوکیشن بورڈ نے اپنی حواس باختگی اور بے ڈھنگے پن کو چھپانے کے لیے ٹیوشن فیس میں کمی کر دی اور اس سے جو نقصان ہوا اس کو پورا کرنے کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر انحصار کیا۔ تعلیم کی جب قیمت کم ہوئی تو معیشت کے سادہ اصولوں کے مطابق طلب بڑھ گئی مگر اس کی قیمت چکائی پرائیویٹ سکولوں نے۔ بہت سے پرائیویٹ سکول اس غیر شفاف مقابلے کی تاب نہ لا کر بند ہو گئے۔‘‘

یہ تو تھی سرکاری نظام تعلیم کے آغاز کی کہانی ۔ اب آتے ہیں اس طرف کہ یہ تعلیم لازمی اور مفت کیسے ہوئی۔ ہوا یوں کہ ایک طرف دستور کے ذریعے تعلیم لازمی کر دی گئی تو سرکاری سکولوں کے حامیان نے دلیل دی کہ یہ بات غلط ہے کہ معاشرے کے غریب ترین افراد کو اس بات پر مجبور کیا جائے جو وہ افورڈ نہیں کر سکتے۔ اس مسئلے کا حل تو یہ ہوتا کہ ان غریب افراد کو مالی معاونت یا قرض فراہم کیا جاتا، سرکاری سکول کے ان حامیان نے اصرار کیا کہ تعلیم کو سب کے لیے مفت کر دیا جائے۔ یوں سرکار کا تعلیم کے مکمل نظام پر اجارہ ہوگیا۔

اب ہوا کیا…. وہ سکول جو پہلے سے موجود پرائیویٹ تعلیمی نظام میں موجود چھوٹ موٹے خلا کو بھرنے کے لیے بنائے گئے تھے وہ مفت تعلیم کی وجہ سے آرام دہ صورت حال میں آگئے کیونکہ لازمی سی بات ہے کہ فری ایجوکیشن آبادی کی اکثریت کا انتخاب ہونا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ پراﺅیٹ سکول تیزی سے روبہ زوال ہونا شروع ہو گئے اور سرکاری سکول راکٹ کی رفتار سے پھلنے پھولنے لگے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ برطانیہ میں جب نظام تعلیم مکمل طور پر پرائیویٹ تھا تو شرح خواندگی زیادہ بہتر تھی۔ جبری سرکاری ’مفت‘ تعلیم کے متعارف کرائے جانے سے قبل 1800 سے 1840 کے دوران شرح خواندگی زیادہ بلند تھی جبکہ تعلیم فراہم کرنے والے ادارے پرائیویٹ تھے۔

اب آئیے پاکستان کے سرکاری جبری اور مفت نظام تعلیم کی طرف۔ معاشرے کا وہ طبقہ جو نسبتا خوشحال ہے وہ اپنی اولاد کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجتا ہے یا جو زیادہ صاحب استطاعت ہیں وہ اپنے بچوں کو دیار غیر بھیجتا ہے۔ رہ گئے وہ غریب عوام جن کی جیب خالی ہے مگر بچوں کو پڑھانے کی خواہش ہے تو ان کے لیے ہیں سرکاری سکول۔ وہ سکول جو ان اصحاب کے ٹیکس سے چل رہے ہیں جن کے بچے ان سکولوں میں نہیں پڑھتے۔

میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب آپ زندگی کے تمام شعبوں میں منڈی اور مقابلے کی معیشیت کو تسلیم کرتے ہیں تو آخر تعلیم کی صنعت کے حوالے سے جب یہ مطالبہ سامنے آتا ہے تو کیوں ناک بھوں چڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ اس ضمن میں مقابلے کی معیشت کے مبلغین بھی رجعت پسندانہ ردعمل دیتے ہیں۔ ریاست کا مرکز نگاہ فرد ہونا چاہیے ، فرد کی تمام جائز ضرورتیں پوری کرنا یا کم از کم اس کی کوشش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے نہ کہ کسی تاجر کی طرح تجارتی منصوبے بنانا ریاست کا کام ہے۔ ریاست کو تشویش ہونی چاہیے کہ اس کی شرح خواندگی بہتر ہو، اس کا فرد زیادہ پیداواری اور تخلیقی ہو۔ تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو ہی فنانس کیا جائے۔ کسی کے ٹیکس کے پیسوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ویسے ہی اخلاقی سطح پر قرین انصاف نہیں۔ آپ نے فنانس ہی کرنا ہے تو طالب علم کو کیجئے۔ مگر آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح غریب کے بیٹے کو بھی ان سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے کا موقع مل سکتا ہے جہاں اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سکولوں کو پرائیویٹائز کرنے کی بات آتی ہے تو ٹیچریونینیں سڑکوں پر دندناتی آجاتی ہیں کہ ان کی جاب سکیورٹی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا استاد کی عظمت کا راگ الاپتا میدان میں آجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹیچر قابل ہے، علم میں اپ ٹو ڈیٹ ہے تو اس کے لیے روزگار کا مسئلہ ویسے ہی نہیں کہ پرائیویٹ سکولوں سے وہ زیادہ اجرت پاسکتا ہے۔ مگر حقیقت کچھ یوں ہے کہ ہمارا استاد نہ تو اپنے علم کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کا تردد کر رہا ہے نہ ہی اس قابل ہے آزاد منڈی میں مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکے۔ اس لیے وہ پریشر گروپ بناتا ہے اور لیبر یونینوں کی طرح اپنے مفادات کے تحفظ میں سرگراں ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ہو کہ رجعت پسند حلقہ اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر سرکاری لازمی تعلیم کا حامی ہے۔ لبرل دانشور حلقہ تعلیم کی مکمل پرائیویٹائزیشن کے موضوع کو جانے کیوں بھاری پتھر جان کر چوم کے چھوڑ دیتا ہے۔ تعلیمی نظام کی مکمل پرائیویٹائزیشن تعلیم کے تمام مسائل کا واحد موزوں حل ہے جس پر بات کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments