مکالمے کی روایت نہیں ہے


mujahid mirza شاداب مرتضٰی کو چھوڑ کر کہ بھلے انسان معلوم ہوتے ہیں، بائیں بازو سے وابستہ ہونے کا دعوٰی کرنے والے ان اکثر دوستوں کا تعلق انتہا پسندی اور عقیدہ پرستی سے زیادہ لگا جنہوں نے مجھے اور یقیناً وجاہت مسعود کو بھی شب و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔

 کسی نے ہمیں نرے جاہل کہا تو کسی نے رینگتے ہوئے گدھوں سے تشبیہہ دی۔ لوگ خواہ مخواہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو الزام دیتے تھے کہ وہ ہر اس شخص کو نشانے پر دھر لیتے ہیں جو ان کی پارٹی یا ان کے رہنما کے سیاسی چلن پر تنقید کرے۔ لگتا یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ برداشت کا چلن ختم ہو چکا ہے۔ رواداری نام سے کوئی شناسا نہیں۔

  ایک برخوردار نے ہمارے لیے “مرتدین اشتراکیت” کی اصطلاح وضع کی جیسے کہ اشراکیت بھی کسی قسم کا مذہب ہے جس کا کہ ہم ارتداد کر رہے ہیں۔ اشتراکیت کے پیروکار تب تک رہیں گے جب تک نظام سرمایہ داری موجود ہے کیونکہ یہی جدلیات ہے۔ کسی بھی نظام کے رد میں جس نظام کے ساتھ امیدیں باندھ لی جاتی ہیں اس کے “ماننے والے” موجود رہتے ہیں۔

 یقین جانیں میں بالکل نہیں سمجھ پایا کہ مجھے یا وجاہت مسعود کو سرمایہ داری کا حامی کیونکر سمجھ لیا گیا ہے؟ کیا صرف اسی خود ساختہ اصول کے تحت کہ “اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں تو دشمن کے ساتھ ہیں”۔ کیا اتنی مہربانی نہیں کی جا سکتی کہ سمجھا جائے جہاں میں اور شاید وجاہت مسعود بھی جہاں آپ کے محبوب نظام کے حق میں نہیں ہیں وہاں دوسرے نظام کے حق میں بھی نہیں ہیں بلکہ ہم آپ دونوں کے نظاموں کے بہتر نکات کے حق میں ہیں۔

 نظام سرمایہ داری کی قباحتوں کا اظہار ان ملکوں میں ہوا ہے جہاں سرمایہ داری ترقی یافتہ نہیں، جہاں سرمایہ دار طبقہ اس نظام سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوتا ہے اور باقی طبقات کی بھلائی پس پشت رہنے دی جاتی ہے۔ سوشلسٹ نظام کی خامیاں، اس کے بطن میں رہنے والے لوگوں کا کوئی شاہد لاکھ گنوائے مگر جو لوگ آنکھوں پہ پٹی باندھے ہوئے ہوں وہ بھلا کیونکر مان پائیں گا، خاک چاہے ماسکو کی ہو یا کہیں اور کی جہاں جہاں کے جو بھی معتقد ہیں وہ اسے آنکھوں کا سرمہ تو سمجھتے ہیں لیکن کہیں کی خاک کسی نے بھی سرمہ سمجھ کر آنکھوں میں ڈالی نہیں ورنہ آشوب چشم کا علاج کروانے کی خاطر آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ جاتا۔

 خدارا یہ ثابت نہ کیجیے کہ کس میں کیا بہتری ہے کیونکہ سب دیکھے بھالے ہیں بلکہ اس بات پر غور کیجیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کیونکر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ میں چونسٹھ ہزار خاندانوں کا بے گھر ہونا قبیح ہے اسی طرح سوویت یونین میں ” بومز” ( بیز اوپریدیلیونے میستا ژی تلستوا ۔ ۔ ۔ بغیر متعین مقام رہائش کے) لوگوں کی تعداد کے بارے میں اعداد و شمار ہی نہیں مل پائیں گے جن کی تعداد بھی ہزاروں لاکھوں میں تھی۔ خیر بے گھری ایک بالکل علیحدہ موضوع ہے۔ اچھے بھلے لوگ بھی بے گھر ہو جاتے ہیں اور الکحلک بھی۔ ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ امریکہ اور روس میں کیا خصائص ہیں اور کیا نقائص بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ جن ملکوں کے بہت زیادہ لوگوں کا مسئلہ ضروریات زندگی کی عدم دستیابی یا ان تک نارسائی ہے، ان کے لیے کیا کیا جائے؟

انقلاب حل ہے تو لے آؤ مگر اگر نہیں لا سکتے تو انتخابی عمل کے نظام کو بہتر بنانے اور اس میں بہتر لوگوں کو چنے جانے کو فروغ دینے کے عمل میں شریک ہونے میں کیا قباحت ہے؟ یا آپ نے یعنی ہم سب نے جو حساس ہونے کے دعویدار ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ انسان من حیث انسان مجبور و مقہور نہ ہو، اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے رکھنے کی قسم کھائی ہوئی ہے؟


Comments

FB Login Required - comments