عمران خان، شہرِ آشوب اور ایک ہجوم کا نوحہ


rajaعمران خان صاحب کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر اپنی فصاحت و بلاغت سے زیادہ اس ملک کے سماجی و عمرانی نوحے کی عکاس تھی۔ یہ اس شکست و ریخت کا اعلان تھا جو کہ اس معاشرے پہ بیت چکی ہے۔ ابھی اختر رضا سلیمی کے ناول “جاگے ہیں خواب میں” کے سحر سے ہی نہیں نکلا تھا کہ “Ryszard Kapuściński” کی رپورتاژ “Shah of Shahs” پڑھ بیٹھا ہوں۔ دکھ کا آسیب میرے اندر گھر کر گیا ہے۔ ان دیکھی کا ڈر اور ان کہی کا دکھ میرے اند کنڈلی مار کے بیٹھ گیا ہے۔ میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر ذہنی خلفشار اور اضطراب اپنی انتہا کو ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اِس سیاسی انتشار جو کہ درحقیقت ثقافتی انتشار ہے اور جس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں کے اوپر کتنا لکھا جائے۔ یقین مانئے ہم ایک انتہائی سطحی ذہنیت کی قوم ہیں جس کا تمدنی شعور اشتعال انگیزی کی جانب مائل ہے۔ ہم تاریخی شعور سے عاری اور وقت کے مزاج سے نا آشنا ہجوم ہیں۔ کتابیں نہ پڑھنے والا ہجوم۔ باخدا اس معاشرے کے سیاسی اور اجتماعی شعور نے اسی دن خود کشی کر لی تھی جب جوگندر ناتھ منڈل، بڑے غلام علی خان اور قرۃالعین حیدر واپس انڈیا لوٹ گئے تھے۔ جس دن فاطمہ جناح ایوب خان کے ہاتھوں ہار گئی تھیں اور جس دن حبیب جالب پہ ڈنڈے برسائے گئے تھے۔ جانے درد کی کس رو میں بہہ کر ناصر کاظمی نے لکھا تھا

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

انقلاب ایران کے پس منظر میں ایرانی اشرافیہ کے طرز زندگی اور معاشرت کے اوپر لکھی گئی رپورتاژ جسے “mythobiography” بھی کہا جا سکتا ہے آج پاکستان کے حوالے سے کتنی برمحل ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیسے خاندانوں کے خاندان اپنی دولت سمیٹ کر باہر بھاگنے کی تگ و دو میں صرفِ جاں کیے ہوئے ہیں اور کیسے شاہانہ انداز زندگی کو بچانے کی سعی جاری ہے اور کس طرح سرمایے اور پیسوں کی بوریاں گھروں سے بر آمد رہی ہیں۔ رکیے یہ پاکستان کی نہیں ایران کی بات ہو رہی ہے۔

ہم فکری اور نظریاتی خلجان کا شکار ہیں۔ پرویز رشید کو ہی دیکھ لیجئے اور دہرِ عبرت میں سبق لیجئے۔ ایک شوریدہ سر انقلابی جو سرخ کفن سر پر باندھ کر سر اُٹھا کر جینے کی ضد میں سر بکف تھا۔ اشتراکیت اور مارکسی اخلاقیات کا پیروکار۔ راجہ انور، افتخار احمد، طارق عزیز، معراج محمد خان، مختار رانا اور پرویز رشید۔ قافلوں کے قافلے ریت کی دیوار ہوگئے اور سرخ سویرا کہیں گمنام افق کی نظر ہو گیا۔ پرویز رشید کو اگر نواز شریف کی مدحت سرائی سے فرصت ملے تو پوچھئے کہ ایشیا سرخ ہے یا سبز؟ خدا را مستنصر کا ناول”اے غزالِ شب” پڑھیے اور دھاڑیں مار مار کر روئیے کہ کیسے سرخ سویرے کی آس نے نسلوں کی نسلیں دامِ فریب کی نظر کر دیں۔ مابعد نو آبادیت ایجنڈے کی علمبرادار میاں محمد نواز شریف کی حکومت جب عالمی مالیاتی اداروں سے اُن کے طے کردہ شرح سود اور شرائط پہ قرضے لے کر بغلیں بجاتی ہے اور جواب میں انہیں اداروں کے متیعن کردہ معیار پر موڈیز، آئی ایف سیز اور بلومبرگ پاکستان کے معاشی استحکام کی سند جاری کرتے ہیں اور جواب میں پرویز رشید لہرا لہرا کر جب قوم کو یہ خوشخبری سناتے ہیں تو یقین مانئیے اینگلز اور مارکس کی روحیں تڑپ اٹھتی ہیں۔ کسی گمنام شاعر کا شعر یاد آیا

میرے تحریر شدہ سارے دلائل ہیں غلط
اس کی جانب سے جو اک سادہ ورق ہے، حق ہے

میری عمران خان سے چھ ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں سے آخری اِس سال کے اوائل پہ بیرسٹر شہزاد اکبر کی ڈرون رپورٹ کے لانچ کے موقع پر تھی۔ مجھے اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہر ملاقات میں عمران خان کو غیر متاثر کن پایا ہے اور کافی حد تک اپنی ذات کا اسیر۔ عمران کی تمام دلچسپی کا محور اُن کا بلیک بیری فون ہے مگر آپ عمران پہ کسی مالی بد دیانتی کا شک بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آف شور کمپنی بنابا کوئی جرم ہے؟ ہر گز نہیں۔ خدارا قوم کو گمراہ مت کیجئے tax“relaxation اور “tax evasion” میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ میر شکیل عمران سے ذاتی عناد میں کتنا آگے جائیں گے؟ عمران پہ کیچڑ اچھال کر بھی شریف خاندان کی پاکبازی نہیں ثابت کی جا سکتی۔ سوالات کا سلسلہ تو چل نکلا ہے۔ کِس کِس کی زبانیں بند کریں گے۔ “Joseph Conard”کا ناول “The Heart of Darkness” بھی کیا شاندار تصنیف تھی جس نے نام نہاد شرفا اور اشرافیہ کے چہروں سے نقاب نوچ ڈالے تھے۔ نقاب تو اب یہاں بھی سرک گئے ہیں۔ “Elite Democracy” اور استحصالی جمہوریت کتنا عرصہ اور عوام کو نوچے گی۔ وہ جمہوریت جس کے محافظ دانیال عزیز، طلال چوہدری اور عابد شیر علی ہوں اس پر تف ہی کیا جا سکتا ہے۔ فیض صاحب کا شعر برملا یاد آیا

“تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد”

مجھے کسی سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا موجودہ سیاسی کلچر جو کہ کرپشن اور بدعنوانی سے آلودہ ہے کا سنگِ بنیاد شریف خاندان نے رکھا ہے۔ چھانگا مانگا سیاست سے گھر پیسوں کے بریف کیس بھیجنے کی جو روایت بڑے میاں صاحب نے شروع کی تھی وہ آج بھی اُتنی ہی شد ومد سے جاری ہے۔ بی بی صاحبہ نے بھی مجبور ہو کر آصف علی زرداری کو “carte blanche” دیا کہ شریفوں کی پیسوں کی سیاست کا مقابلہ پیسوں سے ہی کیا جا سکتا ہے اور یوں کرپشن کی اُن ہوشُربا داستانوں نے جنم لیا جن کے سامنے “سہارتو” اور “پیرون” بھی شرما گئے۔ باقی سب چھوڑئیے صرف نوازے گئے وفاداروں کی فہرست پہ نظر ڈالئیے جن کی فہرست طویل ہے اور گفتگو بھی نا مہربان ۔ “House of Sharifs” کی وفاداری کا عہد لیجئے اور قومی اداروں کے حاکم بن جائیے۔ ہائے میرے عہد کا منفرد شاعر احمد فراز

“نوحہ گر چُپ ہیں کہ روئیں بھی تو کِس کو روئیں
کوئی اِس فصلِ ہلاکت میں سلامت بھی تو ہو”

جانے کیوں دل اس جمہوریت سے اکتا گیا ہے۔ کاہے کی جمہوریت ؟ دو خاندانوں کی حکمرانی ؟ زبانیں خشک کر لیں، رگیں چڑھ گئیں جمہوریت سنتے پڑھاتے اور اس کے حق میں دلیلیں دیتے اب دل نہیں مانتا۔ لعنت ہو آمریت پہ مگر یہ پاکستانی جمہوریت کا طوق تو اس لعنت سے بھی بد ترین ہے۔ ہم بھی عجب ملک کے عجب باسی ہیں انسانوں سے توقعات لگاتے ہیں.

“کس قدر تکلیف دہ تھا آرزوؤں کا سفر
مسئلہ در مسئلہ، سانحہ در سانحہ”

سیاست، ریاست اور جمہوریت کو از سرِنو پرکھنے کی ضرورت ہے یہ “Political Theory” کا “crisis” ہے اور یہ حلق پھاڑ کر سسٹم کی حمایت اور جمہوری تسلسل کے نعرے لگانے سے حل نہیں ہوگا۔ ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جو کہ “individualism”، “accountability” اور“deliverance” پر قائم ہو۔ جمہوریت عمل کا نہیں بلکہ ایک کلچر کا نام ہے اور معاشرے جمہوریت کے لئے مناسب یا غیر مناسب نہیں ہوتے بلکہ جمہوریت کے ذریعے مناسب بنائے جاتے ہیں۔ اِس بات پر سوچئے اور امجد اسلام امجد کو پڑھیے:

یہ جو اب موڑ آیا ہے

یہاں رک کر کئی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے

کہ یہ اس راستے کا ایک حصہ ہی نہیں،سارے

سفر کا جانچنے کا، دیکھنے کا، تولنے کا

ایک پیمانہ بھی ہے، یعنی

 یہ ایسا آئینہ ہے

جس میں عکسِ حال و ماضی اور مستقبل

بہ یک لمحہ نمایاں ہے

یہ اس کا استعارہ ہے

جو اپنی منزلِ جاں ہے

سنا ہے ریگِ صحرا کے سفر میں

راستے سے دو قدم بھٹکیں

تو منزل تک پہنچنے میں کئی فرسنگ کی دوری نکلتی ہے

سو اب جو موڑ آیا ہے

یہاں رک کر کئی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے

(راجہ قیصر احمد قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں پڑھاتے ہیں اور تاریخ، ادب، فلسفہ اور مذہب پر گہری نگاہ رکھتے ہیں)۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “عمران خان، شہرِ آشوب اور ایک ہجوم کا نوحہ

Comments are closed.