ملا اختر منصور کی موت


adnan karimiخبر ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔

اگر مذکورہ خبر درست ہے تو ملا منصور کی ہلاکت پاکستان، افغانستان، امریکا اور افغان طالبان سمیت ایران کے لیے بھی ایک زبردست دھچکے سے کم نہیں، کیونکہ افغان طالبان اس وقت دنیا کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس کی مجبوری بھی ہیں۔ پاکستان افغان طالبان کا بڑا بھائی اور اس پر مکمل اثر ورسوخ کا ناصرف دعویدار ہے بلکہ گزشتہ سالوں میں وہ اس کے کئی مظاہرے بالعموم دنیا اور بالخصوص امریکا اور چائنا کو دکھا بھی چکا ہے۔ طالبان افغانستان و امریکا کی ضرورت بھی ہیں اور مجبوری بھی ہیں امن وامان اور پرامن انخلا کی خاطر۔ ملا منصور طالبان کی ضرورت ان کے غیر لچک دار راہنما ہونے کی وجہ سے ہے اور مزہ کی بات یہ ہے کہ ایران بایں معنی طالبان کے ہاتھوں مجبور ہے کہ طیب آغا کی بدولت ایران اور طالبان باہم قریب ہوئے، ایران نے درپردہ طالبان کی حمایت اور مالی وعسکری معاونت بھی شروع کرڈالی تھی بظاہر یہ سب “حب علی” کا نتیجہ نہیں بلکہ نرا “بغض معاویہ” کا شاخسانہ تھا۔ اس طالبانی ہمدردی کے باعث ایران پاکستان اور چائنا کے سامنے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب رہا، ساتھ ہی ایرانی بارڈر کے قرب وجوار سے ہونے والی افراتفری سے نسبتا وہ مامون بھی ہوگیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ضرورت اور مجبوری دو ایسے امر ہیں کہ جس میں بڑے سے بڑا طاقتور اور سپر پاور بھی مفلوج اور بے آسرا نظر آنے لگتا ہے، امریکی ڈرون حملے نے “لمحوں کی خطا” تو کر ڈالی جس کا اسے احساس ہونا شروع بھی ہوگیا ہے اور اس کا واضح ثبوت امریکی حکام اور پینٹاگون کی چھپالکی اور تذبذب ہے، امریکی حکام ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں جبکہ پینٹاگون کمال احتیاط برت رہا ہے کہ اسے بخوبی اندازہ ہے کہ اس کا نتیجہ “صدیوں کی سزا” پر منتج ہوگا کیونکہ ایک تو امن مذکرات کا چار فریقی اجلاس کا امریکا نے جو ڈول ڈالا تھا اب اس کی توقع رکھنا کار عبث ہی نہیں بلکہ جنون متصور ہوگا۔ دوسرا یہ کہ ملا عمر کی وفات کے بعد افغان طالبان بمشکل ملا منصور کے جھنڈے تلے جمع ہوکر صف آرا ہوئے تھے اور انہوں نے ملا منصور کی قیادت میں سب سے پہلی کارروائی “داعشی فتنہ” کے خلاف کیا تھا جو نا صرف اب تک تسلسل سے جاری ہے بلکہ اس میں بڑی حد تک افغان طالبان کامیابی سے ہمکنار ہوکر کئی مقبوضہ علاقے داعشیوں سے واگزار کروانے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، ملا منصور پر بے موقع حملہ سے افغان طالبان میں دوبارہ دراڑ پیدا ہونے کے سبب داعش کو دوبارہ کھل کھیلنے کا موقع میسر آئے گا اور افغان طالبان کے مخصوص جتھوں کی پوری فوکس انتقام پر مرکوز ہوکر رہ جائے گی جس کی بنا پر افغان حکام اور امریکی وقفہ وقفہ سے نشانہ بنتے رہیں گے اور یہ صورتحال اس وقت بڑی دلچسپ موڑ اختیار کرے گی جب ایک طرف طالبانی حملے تو دوسری طرف داعشی درندگی کا افغانستان و امریکا کو سامنا ہوگا۔ بعید نہیں کہ بڑے دشمن سے نمٹنے کی خاطر کچھ سمے طالبان اور داعش نظریات وتصورات میں بعد المشرقین ہونے کے باوجود ہاتھ ملا کر کشتوں کے پشتے لگا دیں۔ تیسرا یہ کہ پاکستان افغان طالبان پر جس انفلوینس کا دعویدار تھا وہ اپنے ہاتھ سے ازخود کھو بیٹھے گا اس لیے کہ ملا منصور پر حملہ پاکستانی حدود و ثغور میں ہوا ہے اور اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کا بڑی شدت سے اصرار ہے کہ یہ حملہ پاکستان و افغانستان دونوں ممالک کی اطلاع اور رضامندی سے عمل میں آیا، قطع نظر امریکی دعوی کی سچائی کے، یہ وہی امریکی چال ہے جو ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکا نے چلا تھا جس کی صفائی کے لیے بالآخر پاکستانی آفیشلز کو “ان کیمرہ بریفنگ” کا اہتمام کرنا پڑا۔ مذکورہ امریکی اصرار سے طالبان حلقوں میں پاکستان کے لیے غلط فہمیوں کے ساتھ ساتھ نفرت بھی پیدا ہوگی جو کسی طور بھی پاکستان کے لیے سود مند نہیں اور اس کے مضر اثرات کا پڑنا بھی بعید از قیاس نہیں، پھر اسی کارن کوئی علی حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر اغواء کے بعد بخیر وعافیت لوٹ بھی نہیں سکے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور افغانستان کس طرح اس تمام معاملات کو ہینڈل کریں گے اور پاکستان کیسے اپنا دامن بچانے میں کامیاب ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments