ملا اختر منصور کی ہلاکت


editامریکہ اور افغانستان نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کے رہنما ملا اختر منصور بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب ایک ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہناہے کہ ہمیں یہ خبر میڈیا کے ذریعے پتہ چلی ہے اور اس کی تصدیق کرنے اور تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں پاکستانی انٹیلی جنس کے ذرائع نے سرحدی علاقے سے ایک تباہ شدہ کار میں سے دو جھلسی ہوئی لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ ان میں سے صرف ڈرائیور کی شناخت ہو سکی ہے۔ دوسری لاش کو شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ملا اختر منصور نے گزشتہ سال جولائی میں ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد طالبان کی قیادت سنبھالی تھی تاہم طالبان میں قیادت کے سوال پر اختلاف موجود تھا۔ البتہ گزشتہ چند ماہ میں طالبان کے حملوں میں شدت پیدا کرکے ملا اختر منصور خود کو کسی حد تک طالبان کا متفقہ امیر تسلیم کروانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اسی کوشش میں انہوں نے مذاکرات کا راستہ ترک کرکے جنگ اور دہشت گردی کو متبادل ہتھکنڈے کے طور پر اختیار کیا۔ گزشتہ برس ملا عمر کی موت کی خبر اچانک منظر عام پر آنے سے پہلے ملا منصور ہی امن مذاکرات کے سلسلہ میں پیش رفت کررہے تھے۔ اس حوالے سے مری میں طالبان نمائیندوں کے ساتھ بات چیت کا ایک سیشن بھی ہؤا تھا۔ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ منعقد ہونے سے پہلے افغان انٹیلی جنس نے ملا عمر کی موت کی خبر فراہم کردی تھی۔ ملا عمر دو برس قبل انتقال کر گئے تھے لیکن اس خبر کو خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو کامیاب بنوایا جا سکے۔ ملا عمر کی موت کی اطلاع عام ہونے کے بعد طالبان میں شامل مختلف گروہوں پر کسی ایک شخص کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔ ملا عمر کے بھائی اور بیٹے نے ملا اختر منصور کی قیادت کو یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا تھا کہ طالبان شوریٰ سے اس کی منظوری نہیں لی گئی۔ البتہ ملا اختر نے افغانستان میں امن کے حوالے سے مفاہمت کی بجائے جارحیت کا رویہ اختیار کرکے مخالفین پر کسی حد تک قابو پا لیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے میانمار کے دورے کے دوران اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملا اختر منصور امن کے لئے خطرہ بن چکا تھا ۔ وہ دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرنے میں ملوث تھا اور اتحادی افواج کے لئے مسلسل خطرہ بنا ہؤا تھا۔ جان کیری نے بتایا کہ یہ ڈرون حملہ صدر باراک اوباما کے حکم پر کیا گیا تھا اور انہوں نے فون پر وزیر اعظم نواز شریف کو اس بارے میں اطلاع دے دی تھی۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ اطلاع حملے سے پہلے دی گئی تھی یا بعد میں فون کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان کی وزارت خارجہ اور دیگر حکام کی طرف سے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کئی طرح کے شبہات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں یہ خبر بھی نشر ہو رہی ہے کہ جس گاڑی پر حملہ ہؤا وہ ایران سے بلوچستان میں داخل ہوئی تھی۔ اس لئے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اگر اس گاڑی میں ملا اختر منصور موجود تھا تو وہ ایران سے کیسے پاکستان میں داخل ہؤا۔

ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان میں ایک بار پھر وراثت کا جھگڑا ہونے کا اندیشہ ہے۔ تاہم امریکی حکام کو امید ہوگی کہ ایک سال کی مدت میں دوسرے امیر سے محروم ہونے کے بعد طالبان میں انتشار پیدا ہوگا اور اس طرح انہیں شکست دینا یا مذاکرات کی میز پر لانا آسان ہو جائے گا۔ اس وقت ملا عمر کا بیٹا ملا یعقوب اور بھائی ملا منان طالبان کی قیادت کے امید وار ہیں۔ تاہم حقانی نیٹ ورک کا سربراہ سراج الدین حقانی ، ملا منصور کا نائب اور آپریشنل کمانڈر ہے۔ وہ بھی طالبان کی قیادت کا طاقت ور امید وار ہوگا۔

امریکہ اور افغانستان حقانی نیٹ ورک کو پاکستانی انٹیلی جنس کا پروردہ قرار دیتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے 12 مئی کو پاکستان کے بارے میں ایک سخت اداریہ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے ذریعے طالبان قیادت میں گھسنے کی کوشش کررہا ہے۔ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد اگر سراج الدین حقانی طالبان کا لیڈر بن جاتا ہے تو اس اندیشے کی تصدیق ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ طالبان کے بعض گروہوں کی طرف سے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستان کے کردار کے بارے میں شبہات بھی جنم لیں گے۔ تاہم اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ نئی صورتحال میں کیا پاکستان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا یا ایک اور لیڈر کھودینے کے بعد طالبان کی طرف سے زیادہ شدت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali