جلاوطن تاجدارِ دہلی کے آخری ایّام


NASIR-SHABBIR-PIC آج سے تقریباً 159 برس قبل 11 مئی 1857 کی صبح 8 بجے تیموری خاندان کے آخری چراغ، تاجدارِ دہلی، ابو مظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر حسبِ معمول بیدار ہوئے تو غیر متوقع طور پر ان کو انقلابیوں کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کی خبر ملی اور ظلِ سبحانی کو بتایا گیا کہ انگریزی فوج کے سوار اور پیدل ملازموں نے ضلع میرٹھ کے حکام کی حکم عدولی کرتے ہوئے وہاں کے افسران کو قتل کر دیا ہے اور دہلی پہنچ کر لال قلعے کے پاس جوق در جوق زیرِ جھروکہ جمع ہوگئےہیں۔

بادشاہ نے فوراً سیف الدولہ کو حکم دیا کہ قلعے دارکپتان ڈگلس کو مطلع کرو۔ قلعے دار وہاں آیا اور اس نے زیرِ جھروکہ ہجوم کو مخاطب کر کے کہا کہ بادشاہ کو تکلیف مت دو، یہاں سے کہیں اور چلے جاؤ۔ باغی سپاہی راج گھاٹ کی طرف چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد خبر آئی کہ قلعے دار ڈگلس اور دوسرے تمام مرد و عورتوں کو قتل کر دیاگیا۔ ان کے مکانات لوٹ لیے گئے۔ پورے شہر میں قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دوپہر تک لوگوں نے گروہ در گروہ آکر دربار میں بادشاہ کو فریادیں کیں کہ بادشاہ اپنے فرزندوں کو شہر کے انتظام پر مقرر کریں کیونکہ انگریزوں کے ساتھ ساتھ عام ہندوستانی کو بھی گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے۔ بعد کے تمام واقعات بتاتے ہیں کہ جنگِ آزادی 1857ء کی ناکامی میں قلعہ ْمعلاّ کی سیاست، اندرونی نفاق اور عسکری بدنظمی نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔

بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں لال قلعے کی زندگی میں تمام تر فرصتوں اور عیش سامانیوں کےساتھ ساتھ تیموری خاندان کے آخری تاج دار ابو ظفر کو معمولات کی وضعbahadur داریوں کو نبھانے کے زیادہ مواقع میسر آگئے تھے۔ انہیں بابر سے لے کر اورنگ زیب عالمگیر کی طرح جنگی مہموں کا سامنا نہیں رہا۔ فن شہسواری اور شمشیر زنی سے ناآشنا مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر مرغ بازی، بٹیر بازی اور کبوتر بازی کے شوقین تھے چنانچہ کئی مرتبہ ظل ِ سبحانی کے قلعے میں امراء و روساء کے علاوہ اراکین ِ سلطنت بھی اس شغل سے مستفید ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بہادر شاہ ظفر کی طبیعت میں مروّت اور رواداری حد سے زیادہ تھی۔ اس لیے وہ معاملہ فہمی سے کام نہیں لے پاتے تھے اور اکثر جذبات کے تابع رہتے تھے۔ کبھی میرزا اسداللہ خاں غالب پرقمار بازی کے جُرم میں عدالت فوجداری مقدمہ کے تحت مرزاصاحب کو 6 مہینہ کی قید بامشقت اور 200 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی اور کہیں حکمِ شاہی ہوا کہ قلعہ کے زیر جھروکہ کھیتوں میں بینگن، کھیرا، ککڑی وغیرہ چوری کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے بعد ازاں بینگن و کھیرا چوروں کو معاف کردیا گیا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اپنی آرام پسند شخصیت و مزاج کے برعکس بہادر شاہ ظفر نے حالات میں دباؤ کے تحت انقلاب کے نام پر اس منتشر تحریک میں حصہ لیا تھا انہیں اُمید تھی کہ اس طرح اُن کی کھوئی ہوئی سلطنت، دولت، جاہ و حشم سب واپس مل جائے گی۔ لیکن بغاوت کے آخری دنوں میں انگریزوں کی فتح سے قبل ہی تحریک تقریباً دم توڑ چکی تھی۔ خزانے میں روپیہ ختم ہو چکا تھا، سپاہی تحریک کے مقاصد چھوڑ کر اپنی اپنی تنخواہوں کی فکر میں لگے ہوئے تھے۔ ستمبر کے شروع میں ہی زوال کے آثار واضح ہوچکے تھے۔ 21ستمبر 1857ء کو میجر ہڈسن نے ہمایوں کے مقبرے سے تاجدارِ دہلی، ابو ظفر کو حراست میں لے لیا اور بعد ازاں دیگر شاہی افراد کے ساتھ رنگون جلاوطن کر دیے گئے۔

بہادر شاہ ظفر اپنے قافلے کے ساتھ 9 دسمبر 1858 کو رنگون پہنچے۔ 13 دسمبر کو پیگو کے کمشنر میجر اے پی فائل نے حکومت ہند کے سیکرٹری جی این ایڈمنٹن کو ایک مراسلہ لکھا کہ:

“میں جناب کو آپ کے خط نمبر 4546 مورخہ 12 نومبر 1858 کی وصول یابی کی اطلاع دیتے ہوئے جواباً عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایم ایچ جے میگوئرا 4 شاہی قیدیوں اور ان کے 11 مرد و وزن ملازمین کو (جیساکہ جناب کی منسلکہ فہرست میں درج ہے ) لے کر 9 دسمبر 1858 کو رنگون پہنچ گیا۔”

سیاسی قیدیوں کو عارضی طور پر مین گارڈ کے احاطہ میں ٹھہرایا گیا۔ کچھ لوگوں کے لیے خیمے لگا کر چاروں طرف پردے کے لیے قناتیں لگا دی گئیں۔ بعد ازاں 29 اپریل 1859 کو ان کو نئی قیام گاہ منتقل کر دیا گیا۔ یہ مربع شکل کا احاطہ 100×100 فٹ تھا جس کے چاروں طرف 10 فٹ اونچی احاطے کی دیوار کھینچی گئی تھی۔ اس میں 4 کمرے بنائے گئے تھے جن میں بہادر شاہ ظفر، نواب زینت محل بیگم، جواں بخت اور اس کی بیوی، شاہ عباس مع والدہ مبارک النساء بیگم کو رکھا گیا تھا۔ ہر کمرے سے ملحق ایک غسل خانہ تھا۔ نوکروں کے قیام کا انتظام مکان کے برآمدوں میں کیا گیا تھا۔

نیلسن ڈیوس سلسلہ تیموری کے ان شاہی قیدیوں کا انچارج تھا وہ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ شروع میں شاہی قیدیوں کے رنگون میں جلاوطنی پر رنگون میں مقیم ہندوستانی تاجروں میں معمولی تشویش پیدا ہوئی جو بعد ازاں جلد ہی رفع ہوگئی۔ شاہی قیدیوں کی خوراک کا یومیہ خرچ ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ شاہی قیدیوں کو ٹوائلٹ وغیرہ کے لیے ہر اتوار کو 1 روپیہ اور ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو 2 روپے مزید ملتے ہیں۔ قیدیوں کو قلم، دوات اور کاغذ رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ سودا سلف کے لیے ایک ہندوستانی بولنے والا برما کا باشندہ مقررکیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سقّہ، دھوبی اور مہتر ملازمین رکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹر ولسن (سول سرجن) کے مطابق معزول بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی صحت کچھ ماہ بعد اب بہت بہتر ہے۔ دانت گر گئے ہیں جس سے الفاظ کی ادائیگی میں دقّت ہوتی ہے۔

نیلسن ڈیوس لکھتا ہے کہ ایک موقع پر زینت محل بیگم کو شکایت تھی کہ ان کا 20 لاکھ پونڈ کی مالیت کا اسباب گورنمنٹ نے ناجائز طور پر اپنے قبضے میں کرلیا۔ حالانکہ اس مال واسباب کابادشاہ یا لال قلعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے جواب میں ڈیوس نے یہ بات ان کے ذہن نشین کرادی کہ بادشاہ کی بیگم ہونے کے ناتے گورنمنٹ کو ان کا خزانہ ضبط کر لینے کا حق تھا جو اس نے کیا۔ دونوں شہزادوں مرزا جواں بخت اور شاہ عباس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہی قیدیوں کے انچارج نیلسن ڈیوس لکھتا ہے کہ جواں بخت اپنے بھائی کے مقابلے میں خاندانی جھکاؤ کی وجہ سےکچھ برتر دکھائی دیتا ہے۔ دونوں شہزادے کم علم ہیں، انہیں اپنے آبائی وطن کا حدودِ اربعہ تک معلوم نہیں۔ دونوں شہزادوں کو انگریزی سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ہندوستان سے جلاوطنی کے دوران شہزادوں کی خواہش تھی کہ انہیں انگلستان بھیج دیا جائے۔ 1 جولائی 1861ء کو ڈیوس نے گورنر جنرل کے نام خط میں لکھا کہ پچھلے 6 ماہ سے سوائے ابو ظفر کے تمام سیاسی قیدیوں کی حالت اچھی ہے۔ سول سرجن کی رائے کے مطابق ابو ظفر کی زندگی اب غیر یقینی سی ہو چلی ہے۔ بادشاہ کی بیگم زینت محل خوب تنو مند ہیں، زمانی بیگم کے ہاں ایک اور بچے کی پیدائش متوقع ہے، جواں بخت اور شاہ عباس بھی مزے میں ہیں۔

bahadur3ہندوستان سے رنگون جلاوطن ہوئے سلطنت ہندوستان کے مغلیہ خاندان کو ابھی 4 برس سے زائد عرصہ ہوا تھا کہ آفتاب نے 331 برس تک سلطنت ِہندوستان پرشان وشوکت سے حکمرانی کرنے والے تیموری خاندان کے تاجدار کو آخری مرتبہ دیکھا۔ مورخ لکھتا ہے کہ تیموری خاندان کا یہ آخری ٹمٹماتا چراغ 7 نومبر 1862ء کو اپنی ضعیف العمری کے ساتھ جلاوطن ہوکر ہزاروں میل دور رنگون میں بجھ گیا۔ شہنشاہ ْ ہند کے ساتھ کئی اور افراد بھی رنگون میں جلاوطن ہوئے تھے۔ بعد از موت ابومظفر کی بیوی زینت محل بیگم کو 16 جون 1866ء کو صرف رنگون میں رہنے کی شرط پر رہا کر دیا گیا اور سرکار کی طرف سے 250 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا لیکن زینت بیگم برما میں مہنگائی کی وجہ سے مطمئن نہ تھیں۔ کئی بار پنشن بڑھانے کے گورنر جنرل کے نام عرضیاں اور سفارشی خط لکھوائے گئے چنانچہ عمر کے آخری حصے میں عرضی منظور ہوئی اور 500 روپے ماہانہ پنشن ملنے لگی۔ زینت محل بیگم کو جلاوطنی کے دوران ہی 24 گھنٹے دس گرین افیون کھانے کی عادت پڑ چکی تھی لہذا بڑھاپے اور درد قولنج کے شدید حملے کے باعث 17 جولائی 1886 کو علی الصبح اس دارِ جہاں فانی کو کوچ کر گئیں۔ اسی طرح شہزادہ جواں بخت بھی پنشن بڑھانے اور قرض اتارنے کی عرضیاں گورنر جنرل کو بھیجتا رہا کچھ منظور بھی ہوئیں۔ وقت گذرتا رہا شہزادہ کی طبعیت خراب رہنے لگی۔ جگر اور یرقان کے عوارض نے جلاوطن شہزادے کو مزید بیمار کر دیا چنانچہ 19ستمبر 1884ء کی رات خون کی الٹیاں ہوئیں اور اسی تشویش ناک حالت ہی میں دم توڑ دیا۔ ابو مظفر کے دوسرے بیٹے شاہ عباس کی رہائی 15مارچ 1864ء کو عمل میں آئی تھی۔ شہزادہ شاہ عباس نے برما کے ایک مسلمان تاجر محمد طائر کی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔ اس کے بعد شاہ عباس کا کیاہوا؟ تاریخ کے اوراق شہزادے کی اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں خاموش ہیں۔ شہنشاہ ِ ہند ابومظفر بہادر شاہ کے ایک بیٹے مرزا کوچک سلطان کو 26اپریل 1865ء میں بغاوت کے جرم میں عمرقید کی سزا سنا کر رنگون روانہ کر دیا گیا تھا لیکن رنگون میں دوسروں کے برعکس انہیں نظربندی کی پابندی سے آزاد رکھا گیا تھا۔ فروری 1883ء میں اپنے مکان بنوانے کے لیے گورنرجنرل سے لی گئی رقم کی قسطیں اتارتے ہوئے تیموری خاندان کا آخری شہزادہ، مرزا کوچک سلطان 20 فروری 1884 کو اپنی جاں جانِ آفرین کے سپر دکرکے گمنامی کی اندھیری قبر میں ابدی نیند سوگیا۔


Comments

FB Login Required - comments