پشاور میں شبِ برات


muhammad-adil2

برِصغیر پاک و ہند کی ثقافتی رنگینیاں پوری دنیا کے لئے اپنی مثال آپ ہیں۔ مذہبی تہواروں کو منانے میں تو خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے یہاں آباد ہندوؤں کے تہواروں (ہولی، دیوالی وغیرہ) کے خوبصورت انداز انتہائی دلکش رہے ہیں۔ بعد میں مسلمانوں کی آمد اور یہاں کے لوگوں کے دائرہِ اسلام میں شامل ہونے کے بعد اسلامی تہوار بھی رائج ہوئے، لیکن یہاں منائے جانے والے اسلامی تہوار عرب (جہاں سے ان کی آمد ہوئ) سے قدرے مختلف دیسی انداز میں ڈھل گئے، اس لئے یہاں کے لوگوں نے انہیں ناصرف باآسانی اپنا لیا بلکہ ان کی اپنی ایک پہچان بھی بن گئ۔ باقی رہے عرب تو ان کے ہاں اب ان تہواروں کی جیسے کوئی اہمیت نہیں رہی۔

پشاور کی ثقافت کی ایک خصوصیت مختلف قسم کے مذہبی تہواروں کی رونق سے لبریز ہونا ہے۔ عید الفطر، ہو یا عید الاضحیٰ، بارہ ربیع الاول ہو یا عاشورہِ محرم۔ اہلِ تشیع اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر یہ تہوار مناتے ہیں۔ مذہبی رواداری کا یہ عالم بھی اس شہر کے باسیوں نے دیکھا کہ محرم کے دس دنوں میں ایک جلوس بالمیکی ہندو بھی بنظرِ امام حسین و شہداءِ کربلا بپا کرتے تھے۔ صلح و آشتی، اتفاق و اتحاد اور یکجہتی سے بھرپور اہلِ پشاور کا مزاج اپنی مثال آپ تھا اور ہے۔ یہ تو آمرِ اعظم کے دور کا تحفہ ہے کہ آج ایک شہر تو کیا پورا ملک فرقوں میں بٹا ہوا ہے۔

دیگر تہواروں کی طرح شعبان المعظم کی پندرہویں رات (یعنی چودہ اور پندرہ کی درمیانی شب) شبِ براٰت منائی جاتی ہے۔ اس شبِ احتساب کے بارے میں روایات یہی ہیں کہ اس شب لوگوں کے اعمال ناموں کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ رزق سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں۔ کسی کا رزق سال بھر کے لئے بڑھا دیا گیا یعنی زندگی؛ کسی کا گھٹا دیا گیا تو اِس دنیا سے اس کا انخلا لازم ہوجاتا ہے۔ مالکِ ملک وارض و سماوات آسمانِ دنیا پہ کرسی جما لیتے ہیں۔ کوئی مانگنے والا ہو تو جھولی بھروا ہی لیتا ہے۔

پشوری اس شب کے لئے خاص انتظام و انصرام کرتے ہیں۔ ایک طرف دینی جوش و جذبات، آخرت کی فکر، اللہ سے خطاؤں کی معافی کا معاملہ۔ اِس شب خصوصی نوافل ادا کئے جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک کی تلاوت اور دیگردعاؤں وغیرہ کی قرآت بھی رائج ہے۔

دوسری طرف حقوق العباد کی فکر۔ اپنے جان پہچان والوں سے خاص طور پر ملاقات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گزرے سال میں اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو جس کی وجہ سے کسی کا دل دکھا ہو تو اس سلسلے میں خاص طور پہ معافی طلب کی جاتی ہے۔ مغرب کی نماز ادا ہوتے ہی جوان بچے اور نئے شادی شدہ جوڑے اپنے بزرگوں سے ملاقات کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں جوان بچے، بہویں حتیٰ کے داماد والدین اور ساس سسر یا خاندان کے دوسرے بزرگوں کے پیروں کو چھو کر معافی طلب کرتے ہیں، بزرگ انہیں گلے لگا کر دعائیں دیتے ہیں۔

معلوم نہیں کیوں لیکن اس شب خاص طور پہ پراٹھوں اور مسور کی دال کے ساتھ حلوہ پکایا جاتا ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد گھر کے تمام چھوٹے بڑے دسترخوان پہ اکٹھے ہوجاتے ہیں، جہاں خاندان کا کوئی بزرگ ایک پلیٹ دال، ایک یا دو پراٹھوں، کچھ موسمی فروٹ، ایک گلاس پانی اور ایک گلاس دودھ پر فاتحہ خوانی کرتا ہے۔ پورے خاندان، شہر، ملک اور عالمِ اسلام کے حق میں دعا کی جاتی ہے۔ مسجد کا حصہ تو لازمی ہے لیکن حسبِ حیثیت تھوڑا تھوڑا کھانا قریبی ہمسایوں کے گھر بھی بھیجا جاتا ہے۔

ایک اور خوبصورت رسم جو شبِ براٰت کے ساتھ جڑی ہے وہ ہے دِنڑ تہوار۔ یعنی کہ وہ خاندان جن کے بچوں کی منگنی یا نکاح ہوا ہو لیکن ابھی رخصتی نا انجام پائی ہو تو لڑکے والے کچھ مٹھائی، فروٹ، قتلمے (پوریوں کی ایک قسم)، حلوہ اور لڑکی کا سوٹ تحفے میں بھیجتے ہیں۔ لڑکی والے کھانے پینے کی اشیا کے بخرے (حصے) کرکے قریبی رشتہ داروں میں بانٹتے ہیں تاکہ ان پر یہ دھاک بیٹھی رہے کہ ان کی لڑکی کی رخصتی سے قبل ہی سسرال والوں میں بہت قدر ہے۔ اسی طرح جن کی شادی شدہ بیٹیاں ہوں وہ والدین بھی تقریبآ اسی قسم کے تحائف اور ساتھ داماد کا سوٹ شادی شدہ بیٹی کا حق سمجھ کر بھیجتے ہیں اور لڑکے والے اسے اپنی عزت افزائی سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شبِ برات کا ذکر ہو اور آتش بازی کی بات نا کی جائے۔ آتش بازی کے سامان بنانے پر اب ویسے تو پابندی عائد ہے لیکن ایک وقت تھا کہ کئی لوگ خاص طور پہ مغل اور تاجک قبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد یہ سامان بناتے تھے۔ پشاور کے علاقہ یکہ توت سے ملحقہ کچھ محلوں اور پیپل منڈی میں یہ سامان بنایا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ اِس میں پٹاخے، پھلجڑیاں، فوارے، گلنار، ریٹھے وغیرہ شامل ہیں۔ بچے والدین کے ساتھ لفافے بھر بھر یہ سامان خرید کر لاتے اور ان پٹاخوں کو پھوڑ کر خوش ہوتے ہیں۔ رات گئے اکثر لوگ بچوں سمیت گھروں کی چھتوں پہ روشنیاں گل کرکے آتش بازی کرتے ہیں۔ اس وقت شہر کی گلیاں مختلف قسم کی آتش بازی کے دھماکوں سے گونج رہی ہوتی ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ آتش بازی اچھی چیز ہے یا بری یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس رسمِ آتش بازی کا تعلق کسی طور اسلام سے نہیں، بظاہر یہ رسم ہندوؤں کی دیوالی سے متاثر ہی لگتی ہے۔

گزرے چند سالوں میں جہاں دہشت گردی اور دیگر معاشرتی و معاشی مسائل نے لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے وہاں ان تہواروں کو بھی جیسے نظر سی لگ گئی ہے۔ شام ہوتے ہی لوگوں کا ایک دوسرے کے گھر جانا اب متروک سا ہوتا جارہا ہے، اس کی بجائے ایک فون بلکہ ایک ایس ایم ایس کے ذریعے پہلے سے ڈرافٹڈ “معافی نامہ” فارورڈ کرکے رشتہ داریاں نبھائی جاتی ہیں۔ پشاورہو یا کوئی بھی دوسرا شہر، ان کی ہواؤں کی تازگی ان کی مٹی کی خوشبو سے ہے، ان کی زندگی ان کی ثقافت سے ہے۔ فی زمانہ رائج ہونے والی تبدیلیاں ٹیکنالوجیکل ہوں تو کیا ہی بات ہے کہ ان سے زندگیوں میں آسانی پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن تبدیلیوں کے اس دور میں گزشتہ سے پیوستہ خوبصورت رسم و رواج کا زندہ رہنا بھی اشد ضروری ہے کہ ثقافتوں کے یہ رنگ زندگی کی کثافتوں کو دور کرنے میں بہت ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments