میٹرو بس سے اورنج ٹرین تک! ایک بحثِ لاحاصل


فیاض ظفر

fayyaz1تقریباً ہر دوسرے روز لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبے کسی نا کسی اچھی انگریزی لکھنے والے قلم کی نشتر زنی کا سامنا کرتے ہیں۔ کبھی کوئی ماحول دوست اور کبھی پبلک پالیسی کا کوئی نقاد، کبھی سول سوسائٹی کا کوئی نمائندہ اور کبھی این جی اوز سے وابستہ نابغہ، ہر کوئی لاہور میں اُگتے کنکریٹ کے جنگل پر متوحش نظر آتا ہے۔ سیمنٹ اور سریے کی بھرمار، صاف ہوا کی فراہمی، سایہ دار درختوں کی کٹائی، سگنل فری روڈز پر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے کی بے چارگی، ساتھ ہی ساتھ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کمی اور ایسے ہی دیگر انسانی پہلوؤں پر بڑی پُرمغز تنقید پڑھنے کو ملتی ہے۔ لیکن اس سب میں کچھ پہلؤ ابھی بھی تشنہ ہیں۔ میرے آج کے اس مضمون کا مقصد ایک شہری کی حیثیت سے اُنہی تشنہ پہلوؤں کی نشان دہی ہے۔ تاہم یہ نشان دہی سوالات کی شکل میں ہے اور یہ سوال اُن دوستوں سے ہیں کہ جنکے تنقیدی مضامین نہ چاہتے ہوئے بھی ہر اگلے روز پڑھنا پڑتے ہیں کیونکہ قومی اخبارات کے ادارتی صفحات سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔

اگر ہم لاہور کے ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی تنقید کا جائزہ لیں تو تاثر یہ ہے کہ جیسے ستائیس کلومیٹر کی ایک میٹرو بس اور اب ستائیس ہی کلو میٹر کی اورنج ٹرین نے شہر کے ماحولیاتی توازن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جیل روڈ کی ساڑھے سات کلومیٹر سگنل فری روڈ بھی اس میں شامل کریں تو یہ بمشکل باسٹھ کلو میٹر بنتے ہیں۔ لاہور کا کل رقبہ چار سو چار مربع کلو میٹر ہے۔ ایک طرف لاہور کا اتنا وسیع و عریض رقبہ کہ جس کی ہریالی اور ماحول دوستی کے قصے زبان زدِ عام ہیں اور دوسری طرف باسٹھ کلومیٹر۔ یا تو یہ بات درست نہیں کہ لاہور ماحول دوست تھا یا یہ بات درست نہیں کہ صرف باسٹھ کلومیٹر کی تین سڑکیں جن کی چوڑائی تین سو میٹر سے زیادہ نہیں ماحولیاتی توازن کے بگاڑ کی واحد یا پھر بنیادی وجہ ہے۔

busاورنج لائن کے نوحے کا ایک بڑا حصہ لوگوں کی زبردستی نقل مکانی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کے اردگرد گھومتا ہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ بار بار عدالت سے رجوع کرنے کے باوجود چوبرجی کے آس پاس جس جس جگہ پہلی بار کھُدائی ہوئی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی زمین سے نکلے ستون عین اُسی جگہ پیوست ہیں۔ یا تو حکومت نے عدالت کے فیصلوں کا مذاق بنایا ہے اور اگر ایسا ہے تو دوبارہ عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ یا پھر جو لوگ اس کے خلاف عدالتوں میں گئے اُنہوں نے شہریوں کا وقت ضائع کیا۔ جتنے دن اُس علاقے میں اور دیگر جگہوں پر کام بند رہا، رہائشیوں کو اُن اضافی دنوں جو عذاب بھگتنا پڑا اُس کا ذمہ دار کون ہے؟ ایسا ہی کچھ صدیق ٹریڈ سینٹر کے سامنے والے انڈر پاس کو لے کر بھی ہوا۔ کئی مہینے کام بند رہا۔ کروڑوں روپوں کے نقصان کے علاوہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں شہری ذلیل ہوتے رہے۔ کسی نے بعد میں لوگوں سے معذرت تک نہیں کی۔ آج وہ انڈر پاس پوری شان و شوکت سے موجود ہے۔ عدالت سے سٹے لینے والے، انگریزی اخبارات میں مضمون لکھنے والے اور پریس کانفرنسز کے ذریعے میڈیا پر مشہوری کروانے والے، سبھی کو کچھ نا کچھ حاصل ہوا۔ مگر وہ عوام جو اس قضیئے میں مہینوں ذلیل ہوئی اُس سے معذرت کے دو بول تک نہیں بولے کسی نے؟ یہ کس قسم کی تنقید ہے یہ کس قسم کی سول سوسائٹی ہے؟ یہ کس قسم کی سیاست ہے جس سے ایک فریق کو شہرت ملی اور دوسرے کو کامیابی (میری مُراد حکمران جماعت سے ہے) مگر عوام کو جو اضافی ذلت مہینوں برداشت کرنا پڑی اُس کا کیا؟

bus2جین مندر کے سامنے کی قدیم آبادی اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وہاں سے گُزرتے جب مجھے اُن چونے کی دیواروں اور پُرانی اینٹوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو اندازہ ہوا کہ ایک تاریخ تمام اور اگلی کا آغاز ہوا۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہن میں چُبھنے لگا کہ جن لوگوں نے اس آبادی کے مکینوں کے لئے میڈیا پر ایک پوری تحریک چلائی۔ ان میں سے کتنے ہیں کہ جو یہاں رہ سکتے تھے؟ یا کبھی رہتے رہے تھے؟ ان میں سے کتنے ہیں جو صرف اپنے مضمون کی کمپوزنگ کا دورانیہ اس مُحلے میں گُزار سکتے ہیں؟ گُزار چُکے ہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ یقیناً چالیس پچاس سال پہلے انہی علاقوں کے مکین تھے اور بعد میں ڈیفنس اور دیگر پوش آبادیوں کی جانب منتقل ہو گئے۔ مگر کیا یہ بات درست نہیں کہ چالیس سال پہلے تو یہ ڈیفنس اور دیگر پوش آبادیاں تھی ہی نہیں۔ اور کیا یہ بات بھی درست نہیں کہ ان لوگوں کو جب وسائل میسر آئے تو پہلی ترجیح ان سب کی تاریخ اور ثقافت کے اس مرکز سے دوڑ لگانے کی تھی۔۔۔ تو پھر آج یہاں نہ رہنے مگر یہاں کے لوگوں کا نوحہ اس انداز سے پڑھنے کا کیا مطلب کہ جیسے قیامت آ گئی؟ بھئی جن علاقوں میں آپ یا تو کبھی رہے نہیں اور اگر رہے بھی تو موقع ملتے ہیں بھاگنے کی کی۔۔ آج صاف سُتھری آبادیوں میں رہتے ہوئے یہاں کی نمائندگی کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟

کیا یہ بات درست نہیں کہ دُنیا بھر میں جب شہر ترقی کرتے ہیں تو پُرانی آبادیاں، پُرانی قدریں، پُرانے طور طریقے سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ اس عمل کی مزاحمت وہ لوگ کرتے ہیں کہ جو ترقی اور تبدیلی سے اُلٹ سمت کھڑے ہوتے ہیں۔ اور کیا یہ بات بھی درست نہیں کہ ایسے لوگ عموماً پُرانی اقدار کے، عُمر رسیدہ اور جدید تعلیم سے ناآشنا ہوا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو معاملہ بلُکل اُلٹ تھا۔ یہاں تو تنقید کرنے والے اعلی تعلیم یافتہ، لبرل، پروگریسو طبقے کے نمائندہ ہیں۔ میرے لئے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیوں ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنا وقت اپنے خاندان سمیت نقل مکانی پر مجبور کئے جانے والی آبادیوں اور لوگوں میں نہیں گُذارا۔ کیا کوئی اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی جرات کر سکتا ہے؟ کیا کوئی ہے کہ جو ان آبادیوں میں رہائش رکھنا چاہے کہ جو تاریخ اور ثقافت کی علمبردار ہیں؟

treesمیٹرو ٹرین کے خلاف چلی میڈیائی کیمپئین نے ہماری نام نہاد تاریخ اور ثقافت کی نفرت انگیز حقیقت کو بُری طرح ننگا کیا۔ جن بستیوں میں سانس لینا ممکن نہیں تھا نوحہ گروں نے اُن کے بارے کیا کمال نوحہ خوانی کی۔ جس شہر میں ہریالی اور سبزے کے نام پر گوبر، گندگی، فیکٹریوں کے زیہریلے دھوئیں اور دھول کی حکمرانی ہے ہمیں وہاں صرف میٹرو بس اور ٹرین ہی ہر بُرائی کی وجہ نظر آتی ہے۔ میٹرو ٹرین ایک شاندار موقع تھا لوگوں میں شعور اور بیداری پیدا کرنے کا، مگر ہمارے پڑھے لکھے سول سوسائٹی کرتا دھرتاوں کا شاید ایسا کوئی ارادہ کبھی تھا ہی نہیں۔ جس طرح میٹرو بس کو جنگلا بس کہنے سے پروجیکٹ کی رفتار اور کامیابی پر کوئی فرق نہیں پڑا اسی طرح اورنج ٹرین کو دی جانے والی دشنام بھی تاریخ کے اوراق میں کوئی جگہ بنانے سے قاصر رہے گی۔ عوام کو جب تک یہ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ ترقی کا مطلب صرف کنکریٹ کا جنگل نہیں، جب تک ورثے اور اس سے وابستہ تہذیب کی آبیاری کی کوئی ادنیٰ روایت بھی موجود نہیں ہو گی ہمارے نصیب میں کنکریٹ زدہ ترقی ہی کی گنجائش باقی رہے گی۔ لہٰذا جو ہے پھر اسی پر قناعت کرنے دیں۔ یا اپنی تنقید میں جوہر شامل کریں۔ اور کچھ نہیں تو اگلا مضمون لاہور ہوٹل کے نیچے رکھے کسی پھٹے پر بیٹھ کر لکھیں تا کہ آپکی سچائی کا کچھ تو مظاہرہ دیکھنے کو ملے۔۔۔ یا کم سے کم اظہارِ یک جہتی!!


Comments

FB Login Required - comments