ماہ رمضان کی آمد مرحبا!


\"osmanرمضان کریم کے مقدس مہینہ کی آمد آمد ہے۔ ۔ ازبسکہ تجار کی اکثریت راسخ العقیدہ مسلمان ہے سارا سال دنیا کے لیے کرتے ہیں پر اس بابرکت مہینہ میں بھی اللّٰہ کے گھر حاضری نصیب نہ ہوسکی اور روضہ رسول ﷺ کا دیدار نہ ہوسکا تو آخرت کیسے سنورے گی۔ \”یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔\” اب وہ اگلے دور کہاں، جہاز کے ٹکٹ بھی مہنگے ہوجائیں گے اور ٹریول ایجنٹس بھی کم حریص نہی ہیں۔ لیکن بھلا ہو رمضان کے چاند کی کشش کا جس کے اثر سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اوپر چڑھ جائٰن گی۔ دین اور دنیا دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا نادر موقع سال میں ایک ہی بار نصیب ہوتا ہے، یوں بھی سجن واہ واہ ، ووں بھی سجن واہ واہ۔ کل کس نے دیکھی ہے جانے اگلا رمضان دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔

بدگمانی نہ کریں آج کے روز ٹماٹر مہنگے ہونے کی وجہ رمضان نہی ہےاس کی وجہ آج شب برآت ہے۔

ٹی وی ایکٹرز و ایکٹرسز نے نعتیں پڑھنے اور دینی موضوعات پر عام فہم دینی گفتگو کی ریہرسل شروع کر دی ہے تاکہ اس بابرکت مہینہ سے اپنی اور اپنے ناظرین کی عاقبت سنوارنے کی مساعی جمیلہ عمل میں لائی جا سکے۔ ٹی وی چینلز کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنس نے ملٹی نیشنل و لوکل کاروباری اداروں کے دینی خدمت کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے اشتہاری منٹس کے نرخوں پر نظرثانی کرکے مطلب دام بڑھا کر بکنگ شروع کر دی ہے۔ لیکن آپ یہ مت سمجھئے کہ یہ سب چینلز والے روپے کے لالچ میں ہیں، خیال یہ دل میں زنہار نہ لائیے گا۔ دین کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے ڈاکٹر عامر لیاقت اور ان ہی جیسے دیگرہینڈسم و جدید نہاد علماء کی بولی لگتی ہے اور آکشن میں چینلز کو بھاری رقوم خرچ کرنا پڑتی ہیں۔ کیوں نہ کریں بھئی اسلامی جمہوریہ ہے اگر کرکٹ کے کھلاڑیوں کی بولی میں بڑی بڑی رقمیں خرچ ہوسکتی ہیں تو یہ تو دین کی خدمت ہے بھئی۔ دین اور دنیا کا توازن ہی مذہب کی روح ہے۔

حفاظ کرام نے تراویح کے لیے دہرائی کی مشق شروع کردی ہے جبکہ آئمہ کرام نے درس کے لیے آنے والے بچوں کو یہ سمجھانا شروع کر دیا ہے کہ مسجد میں مخیر حضرات کی طرف سے ہونے والی افطاری میں بریانی اور قورمہ کی بوٹیاں ہر ایرے غیرے کو نہ ٹھونسا دینا۔ کچھ اپنے لیے رکھ لینا اور بقیہ پار کرکے میرے گھر پہنچا دینا۔ خیر یہ تو ایک جملۃ معترضہ تھا، بتانا یہ مقصود ہے کہ رمضان میں افطاریوں کروانے کے لیے مخیر حضرات کی باریاں مقرر کرنا ایک کٹھن کام ہے کیونکہ ہر ایک صاحب حیثیت اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتا ہے۔

ملازمت پیشہ حضرات اگرچہ کام کے اوقات میں کمی سے خوش ہیں لیکن سحری کے وقت کھا پی کر کمبخت ایسی سخت نیند آتی ہے کہ بیدار ہو کر وقت پر دفتر یا کام کی جگہ حاضر ہونا اتنا ہی مشکل ہے جتنا افطاری ٹھونس کر مغرب کی نماز باجماعت پڑھنے کے لیے مسجد پہنچنا۔

سگریٹ نوش حضرات متردد ہیں کہ اِدھر اس کار بے کار کے لیے روزہ چھوڑنا گناہ ہے تو اُدھر روزہ میں اس منہ لگی حرافہ کو چھوڑنا جان پر کھیلنے سے کم نہی ہے۔ دو دن پہلے میرے نوجوان باس نے میرے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر پینے کی رسمی اجازت طلب کی اور پھر خود ہی کہنے لگا کہ روزوں میں تمباکو کی طلب پر قابو پانے کے لیے روزانہ کا اوسط کم کرکے ایک پر لا چکا ہے۔ جزاک اللہ۔ اب جو وہ اتنی محنت کر چکا تھا اس لئے زبان پر آئے ایک مجدد کا قول رول بیک کرنا پڑا۔ تاہم پبلک کے استفادہ کے لیے پیش خدمت ہے۔ کچھ برس ادھر کی بات ہے ایک دانا جوانمرد کہنے لگا، سہیل صاحب روزہ میں سگریٹ پی لیا کیجیئے کچھ حرج نہی۔ ان کے اجتہاد کی رو سے دھوئیں کے بیشتر اثرات معدہ کے بجائے پھیپھڑوں اور دل پر مرتب ہوتے ہیں لہٰذا تمباکو نوشی سے روزہ نہی ٹوٹتا۔ استفسار پر کہنے لگے کہ وہ خود ایک عرصہ اس اجتہاد پر عمل پیرا رہے تاہم گذشتہ رمضان سے یہ پریکٹس ترک کردی ہے۔ کیوں ترک کر دی ہے اس کی توجیہہ پیش نہیں کی اور موضوع بدل کر کنبہ کا احوال دریافت کرنے لگے۔

ٹھیکہ دار حضرات نے رمضان کی آمد قبل سے گھریلو و دیگر اخراجات جیسا کہ ملازمین کو عید بونس وغیرہ کی ادائیگی کے مد نظر سرکاری و نجی اداروں سے بلوں کی وصولی کے لیے ابھی سے تگ و دو شروع کر دی ہے۔ بلوں کی وصولی کے لیے \’ریٹ\’ نیگوشی ایٹ (گفت و شنید) ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ امسال بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر دوسری طرف ان ریٹس میں اضافہ کی ڈیمانڈ ہے۔ ٹھیکہ دار حضرات کو رمضان کے اواخر میں ایک اور پہاڑ سر کرنا ہے یعنی کام دینے والے سرکاری اداروں میں جھولوں میں رقم بھر کر عیدی کی تقسیم۔ پھر آپ لوگ کہتے ہیں ٹھیکے دار معیاری کام نہیں کرتے۔

ہمارے قائد جو کہ وزیر اعظم کے منصب جلیلہ پر بھی فائز ہیں اپنی صحت کی تصدیق کے لیے رمضان سے قبل لندن تشریف لے جا چکے ہیں۔ رمضان میں ان کی مشقت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس بار ان کو صاحب زادگان کے کاروبار میں دن دگنی و رات چگنی ترقی کے علاوہ قومی ترقی کی وایا رائیونڈ شاہراہ کے بیچوں بیچ لیٹے ہوئے عمران خان کو اٹھانے کی بھی دعائیں کرنا ہیں۔ \”یا اللہ یا عمران کو اٹھالے یا پھر ۔۔۔۔۔۔ یا پھر اِسی کو اٹھالے\”۔

آخر میں قارئین کی توجہ ایک اہم نکتہ کی طرف دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب کی بار بجٹ پر وفاقی وزیر خزانہ و ہمنوا کے بارے نازیبا کلمات نکالتے وقت یہ دھیان میں رہے کہ روزہ کی حالت میں گالی دینے کا گناہ عام دنوں سے زیادہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عثمان سہیل کی دیگر تحریریں
عثمان سہیل کی دیگر تحریریں