میں سوشلسٹ ہوں


Rizwan-Aمیں گزرے کل نہیں آج کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں پاکستانی لبرل یا آزاد خیالوں سے اختلاف کی حدود کا تعین کرنے کی کوشش کروں گا۔

اگر میں بات اختلاف سے شروع کروں اور اختلاف پر ختم تو شاید میں تنگ نظر اور فرقہ باز ہوں گا۔ میں ان کی سرگرمیوں کو محض غیرسرکاری تنظیموں کے ‘پراجیکٹ’ کا حصہ نہیں کہتا، اور  انہیں سامراجی کا بھیجا ایجنٹ قرار دینے کی عمومیت کو غلط سمجھتا ہوں۔

میں بنانا چاہوں گا کہ لبرل افراد، جن میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں، سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ چند ایک کا ذکر کیے دیتا ہوں۔

عورتوں کے حق کی بات کرنا میں بہت پہلے سیکھ لیا تھا لیکن عورت کی آزادی کو دل سے تسلیم کرنا بہت دیر سے سیکھا۔ اس میں لبرل کا خاصا ہاتھ ہے۔ اس ‘مردانہ کمزوری’ کا جانا آساں نہیں۔

میں نے انہیں ان حساس موضوعات پر حق باتیں کرتے سنا جو یہاں شجر ممنوع ہیں۔ یہ ماننے میں تھوڑی دیر لگی کہ ہیر اور رانجھا محبت کرتے ہیں تو انہیں ملنے دیا جائے، یہ ماننے میں بہت دیر کہ ہیر کو ہیر سے اور رانجھا  رانجھا سے ملنے دیا جائے۔

میں نے دیکھا کہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے لبرل سرگرم ہیں۔ یہ اقلیتیں چاہے مذہبی ہوں، جنسی ہوں یا قومیتی۔ میں نے انہیں اس مسلمان اکثریتی ملک میں مندروں، گردواروں اور کلیساؤں میں اظہار یکجہتی کے لیے جاتے دیکھا۔

پاک بھارت جنگ کی مخالفت کرتے اور  دونوں ملکوں کے مابین جنگ کو روکنے کے لیے بے تاب دیکھا۔ میں نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف انہیں آواز اٹھاتے دیکھا۔

میں نے انہیں انفرادی، جمہوری اور شہری حقوق کے لیے سڑکوں پر آتے، گلے پھاڑتے اور لکھتے دیکھا۔

میں نے انہیں آمریت اور اسلامی بنیاد پرستوں کے سچے جھوٹے اور خطروں پر تڑپتے دیکھا۔ میں نے انہیں فرقہ پرستوں کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا۔

انسانی آزادی اور انصاف کا کوئی بھی طالب ان اس جدوجہد سے بھلا منہ موڑ کر دور کیسے کھڑا ہوسکتا ہے۔

لیکن لبرل عموماً بہت سے پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انسانی حق کو زد پہنچانے والی جاگیردانہ اور قبائلی رسوم کے خلاف ان کی آواز فوراً بلند ہوتی ہے (ہونی بھی چاہیے) مگر سرمایہ داری کی پیدا کردہ قباحتوں پر انہیں چپ سی لگ جاتی ہے۔ وہ معاشی انصاف پر مبنی مطالبے کرتے نظر نہیں آتے۔ طاقت ور ملکوں کی معاشی اور سیاسی بدمعاشیوں اور جنگوں پر ان کا متحرک ہوتا کم و بیش ناپید ہے۔ ان کی آنکھیں طالبان اور دولت اسلامیہ کے حملے ہی کیوں دیکھتی ہیں۔ انہیں نیٹو کے بموں سے عام انسانوں کے اڑنے والے چیتھڑے کیوں دکھائی نہیں دیتے۔

انہیں نصاب میں عدم رواداری کی پر اعتراض ہوتا ہے لیکن تعلیم سے وابستہ دیگر مسائل، جن کا تعلق نچلے طبقات سے ہے، سے سروکار نہیں ہوتا، جیسے سرکاری سکولوں کی حالت زار اور اساتذہ کے معاشی مسائل۔

طبقاتی تفریق ان کے مباحث کا حصہ نہیں۔ ہے تو اس سے مفر۔

وہ اسی ریاستی ڈھانچے میں ‘ضروری’ ردوبدل چاہتے ہیں۔ وہ ایک لبرل ریاست کا خواب دیکھتے ہیں جس میں مذہب ریاست سے علیحیدہ ہو، انفرادی آزادیاں ہوں، پارلیمنٹ جیسے ادارے مضبوط ہوں، ہر ادارہ اپنا اپنا کام کرے اور قانون کی بالادستی ہو وغیرہ وغیرہ۔

ایسی ریاستیں موجود ہیں۔ لیکن میں نے ان کی کارروائیاں دیکھیں۔ کل ہی کی بات ہے عراق میں جمہوری، سیکولر اور لبرل ملک امریکا نے اتحادیوں سمیت حملہ کیا، حکومت کا تختہ الٹا۔ اور جب بوریا بستر باندھنے لگا تو لاکھوں عراقیوں کی قبریں بن چکی تھیں۔ ایسا کیوں ہے کہ پوری دنیا کا اسلحہ بنانے کا خرچ ایک طرف اور امریکا کا ایک طرف۔ انہیں کیوں جگہ جگہ ناک گھسیڑنا پسند ہے۔

یہ جنہوں نے اسلحے کے انبار لگا رکھے ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح بیچنا بھی تو ہوتا ہے، اور ان سے مچھلیوں کا نہیں انسانوں کا شکار ہوتا ہے۔

میں دیکھتا ہوں کہ دنیا میں اس قدر گندم، چاول، الغرض اناج ہے کہ سب کا پیٹ بھر جائے۔ اتنا گارا، اینٹیں، مشینیں اور ہاتھ ہیں کہ ہر انسان چھت کے نیچے آرام کرسکے۔ ہر کسی کے لیے دوا بن سکتی ہے، مگر اگر منافع نہ ملے تو کیا فائدہ؟

سرمایہ داری میں انسان نے بہت ترقی کرلی، اب اور کتنی کرنی ہے؟ پہلے اسی ترقی کے ثمرات کو تقسیم کرکے تو دیکھیں۔

مجھے ایک استحصال نظام دکھائی دیتا ہے جس کی حفاظت ریاست کررہی ہے۔ یہ ریاست جب تھیوکریٹک رنگ اختیار کرتی ہے تو بہت ہیبت ناک ہوتا ہے لیکن لبرل رنگ بھی تو خوش کن نہیں۔

یہ ریاست بڑی تگڑی شے ہے۔ اس کے گوداموں میں بہت اسلحہ بارود بھرا ہوتا ہے۔ اس کے پاس لاکھوں خاکی، سبز اور کالی وردی پہنے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ڈنڈا۔ یہ طاقت ور ہے، پھانسی پر چڑھا سکتی۔ یہاں تو مارمار کر جان نکال دیتی ہے لاش کو گلنے سڑنے کے لیے باہر پھینک دیتی ہے۔ میں اسے تھپکی نہیں دینا چاہتا۔۔

مجھے اسٹبشمنٹ سے کہیں زیادہ جمہوریت سرمایے کے زور پر قید نظر آتی ہے۔

ہم میں سے اکثر کام کرتے ہیں لیکن چند ارب پتی ہوجاتے ہیں اور دولت اور جائیداد وراثت میں چلتی جاتی ہے۔ یہ دولت بہت سوں کی محنت سے پیدا ہوتی ہے اور چند ہاتھوں کی ملکیت بن جاتی ہے۔۔

میں چاہتا ہوں سب کو کم محنت کرنا پڑے تاکہ وہ تخیلقی کام کرسکیں، ان کے پاس وقت ہو تاکہ وہ اپنی من مرضی کرسکیں، دل چاہیے تو کسی خوبصوت مقام پر لمبی چھٹیاں گزاریں۔

مجھے چین اور بنگلہ دیش والی ترقی نہیں چاہیے۔ جو ترقی لیبر سستی ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے میں اسے کیسے پسند کرسکتا ہوں۔ اس ترقی کی تعریفیں بڑے لوگ کرتے رہیں، ان کے مطلب کی جو ہوئی۔

یہ ریاست مذہبی بنیاد پرستوں کے حق میں جب زبان تخلیق کرتی ہے میں اسے اختیار نہیں کرتا اور جس وہ اس سے چھڑپیں کرنے لگی ہے میں تب بھی اس کی زبان میں بات نہیں کرتا۔ وہ انہیں ‘مجاہد’ پکارے یا دہشت گرد اور ‘را’ کا ایجنٹ میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔  میں فوجی کارروائی کے لیے ریاست کی ہمت افزائی نہیں کرتا۔ میں اس کی گود میں یا کاندھے پر نہیں بیٹھنا چاہتا۔ میں اپنی زبان اور اپنا راستہ خود تخلیق کرنا چاہتا ہوں۔

میں مذہب کو نہیں نظام کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہوں۔ ہاں جب اس نظام کے خلاف جدوجہد میں ‘مولوی’ حائل ہوگا تو میرا ٹکراؤ ہوگا۔ مذہبی بنیاد پرستی کو سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات نے جنم دیا ہے۔ یہ کسی ‘عالم’ کے خیالات کی پیداوار نہیں۔ اس نے سماجی حقیقتوں سے جنم لیا ہے۔

میں ریاست اور مذہب کی علحیدگی کا حامی ہوں لیکن یہ حمایت اندھی نہیں۔ میں اخوان المسلمین کا تختہ الٹنے کی اس لیے کھلی یا خاموش حمایت نہیں کرسکتا کہ آمر سیکولر ہے۔ کتوں سے کھیلنے والے اور ترک ماڈل کو سراہنے والے آمر میری توقعات میں اضافہ نہیں کرتے۔

میں افغانستان میں آئی نیٹو سے توقع نہیں کرتا کہ طالبان کا خاتمہ کرے گی یا کسی طاقت ور ادارے کو لگام دے گی۔

عام شہریوں کے قتال کے معاملے میں بشار الاسد اور دولت اسلامیہ میں فرق ڈھونڈنا میرے لیے دشوار ہے۔ میں امریکا کے مقابل روس کی بمباری کو خوش آمدید کہنے والوں میں سے نہیں۔ میں امریکا کے مقابل چین کی آمد سے نہال نہیں۔

میں ریاست کے حاکموں پر شک کرتا ہوں۔ یہ چاہے چین کے ہوں، امریکا کے یا روس کے۔

مجھے عسکری اور سیاسی قیادت کے ایک صفحہ پر آنے سے غرض نہیں، میں تمام مظلوموں، استحصال کے شکار لوگوں، آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو ایک صفحہ پر لانا چاہتا ہوں۔ جن کے بغیر کاروبار زندگی چل نہیں پاتا وہی میری طاقت ہیں، انہیں پر میرا یقین ہے۔ چاہے وہ ریلوے کے ڈرائیور ہوں، ہائی سکول کے استاد، جناح ہسپتال کی نرسیں یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کے ینگ ڈاکٹرز۔ انہی کی مشقت پر یہ نظام قائم ہے اور یہی اس کی ٹانگ کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

میں کچھ آگے کے خواب دیکھتا ہوں۔ میں انسان کو ریاست کے ڈھانچوں سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، سرمایے کی غلامی سے آزاد۔ مکمل جمہوری معاشرے کا خواب، مکمل آزاد انسان کا خواب۔

میں عورت کی آزادی کا خواب دیکھتا ہوں۔ میں سرمایہ داری میں استحصال کی باریکیوں میں جانا چاہتا ہوں۔ مجھے پورنوگرافی کی اجازت ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ دلچسپی اس بات سے کہ یہ عورت کا استحصال کیسے کرتی ہے، اور ہماری محبت کو کیسے روندتی ہے۔ انہیں وجوہ کی بنا پر میں جسم فروشی پر اعتراض اٹھاتا ہوں۔

جہاں تک بہتری ہو سکتی ہے چاہیے، لیکن مجھے یہ نظام نہیں چاہیے اور نہ ہی یہ ریاست۔ میں اصلاحات میں انقلاب ڈھوڈتا ہوں۔ میں مقتدر بدلنا چاہتا ہوں، میں تخت گرانا چاہتا ہوں۔ وہی کام جو سوشلسٹ کرتے ہیں۔

اس جدوجہد میں مجھے زیادہ سے زیادہ  ساتھی چاہیں۔ شہری اور انفرادی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے لبرل بھی میرے ساتھی ہیں جب تک کہ وہ اس نظام کے بدلنے میں میرے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔


Comments

FB Login Required - comments