ملا منصور پر حملہ پاکستان کیخلاف چارج شیٹ ہے!


editعجب اتفاق ہے کہ القاعدہ کا مفرور لیڈر اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ طالبان کا پراسرار امیر ملا عمر کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کرتا ہے اور طالبان کا نیا امیر ملا اختر منصور بھی پاکستان کی ہی سرزمین پر ہلاک ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید اسی اتفاق کا حصہ ہے کہ افغانستان میں اتحادی و افغان افواج کے ساتھ برسر جنگ طالبان گروہوں کا لیڈر ولی محمد کے نام سے ایک پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا اور دستاویزات میں اس کی رہائش گاہ قلعہ عبداللہ دکھائی گئی تھی۔ یہ شخص محمد اعظم نامی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ایران کے علاقے تافتان سے پاکستان میں داخل ہوا اور کوئٹہ جا رہا تھا کہ احمد وال کے مقام پر امریکی فوج کے ڈرون میزائل نے اس کی گاڑی کو تباہ کر دیا۔ جب اتفاقات کی بات ہو رہی ہے تو اسے بھی اتفاق ہی مان لیجئے کہ ملک کی وزارت خارجہ کو آج صبح تک اس سانحہ کی خبر نہیں تھی۔ تاہم شام کے وقت ایک پریس ریلیز میں یہ اقرار کرنے کی نوبت آئی کہ امریکی حکام نے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو وقوعہ کے بعد مطلع کر دیا تھا۔ اتفاق ہی کی بات ہے کہ رات گزرنے کے باوجود یہ اطلاع وزارت خارجہ تک نہیں پہنچ پائی تھی۔

طالبان لیڈر ملا اختر منصور پر حملہ اور اس کی ہلاکت سے جہاں اتفاقات کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کی دیانتداری ، سفارت کاری ، افغان جنگ میں اس کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے رہنما اصولوں کے بارے میں شبہات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے طویل عرصہ تک اچھے اور برے طالبان کی تخصیص کی ہے۔ کشمیر میں حریت پسندوں کی مدد کے نام پر ملک میں عسکری گروہوں کی سرپرستی کی ہے اور بھارت میں دہشت گرد حملوں کے بعد جب سارے شواہد پاکستان میں موجود جیش محمد اور جماعت الدعوة کے ”پیا من بھائے“ قسم کے لیڈروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ملک کا قانون ، نظام یا عدالتیں انہیں تحفظ فراہم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتیں۔

نوٹس بورڈ پر تو یہ لکھا ہے کہ پاکستان نے اب عسکریت پسندوں کی سرپرستی کرنے کا سلسلہ ترک کر دیا ہے لیکن میدان عمل میں یہ سارے لوگ جو پاکستان کے بھارت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں خلیج بنے ہوئے ہیں، سرکاری سرپرستی اور فراخدلی سے استفادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح اعلان تو یہ ہے کہ اچھے اور برے طالبان کی تخصیص ختم ہو چکی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد اب نہ کوئی دہشت گرد اچھا ہے یا برا، اپنا ہے نہ پرایا ، وہ سب انسانیت کے دشمن اور امن کو تباہ کرنے والے عناصر ہیں۔ اس لئے فوجی آپریشن کے دوران کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ شمالی وزیرستان میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے ایک کے بعد دوسرے علاقہ کو دہشتگردوں سے پاک کیا ہے۔ اس کام میں یہ پرواہ نہیں کی گئی کہ کون سے عناصر پاکستان میں دھماکے کرتے ہیں اور کون لوگ افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ لیکن جب اپریل کے آخر میں کابل میں حملہ کے بعد افغان حکومت پاکستان کو ملزم نامزد کرتی ہے ، امریکہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ حقانی نیٹ ورک کی کارستانی ہے جسے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی حکام کی سرپرستی حاصل ہے تو حکمرانوں سمیت پوری قوم معصومیت اور حیرت سے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ ہمارے شہریوں نے ساٹھ ستر ہزار لاشیں اٹھائی ہیں۔ ملک میں ترقی کی رفتار ٹھپ ہو گئی ہے۔ ہم اسلحہ اٹھا کر حق مانگنے والوں اور مطالبے کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اور اب ملا اختر منصور افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقے میں سفر کرتا ہوا امریکی نشانہ بازوں کی زد پر آ گیا۔ اس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔

ہفتہ کی سہ پہر رونما ہونے والے اس وقوعہ کے بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کو اتوار کی صبح تک اس بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ پاکستانی ترجمان نفیس ذکریا آج صبح اخبار نویسوں کو بتا رہے تھے کہ وہ اس معاملہ میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں پاک افغان بارڈر کے قریب نوشکی کے مقام پر ایک ٹویوٹا کرولا کے تباہ شدہ ڈھانچہ میں سے دو جلی ہوئی لاشوں کو کوئٹہ کے اسپتال میں منتقل کر رہے تھے۔ ایک لاش کی فوری شناخت کر لی گئی تھی بلکہ اسے اس کے رشتہ داروں کے سپرد بھی کر دیا گیا۔ جبکہ دوسری لاش کے بارے میں شام گئے تک سراغ نہیں مل پا رہا تھا۔ تا آنکہ وزارت خارجہ نے اعتراف کیا کہ وہ شخص مبینہ طور پر اختر منصور تھا مگر پاکستانی پاسپورٹ پر ولی محمد ولد شاہ محمد سکنہ قلعہ عبداللہ ۔۔۔۔۔ کے نام سے سفر کر رہا تھا۔ یہ شخص 21 مئی کو ایران کی سرحد تافتان سے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس کے پاس ایرانی ویزا تھا اور پاسپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ 28 مارچ کو ایران میں داخل ہوا تھا۔ اب یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ چند روز سے ملا منصور کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ لیکن شاید یہ بھی اتفاق ہی ہو کہ اس بات کا انتظار کیا گیا کہ یہ شخص پاکستانی حدود میں داخل ہو جائے تو اسے نشانہ بنایا جائے۔ ملک و قوم کی وفادار کے طور پر وزارت خارجہ نے اس ڈرون حملہ کی مذمت کی ہے اور امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یہ حملہ کر کے پاکستان کی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

پاکستان کا احتجاج ایک طرف لیکن اب اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ جو بات ایف 16 طیاروں کی فروخت پر قدغن لگا کر اور 450 ملین ڈالر کی فوجی امداد روک کر اسلام آباد کو سمجھانے میں ناکام رہا ہے، وہی بات ملا اختر منصور پر ہلاکت خیز حملہ کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اس ڈرون حملہ سے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ہم اپنے افغان ساتھیوں کے ساتھ ہیں اور مستحکم ، متحدہ ، محفوظ اور خوشحال افغانستان تعمیر کرنے میں ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ ملا منصور امن کیلئے خطرہ تھا۔ وہ ملک میں تشدد اور جنگ کے خاتمہ کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ وہ نہ صرف امن اور مصالحت کے خلاف تھا بلکہ امریکی اور اتحادی افواج پر حملے کرنے میں بھی سرگرم تھا“۔

یہ بیان پاکستان کی پالیسیوں کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے ڈرون حملہ پر مذمتی بیان جاری کرنا اس چارج شیٹ میں عائد کئے گئے الزامات کا جواب دینے کیلئے کافی نہیں ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ طالبان کی حمایت کرنے ، انہیں پناہ دینے ، ان کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بار بار کہنے کے باوجود انہیں مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ نہیں کرے گا اور افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان اور کابل کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں کروا سکے گا تو امریکہ اس کشمکش میں کابل کا ساتھ دے گا کیونکہ اسی میں اس کا مفاد ہے۔ طویل جنگ کے بعد امریکی افواج افغانستان سے نکلنا چاہتی ہیں لیکن طالبان کی سرکشی اور عدم تعاون کی وجہ سے اس خواب کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ ملا اختر منصور پر حملہ امریکہ کی اس غیر اعلانیہ پالیسی سے گریز کا اعلان بھی ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں کو براہ راست نشانہ نہیں بنائے گا۔ پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں کے باہر پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان میں حملہ کر کے دراصل پاکستانی فوج کو براہ راست چیلنج کیا گیا ہے۔ کہ اگر آپ ہمارے دشمنوں کو پناہ دینے اور پروان چڑھانے سے باز نہیں آئیں گے تو نہ تو ہم سرحدوں کی پرواہ کریں گے اور نہ یہ غور کریں گے کہ اس حملہ کے کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

طالبان کے لیڈر کو مارنے کے بعد افغانستان میں مصالحت کی امید موہوم ہو گئی ہے۔ طالبان قیادت کیلئے اقتدار کی جنگ میں پاکستان نے ملا اختر منصور کی اعانت کی تھی۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ پاکستان کو اس پر گہرا رسوخ حاصل ہے لیکن پاکستان نے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان بوجوہ طالبان قیادت کو نہ تو مسلح حملے کم کرنے پر آمادہ کر سکا اور نہ ہی انہیں مذاکرات کی میز تک لا سکا۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی رہی ہے کہ طالبان میں قیادت کے سوال پر اختلافات اور جھگڑے موجود ہیں۔ جب تک کوئی لیڈر مکمل طور سے اس تحریک کے تمام دھڑوں پر قابو نہیں پا لیتا، اس وقت تک اس کے لئے امن مذاکرات شروع کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ اسی عذر کی بنا پر ملا منصور کے زیر قیادت طالبان کے حملوں میں شدت آ چکی تھی۔ تاہم اپریل کے آخر میں کابل پر حملہ کے بعد جس میں 64 افراد ہلاک ہوئے تھے، صدر اشرف غنی کے علاوہ امریکہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا تھا۔ پاکستان اس بدلتے ہوئے موڈ کا اندازہ کرنے میں کامیاب نہیں رہا۔

ملا اختر منصور کی ہلاکت سے پاکستان کے افغانستان کے علاوہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات ایک نئے مشکل دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کو یہ گلہ ہو گا کہ امریکی حملے نے اس کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا ہے۔ اب یہ بتایا جائے گا کہ کسی ایک مضبوط قائد کے نہ ہونے سے طالبان زیادہ خطرناک اور مہلک ہو جائیں گے۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ ملا منصور کو ٹارگٹ کرنے کیلئے پاکستانی حکام نے مدد فراہم کی تھی لیکن اس کا اعتراف نہیں کیا جائے گا۔ اس صورت میں پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندوں کے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس ہلاکت کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو، یہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی افغان پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔

اب یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا اب پاکستان افغان طالبان کی قیادت کے سوال پر کوئی رسوخ استعمال کر سکے گا اور کیا اب وہ ایک نئے لیڈر کے ذریعے امن مذاکرات میں طالبان کو شریک ہونے پر آمادہ کر لے گا۔ پاکستان، طالبان کی قیادت کی جدوجہد میں تو مقدور بھر حصہ لینے کی کوشش کرے گا۔ ملا اختر منصور کے نائب سراج الدین حقانی کو پاکستان کے قریب سمجھا جاتا ہے لیکن وہ مذاکرات کی بجائے جنگ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے پاس افغانستان کے حوالے سے پالیسی کے بہت کم آپشنز موجود ہوں گے۔ طالبان کی حمایت جاری رکھ کر امریکہ اور افغانستان سے دشمنی کا رشتہ استوار ہو گا۔ اور یہ حمایت ترک کرنا ایک طاقتور گروہ کو پاکستان میں حملوں کی ترغیب دینے کے مترادف ہو گا۔ اس صورت میں پاکستان کے عسکری گروہوں کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیاں ضائع ہو جائیں گے۔ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کیلئے ایک مشکل وقت کا آغاز ہو رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali