پاکستان کی مذہبی سیاست کہاں کھڑی ہے


محمد عباس شاد

Abbas Shadآج کل پاکستان میں نظریاتی سیاست دور دور بھی کہیں نظر نہیں آتی، کبھی پاکستان میں نظریاتی سیاسی حلقے اپنا اثر ورسوخ رکھتے تھے اور سیاست میں نو وارد افراد اس نظریاتی سیاست سے متاثر بھی ہوتے تھے، یوں ایک معتدل ماحول سے معتدل سیاسی ذہن بھی پیدا ہوتا تھا۔ ایسے مذہبی رہنماوں میں بھی عوامی سیاست کا رنگ موجود تھا۔ اور وہ اپنا وزن اپنے عوامی مزاج کے باعث عوامی قوتوں کے پلڑے میں ڈالتے تھے۔ خصوصاً بین الاقوامی سطح پر سامراج کے علی الرغم اتحادوں کا وہ حصہ بنتے تھے۔ جیسے مصر کے جنرل ناصر کے خلاف عالمی قوتوں کے مقابلے میں پاکستان کے ایک بڑے مذہبی حلقے نے جنرل ناصر کی کھل کر حمایت کی اگرچہ جماعت اسلامی سے وابستہ مذہبی حلقہ جنرل ناصر پر بے دینی کے فتوے داغ رہا تھا۔ ایسے ہی جب جنرل ضیا کو جماعت اسلامی والے امیر المومنین بنانے کی سرتوڑ کوشش کررہے تھے تو جمعیت علماء اسلام کا ایک دھڑا بحالی جمہوریت کی تحریک میں ایم آر ڈی کا حصہ تھا۔ اب پاکستان میں جہاں سیاسی حلقوں میں نظریاتی سیاست کا بری طرح سے خاتمہ ہو کر رائٹ اور لفٹ کا فرق مٹ گیا اسی طرح سے مذہبی قوتوں میں بھی جو مابہ الامتیاز فرق تھا وہ ختم گیا اور تمام مذہبی جماعتیں اب عموماً ایک پیج پر ہی ہوتی ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ ایم ایم اے کی شکل میں سامنے آیا اور ایک صوبے میں ان کی حکومت بھی قائم ہوئی۔

مذہبی جماعتوں کی سیاست سے اس جوہری فرق کے خاتمے میں افغان وار نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کیونکہ اس جنگ میں وسیع پیمانے پر ڈالر، ریال اور پونڈ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب جیسے اسلامی تشخص کے حامل ممالک کا گہرا اثر و رسوخ بھی استعمال ہوا ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں مذہبی قوتوں کو ایک پیج پر لانے میں اپنے اتحادی اسلامی ممالک کے پاکستان پر اثرات کو خوب استعمال کیا، کیونکہ امریکہ کو کیمونسٹ روس کے مقابلےکے لیے پاکستان کی مذہبی قوتوں کا ایک ایسا اتحاد درکار تھا جو یہاں کے عوام کے مذہبی جذبات کو امریکہ کی عالمی مدمقابل قوت روس کے خلاف استعمال کر سکے، اور پاکستان میں موجود تمام مذہبی حلقوں کو ایک مشترکہ قوت میں ڈھال دے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ ہر مذہبی جماعت کا ایک عسکری ونگ بنا اور اس نے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ تاہم ایسے فضا میں بھی بعض دینی تشخص کے حامل حلقے اس دام فریب میں نہیں آئے جیسے بھٹو کے خلاف تمام مذہبی قوتوں کے اتحاد کے باوجود ایک مذہبی شخصیت مولانا غالام غوث ہزاروی اس مذہبی اتحاد کے مخالف تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ اس تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء تو آئے گا لیکن جو عوام کو خواب دکھایا جارہا ہے وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب بھی ہمارے سامنے ہے۔ جب جہاد کے پلیٹ فارم پر امریکہ کے حسبِ خواہش پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے زیر نگرانی صف بندی ہو رہی تھی اس وقت بھی شاہ عبدالقادر رائے پوری کے تربیت یافتہ بزرگ شاہ سعید احمد رائے پوری، پوری شدت کے ساتھ اس سازش کو بے نقاب کرتے رہے اور وہ اپنے اس مؤقف پر ڈٹے رہے کہ اس وقت افغانستان میں مذہبی قوتوں کا استعمال عالمی سامراجی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس کے نتائج ہماری قومی سیاست کے حق میں بہت خطرناک ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد کیا ہوا وہ سب بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس دور کے بعد ہماری مذہبی جماعتوں کی سیاست مختلف قوتوں کے لیے کام کرنے کی تو رہی لیکن ان کی اپنی کوئی آزاد رائے نہیں ہوتی تھی۔ کے پی کے میں ایم ایم اے کے الیکشن میں کامیابی کے بارے میں بھی ایک رائے یہی ہے کہ ان کی یہ کامیابی بھی کسی آزاد نظریئے اور خود مختار پالیسی کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی نئے دور کی حکمت عملی تھی جس میں امریکہ کو مذہبی اتحاد سے خوف زدہ کرکے اپنے حسب خواہش کچھ مفادات حاصل کئے گئے تھے۔

ہماری موجودہ مذہبی جماعتوں کے پاس کوئی واضح قومی ایجنڈہ نہیں ہے، وہ اپنے ورکروں میں جذباتی عقیدتوں اور اندھی نفرتوں کے سوا کوئی اجتماعی اور انسانی اقدار پر مبنی نقطہ نظر پیدا کرنے سے عاری ہیں۔ غیر سیاسی جماعتیں تو اپنی جگہ پر قومی دھارے کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے فرقہ وارانہ خول سے باہر نہیں نکل پاتیں اور اپنی الیکشن مہم میں بھی فرقہ وارنہ حوالے بطور ہتھیار استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔

وہ مذہبی جماعتیں جن کے پاس صوبوں اور مرکز میں محدود نشستیں ہیں جیسے جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی وغیرہ ان مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو روایتی سیاست اور سیاست دانوں پر تنقید کرتی رہتی ہیں اور دوسری طرف یہ حکمران جماعتوں کے ساتھ اتحادوں میں بھی بندھی ہوئی ہیں۔ ہر دور میں ہر مذہبی جماعت کسی نہ کسی حکمران اتحاد کا حصہ ہوتی ہے خواہ کسی چھوٹے صوبے ہی کی حکومت کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ اور ہماری مذہبی لیڈر شپ عام سیاست دانوں کی طرح سسٹم سے فوائد بھی حاصل کرتی ہے۔ مگر اپنے عقیدت مندوں کے سامنے سسٹم، حکومت اور کرپشن کے خلاف دھواں دھار تقریریں بھی کرتی ہے۔ دین کی مقدس تعلیمات سے وابستگی رکھنے والے رہنماوں کے اس دوہرے معیار کو کیا نام دیا جائے؟ اس کا فیصلہ وہ خود ہی کرلیں کیونکہ دینی تعبیر میں ایسے کردار کے لیے بہت ہی سخت اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

موجودہ سیاسی فضا میں دینی سیاسی قوتیں اپنا متوازن اور معتدل کردار ادا کرنے سے نہ صرف قاصر نظر آتی ہیں بلکہ وہ واضح طور پر دو الگ الگ فریقوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ عمران خان کو مولانا فضل الرحمن یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے پی کے میں عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہے۔ جبکہ سراج الحق کرپشن کے خلاف ریلیاں نکال رہے ہیں اور مولا فضل الرحمن آستینیں چڑھائے نواز حکومت کے ساتھ خم ٹھوک کر کھڑے ہیں۔ کیا یہ اصولی اور نظریاتی سیاست کے باعث ہے یا موقع پرستی اور مفادات کی سیاست ہے؟ اسے کوئی بھی نام دیں لیکن ایک بات طے ہے کہ مذہبی جماعتوں کی یہ سیاست قابل دفاع نہیں ہے۔ معاشرے میں دینی جذبات رکھنے والے مذہبی جماعتوں کی اس روش سے سخت نالاں ہیں۔ اور وہ عام روایتی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے طرز سیاست میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔

ہماری پاکستانی سیاست کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ بدترین سرمایہ دارانہ روایات کی حامل ہے اور اس میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے سوائے اس کے نام کو استعمال کرنے کے۔ اور ہماری مذہبی جماعتیں مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں اس نظام میں انہیں غریب کی جنگ لڑنی چاہیے تھی لیکن یہ کرپشن کی دلدل میں پھنسی حکومتوں اور سرمایہ داروں کا تحفظ اور دفاع کر رہی ہیں۔ افغان جہاد کی ڈالر سیاست نے ہماری مذہبی سیاست کی سادگی اور خود انحصاری کی روایت کو بری طرح سے روند ڈالا ہے۔ کبھی پاکستان میں مسجدیں اور مدرسے انتہائی سادہ اور خستہ حال تھے لیکن ان میں بیٹھے لوگوں کی رائے بہت پختہ اور صائب ہوتی تھی لیکن اب وہ سب کچھ دولت کی چکا چوند کی نظر ہوچکا ہے۔ بقول شخصے کبھی مدرسے اور مسجدیں کچی تھیں اور لوگ پکے تھے لیکن آج مسجدیں اور مدرسے پکے ہوگئے اور لوگ کچے۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب یورپ میں مذہبی طبقے کرپٹ بادشاہوں کے ساتھ مل گئے تھے تو عوام نے جہاں شہشاہیت کو روند ڈالا تھا وہاں مذہب کو بھی اپنی لغت سے خارج کر دیا تھا۔

آج کی مذہبی جماعتوں کے بارے میں قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ یہ دوسروں کی بسائی ہوئی بساط پر کام کرنی کی عادی ہو چکی ہیں لہٰذا انہیں سیاست کے بین الاقوامی اور ملکی کھلاڑیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ انہیں کوئی اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ اور انہیں اپنے طرز عمل اور سیاست پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہیں اب دربار اور ایوانوں کی سیاست کے بجائے عوام کے حقوق اور متوسط طبقے کی جنگ لڑنی چاہئے اور وقتی اور عارضی پالیسیوں کے سہارے اپنے ووٹ بینک کے اضافے کے بجائے سسٹم اور نظام پر تنقید ہی نہیں بلکہ اس کی مکمل تبدیلی کی جنگ لڑنی چاہئے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پاناما لیکس کے بعد مذہبی جماعتیں اپنا قبلہ درست کرلیتیں اور عوام کے درمیان آجاتی۔ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ وہ جہادی دور کے بنے گئے عالمی جال سے نکلنے کی کوشش کرتیں اور اسے اپنے حق میں ایک سنہری موقع سمجھتیں۔ دینی جماعتوں کے بہت سے کارکن تو شاید اس طرح سے سوچتے ہیں لیکن ان کی قیادتیں اپنے مفادات میں اتنی آگے جا چکیں ہیں ان کی واپسی بہت مشکل ہے۔


Comments

FB Login Required - comments