چارسدہ۔۔۔ اب کچھ خود بھی کرو لوگو


wisi 2 baba

اپنے سپاہی پر مجھے فخر ہے کہ اس نے شدت پسندوں کو پاکستان کی سرحد سے پرے دھکیل رکھا ہے۔ شدت پسند بھی میرے سپاہی کی بہادری کا اعتراف یہ کہتے کرتا ہے کہ میرا سپاہی مرنے کے بعد بھی کچھ دیر اپنے مورچے کے دفاع میں لڑتا رہتا۔ باچا خان کے ماننے والے بھی مٹی کی محبت میں وہ قرض اپنے خون سے اتار رہے ہیں جو ان پر کبھی واجب بھی نہیں تھے۔ ان کی قربانیاں، ان کا صبر ان سے نظریں ملانے نہیں دیتا۔

یہ جو درسگاہ میں گئے ہوئے مارے گئے، انکی عمر نہیں تھی، یہ ہمارا مستقبل تھے، انہیں ابھی جینا تھا، انہی مین سے وہ  لڑکیاں تھیں جو اس نسل کی ماں ہوتیں جو ہم سے بہتر ہوتی۔

 کارروائی انہوں نے ہی کی جنہوں نے پہلے کی تھی۔ اس بار شاید وہ اس کا اقرار نہ کریں کہ وہ  بزدل ہیں، ڈرتے ہیں، صرف مرنے سے ہی نہیں، گولی سے ہی نہیں، اپنے خلاف ہونے والی بات سے بھی۔ اس سوچ سے بھی جو انہیں چیلنج کرتی ہے۔ اس  زبان سے بھی  جو ان کو رد کرتی ہے۔ وہ ذمہ داری قبول نہیں کریں گے بلکہ کنفیوزن برقرار رکھیں گے۔

کسی بھی سرکار کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ہر جگہ سیکیورٹی فراہم کر سکے۔ پہل کاری کا وقت اور اس کی جگہ شدت پسند اپنی سہولت سے منتخب کرتے ہیں۔ وہ نرم ٹارگٹ منتخب کرتے ہیں جو نہتے ہوتے ہیں، جو مزاحمت نہیں کر سکتے۔ اکثر حالتوں میں وہ ان شدت پسندوں کو دشمن تک سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

یہ ایک لمبی لڑائی ہے جو ابھی چلے گی۔ ایک جانب امن اور ترقی کی خواہش ہے تو دوسری جانب بدامنی چاہنے والے فسادی ہیں۔ اس لڑائی کو لڑائی کی طرح ہی لڑنا ہے۔ جو بھی ظالم کی کسی اگر مگر کے بغیر مذمت نہیں کرتا ہے،  اسے جواز بخشتا ہے، اس لڑائ کو مزہب کا رنگ دیتا ہے، وہ فسادیوں کا ساتھی ہے۔

شدت پسندوں کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ نہتے لوگوں کو، جن کے بارے یہ تک معلوم نہیں کہ انکی سوچ کیا تھی، انہیں بغیر کسی جواز کے مار دیا جائے ۔ بندوق اٹھانے والوں سے، ریاست کو چیلنج کرنے والے سے، تو ریاست نپٹ لے گی۔ ان فسادیوں کو تحریری تقریری حمایت  فراہم کرنے والوں سے کون حساب کرے گا؟ کون پوچھے گا؟ کون روکے گا؟ انہیں ٹکے ٹوکری تو ہم نے ہی کرنا ہے۔ یعنی انکے ریڈر نے، ان کے سننے والے نے، کہ چپ رہو گے تو ظلم کا حصہ بنو گے۔

اب کچھ خود بھی کرو لوگو۔

 


Comments

FB Login Required - comments