میرے باپ کے نام کا خانہ خالی ہے (2)


\"saleemایسے بچے اور بچیاں جنہیں اپنے والدین کے نام تک کا علم نہیں ہوتا ان کے جذبات، احساسات اور دکھوں کا احاطہ کرنا تو اس کالم میں ممکن نہ تھا البتہ ان کے کچھ عملی مسائل اور حکومتی اور معاشرتی سطح پر مختلف اداروں کے کردار کا ایک سرسری سا جائزہ پہلی قسط میں پیش کیا گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ وہ بچے بھی ہیں جنہیں اپنے والدین کا علم تو ہے مگر یا تو وہ (والدین) اس دنیا میں نہیں ہیں یا کچھ اور اندوہ ناک اور بھیانک وجوہات کی بناء پر بچوں کی پرورش نہیں کر پا رہے۔ ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ یعنی لاکھوں میں ہے۔ ان بچوں کا ٹھکانا عام طور پر \”یتیم خانے\” ہوتے ہیں۔ کوئی نصف صدی پہلے تک ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج تھا کہ جن بچوں کی فیملیز نہیں ہوتی تھیں وہ یتیم خانوں میں پلتے تھے مگر اب نہیں کیونکہ یہ بات عیاں ہو گئی کہ یتیم خانے یا بچوں کو اجتماعی طور پر پالنے کے ادارے بہت آسانی سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا ارتکاب کر سکتے ہیں اور بچوں کے پاس سوائے برداشت کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا اب یہ بات ثابت ہے اور ساری مہذب دنیا اس پر متفق ہے کہ یتیم خانے بے گھر بچوں کے لئے اچھی جگہ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس کا ایک متبادل نکال لیا ہے۔

مہذب دنیا میں بے گھر بچے اب یتیم خانوں میں نہیں رہتے بلکہ گھروں میں رہتے ہیں کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف بہت سے بچے ہیں جنہیں گھر اور خاندان چاہیئے اور دوسری طرف بہت سے گھر اور خاندان ہیں جو بچوں سے خالی ہیں یا ان میں مزید بچوں کو پالنے کی گنجائش اور خواہش موجود ہے۔ تو ریاست اور حکومت کا کام صرف ان دونوں کو آپس میں ملانے کا نظام بنانا (بچے گود لینے کا نظام)، کم از کم معیار مقرّر کرنا اور نگرانی کا نظام بنانا رہ جاتا ہے تاکہ دونوں پارٹیوں کو مطلوبہ سپورٹ مل سکے اور یہ کہ کوئی جرائم پیشہ شخص موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بچے کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی یا زیادتی نہ کر سکے۔ بہت ممالک نے بچے گود لینے کے نظام بنائے۔ قوانین بنائے گئے، ادارے قائم کیے گئے اور نظام کو چلانے کے لئے فنڈز مختص کیے۔ سب کچھ شاندار کامیابی سے ہو گیا اور ہو رہا ہے۔ درجنوں یا شاید سیکڑوں یتیم خانے بند ہو گئے کیونکہ ان کی ضرورت نہ رہی۔ اور نئے یتیم خانے کھلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لاکھوں بچوں کو گھر اور اتنے ہی والدین کو بچے مل گئے۔ آپ کو لگ رہا ہو گا کتنا آسان، سادہ، اور نیک کام ہے ہمارے ملک مین بھی بچوں کو گود لینے کا نظام فوراً سے پہلے بننا چاہیئے تاکہ یتیم خانوں، گلیوں، فیکٹریوں، ورکشاپوں، لاری اڈوں، چائےخانوں اور درباروں کے لنگر خانوں کے آس پاس نشے میں سڑنے والے بچوں کو اچھے اور آسودہ گھروں میں رہنے والے نیک اور بچوں کو پالنے کے خواہش مند لوگ گود لے لیں اور ان بچوں کے سامنے بھی ایک روشن مستقبل ہو۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان، جو کہ پچھلی کچھ دہائیوں سے مزید ترقی پا کر \’الباکستان\’ ہوتا جا رہا ہے، میں بچوں اور عورتوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی نظام یا قانون بنانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جونہی کوئی بات بچوں یا عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کی جائے تو ہمارے مذہبی عالم حضرات، اور اب الہدیٰ جیسی تنظیموں کی محنت شاقہ کی وجہ سے عالم خواتین بھی، فوراً چونک جاتی ہیں اور ہمارے مذہب اور کلچر کے خلاف مغرب کی سازش کو تاڑ لیتی ہیں۔ ‘الباکستان’ میں عورتوں اور بچوں کے حق میں معمولی سی قانون سازی پر شور و غوغا کرنے اور اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کے لئے ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل پال رکھی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران صرف تین کام کرتے ہیں۔ سوتے ہیں، جاگ جائیں تو آپس میں لڑتے ہیں اور کہیں عورتوں اور بچوں کے حقوق کی بات کان میں پڑ جائے تو اس کے خلاف ہاہاکار مچاتے ہیں۔ آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی اچھے اور نیک لوگوں کے ہاتھوں پرورش کو ممکن بنانے والے نظام اور قانون کے خلاف بھلا کونسل کے ممبران کہہ کیا سکتے ہیں۔

تو سنیے اور سر دھنیئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ بچوں اور بچیوں کو گود لینے اور عام گھروں میں پالنے پوسنے اور بڑا کرنے سے ہمارا پردے کا نظام خراب ہو گا لہٰذا اسلامی معاشرے میں یتیم اور بے سہارا نامحرم بچوں کو گود لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یعنی ایک میاں بیوی اگر آج ایک نومولود بچے کو گود لیتے ہیں تو دس بارہ سالوں بعد اس بچے نے بلوغت کو پہنچنا ہے تب اس بچے کی گھر میں موجودگی سے پردہ خراب ہو گا کیونکہ وہی ماں بچہ ایک دوسرے کے لئے نا محرم بن جائیں گے ۔ لہٰذا اس اہم مسئلے کی وجہ سے لاکھوں سوکھی گودیں سوکھی رہیں گی اور آسودہ گھر جو بچوں سے خالی ہیں اور بچہ چاہتے ہیں وہ خالی ہی رہیں گے اور لاکھوں بچے جو بے سہارا ہیں وہ یتیم خانوں، گلیوں، فیکٹریوں، ورکشاپوں، لاری اڈوں، چائےخانوں اور درباروں کے لنگر خانوں کے پاس نشہ کرتے ہوئے ملتے ہیں اور ہمہ وقت ہر طرح کی بد سلوکی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں وہ بنتے رہیں گے لیکن ماں اور اس کے لے پالک بچے کے درمیان بننے والے ماں بیٹے کے انسانی رشتے کو نہیں مانے گے۔

صرف یہی نہیں مذہب کے ٹھیکیدار کوئی ایسا بندوبست بھی نہیں چاہتے کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعداد میں اضافہ ہی کچھ کم ہو سکے۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگوں کو جنسی اور تولیدی صحت کی تعلیم اور سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنی فیملی کا سائز اپنے وسائل کے مطابق رکھ سکیں۔ ایسا کرنے سے گھر اور ملک پر آبادی کا دباؤ کم ہو گا اور ترقی کی رفتار بھی تیز ہونے کا امکان ہے لیکن ڈر یہ ہے کہ اگر آپ کے ایک یا دو ہی بچے ہوں جنہیں آپ روٹی، کپڑا، رہائش اور تعلیم دے سکتے ہیں تو آپ انہیں چھوٹی سی عمر میں اپنے سے دور نہیں کریں گے اور ایسی جگہ نہیں بھیجیں گے جہاں ان کا کوئی مستقبل بھی نہیں اور خود کش بمبار بننے کا خطرہ بھی ہے۔ میرا مطلب ہے یہ مدرسے جو کثرت اولاد سے بھرے پڑے ہیں ویران نہ ہو جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم ملک ترقیاتی شعبے سے جڑا ایک ملازمت پیشہ آدمی ہے جو بغیر پڑھے لکھنا چاہتا ہے. ساری دنیا اور پے در پے ناکامیاں بھی اسے اوقات میں رہنا نہیں سکھا سکیں

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 133 posts and counting.See all posts by salim-malik