ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد کا منظر نامہ


aimal khan

ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد کئی سوالات جنم لے رہے ہیں

جاری سٹرٹیجک گیم میں مہرے نہیں مفادات اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی قیادت کے مسلے پر طالبان میں گروپ بندیاں مذید بڑھنے کا امکان ہے

افغان طالبان سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے امریکی حکام زیادہوثوق سے بیانات دے رہے ہیں جبکہ خود طالبان کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے پاکستانی حکام کو حملے کے سلسلے میں اعتماد میں لینے کے دعوے پر پاکستانی حکام اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرنے میں تذبذب اور مخمصے کا شکار ہیں۔ ملا منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑے ہیں۔ سب سے پہلا سوال آیا یہ حملہ امریکی حکام کی انفرادی یا تن تنہا کاوشوں کا نتیجہ تھا یا اسے کسی علاقائی انٹلیجنس ایجنسی کی معاونت بھی حاصل تھی؟ کیا بلوچستان میں ڈرون حملہ امریکی پالیسی میں تبدیلی کی غمازی ہے اور آیا امریکہ پاکستان کی مرضی کے بغیر بلوچستان جیسے حساس علاقے میں ایسی کارروائی کرسکتا ہے ؟ پاکستانی حکام اور ملا منصور کی اختلافات کی خبروں میں کتنی سچائی ہے؟ بعض طاقتور علاقائی طاقتوں کی جانب سے قدرے خود سر ملا منصور کو ہٹانے اور کسی زیادہ فرمانبردار بندے کو اس کی جگہ لانے کی کوششوں میں کتنی صداقت ہے ؟ کیا واقعی بعض معاملات میں ملا اختر منصور کی من مانی یا خود سری اس کی افغان منظر نامے سے ہٹانے کی وجہ بنی ؟

افغان میڈیا ملا اختر منصور اور سراج الدین حقانی کی اختلافات اور بعض علاقائی قوتوں کی طالبان کی قیادت کا تاج حقانی کے سر پر سجانے کی خواہش کے بارے میں رپورٹیں دے چکا ہے۔ حقانی برادرز ان دنوں کافی سرگرم ہیں اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ بلا خوف وخطر قبائلی علاقوں میں نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ ادھر حقانی نیٹ ورک کی کوششوں سے تحریک طالبان پاکستان کے کچھ ناراض گروپوں کو واپس لایا گیا ہے اور انھیں قبائلی علاقوں میں دوبارہ ٹھکانے قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طریقے سے انھیں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا گیا جبکہ بعض دیگر گروپوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ بعض قبیلوں پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عسکریت پسندوں کو سرحد پار پناہ گاہوں سے واپس بلائے۔ لیکن سراج الدین حقانی کی ملا منصور کی جگہ لینے کا بہت کم امکان ہے کیونکہ طالبان کے صفوں میں حقانی برادران کو زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ ملا عمر کی وفات کے بعد سراج الدین حقانی کی ملا اختر منصور کے نائب کے طور پر نامزدگی میں طالبان کے حلقوں کا کم اور بیرونی دباؤ کا زیادہ دخل تھا۔

طالبان کے حامی ذرائع کے مطابق ملا اختر منصور پر بعض سخت گیر طالبان کا امن مذاکرات سے بائیکاٹ کے لئے دباؤ تھا۔ دوسرا ملا کے بعض مخالفین ان پر بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے اور انکے آلہ کار ہونےکا الزام لگا رہے تھے اور ملا اس تاثر کو زائل کرنے اور سخت گیر طالبان کے اطمینان کے لئے بیرونی قوتوں کی امن مذاکرات میں حصہ لینے کی درخواستوں کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے، جس سے بعض علاقائی قوتیں ناراض تھی۔

افغان طالبان کے بلا شرکت غیرے سربراہ بننے سے پہلے اور بعد کے ملا منصور میں کافی فرق تھا۔ پہلے وہ بہت فرمانبرداری سے بیرونی آقاؤں کی باتوں کو اہمیت دیتے تھے جبکہ بعد میں وہ نسبتاً آزاد ہو گئے تھے۔ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کو کئی سال تک دبانا اور بعد میں ملا اختر منصور کی تاجپوشی میں ڈھکی چھپی اور کھلم کھلا حمایت کی وجہ سے بعض علاقائی قوتیں مطمئن تھیں کہ وہ احسان مندی میں فرمانبرداری کی تمام حدود کو پار کرلیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ان کی من مانی اور خود سری بعض علاقائی قوتوں کے لئے پریشانی اور پشیمانی کا باعث بن رہی تھی۔ ان کو ڈھکے چھپے اور کھلے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر صورتحال جوں کی توں رہی ۔ ملا منصور کی ایران سے قربت بھی بہت سے حلقوں کے لئے باعث اعتراض بات تھی۔

طالبان کا اندازہ ہے کہ ایک اہم سٹرٹیجک مہرے کی حیثیت سے وہ پاکستان کی مجبوری ہیں اور پاکستانی اپنی مجبوریوں اور مصلحتوں کی وجہ سے ان کی ناراضی کا خطرہ مول نہیں سکتے اور ان کو دیوار سے لگانے سے گریز کریں گے اور ان پر ایک حد سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسی طرح پاکستانی پالیسی سازوں کا شاید یہ اندازہ تھا کہ ان کے اہم ترین حامی ہونے کی وجہ سے طالبان ان کی باتیں بلا چوں و چرا مانیں گے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ نہ تو آج سے دس پندرہ سال پہلے والے پاکستانی پالیسی ساز ہیں اور نہ وہ پہلے سادہ لوح طالبان۔ فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے کرتے بہت کچھ سیکھ لیا ہے ایک دوسرے کو سمجھ لیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے داؤ پیچ سے واقف ہیں۔ طالبان میں یہ سوچ جڑیں پکڑ رہی ہے کہ کچھ علاقائی قوتیں ان کو مفادات کے کھیل میں تاش کے ایک پتے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور یہ کہ ان کی مدد اور حمایت کسی جذبہ ایمانی یا نظریاتی وجوہ کی بنا پر نہیں بلکہ ان قوتوں کی اپنی مفاد میں ہے۔ اور یہ مدد اور حمایت ان یعنی طالبان سے زیادہ بیرونی قوتوں کے زیادہ فائدہ میں ہے۔

ملا اختر منصور کی ہلاکت چاہے جن حالات میں بھی ہوئی ہو مگر اس سے طالبان اور بعض علاقائی قوتوں کے درمیان دوریاں مذید بڑھنے کا امکان ہے۔ شدید اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر ملا منصور کی نقل و حرکت بہت حد تک محدود اور خفیہ تھی۔ طالبان سربراہ کی ہلاکت کے حوالے سے طالبان کی صفوں میں مختلف شکوک و شبھات جنم لے رہے ہیں۔ جہاں تک نئی قیادت کا تعلق ہے لگتا نہیں کہ طالبان کو آزادانہ کوئی فیصلہ کرنے دیا جائے گا۔ لیکن کوئی بھی باہر سے تھوپا گیا فیصلہ طالبان کے صفوں میں موجود بدگمانیاں مذید بڑھانے کا سبب بنے گا۔ ملا عمر کا خاندان کسی حد تک طالبان کو متحد رکھ سکتا ہے بصورت دیگر طالبان میں داخلی اختلافات اور گروپ بندیاں بڑھ جائیں گی۔

پاکستان اور طالبان کا تعلق نفرت اور محبت کا ہے۔ نفرت اور محبت کے اس تعلق میں نظریات سے زیادہ فریقین کے مفادات زیادہ کھلے طریقے سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ سٹرٹیجک کھیلوں میں دوستیوں سے زیادہ مفادات اہم ہوتے ہیں ۔ اور مہرہ جتنا بھی اہم ہو اس کو پٹنا ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے حقیقی شطرنج کی نسبت سٹرٹیجک شطرنج گیم میں کھلاڑی اکثر نئے مہروں کو سامنے لانے کے لئے اپنے مہروں کو خود مروا دیتا ہے۔ اور نافرمانی کرنے والے مہروں کی نام ونشان مٹ جاتا ہے۔ افادیت کھونے والے مہرے صفحہ ہستی سے مٹتے جاتے ہیں اور نئے مہرے اہمیت اختیار کرتے جاتے ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد نئے مہرے بھی افادیت کھو دیتے ہیں اور نئے مہرے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا مہرہ کون ہو گا اور کب تک اس کو برداشت کیا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments