ملا اختر منصور ۔ خبر، پس منظر اور پیش منظر


wisi 2 babaاطلاعات آ رہی ہیں کہ طالبان اپنے نئے امیر کا اعلان جلد ہی کر دیں گے۔ ملا اختر منصور کے ڈروں حملے میں مارے جانے کی اطلاع آئے دو دن ہونے کو آئے۔ ہم ابھی تصدیق کر رہے ہیں۔ حملے کے مقام سے ملنے والا شناختی کارڈ الٹ پلٹ کر دیکھا جا رہا ہے۔ سرکار حالت سکتہ میں ہے۔ قوم کی توقعات پوری ہوئیں۔ ڈرون حملے کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دے دیا گیا ہے۔

اب چینل چینل مجلس پڑھی جائے گی۔ صورتحال کو اپنی مرضی کا اینگل دینے کی دل لگا کر کوشش ہو گی۔ ساری دنیا ہم سے ایک ہی سوال پوچھے گی۔ شناختی کارڈ کیسے جاری ہوا ، باقی خاندان کہاں ہے۔ اللہ کی خاص رحمت ہے۔ اسلام کے نام پر بندوق اٹھانے والے ہر بڑے نام نے جب جنت کو سفر اختیار کیا۔ آسمانوں کی جانب اس کی سواری نے سرزمین پاک سے ہی پرواز کی۔

ہماری سرکار دنیا کا موڈ سمجھنے میں ناکام رہی۔ جب ہمارے خارجہ امور کے نگران اعلان فرما رہے تھے کہ طالبان ہماری نہیں سنتے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان پر ہمارا اتنا اثر نہیں ہے۔ بس یہ ویسے ہی ادھر مہمان رہتے ہیں۔ تو ایسے میں کچھ ہو کر رہنا ہی تھا۔ اس کچھ ہونے کی اس سے بھی بڑی وجہ موجود تھی۔

گلبدین حکمت یار کا افغان حکومت سے امن معاہدہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔ حکمت یار اپنی چالیس سال سے جاری جنگی مہم اس لئے نہیں ختم کرنے جا رہے کہ انہیں اب کابل کی سیر کرنی ہے۔ ان کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو پھر امید رکھیں کہ وہ افغانستان کے اگلے حکمران بننے والے ہیں۔

گلبدین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ایک شق بہت دلچسپ ہے۔ وہ بیس لاکھ افغان مہاجرین جو پاکستان اور ایران میں بیٹھے ہیں انکی افغانستان واپسی معاہدے کا حصہ ہے۔ انہیں افغانستان کے بڑے شہروں کے اردگرد واپس لا کر آباد کیا جائے گا۔ اس آبادکاری کے لئے فنڈنگ سعودی عرب فراہم کرے گا۔

افغان مہاجرین ہی افغان مسلے کے حل کی اصل کنجی ہیں۔ پاکستان آج افغانوں کو پاکستان سے نکال دے۔ افغانستان میں عسکری تحریک کا زور ٹوٹ جائے گا۔ جو افغان وہاں جا کر لڑتے ہیں۔ انکے گھر والے پاکستان میں محفوظ رہتے ہیں۔ جب ان کو اپنے بچے افغانستان میں ہی رکھ کر کوئی جنگ لڑنی ہو گی تو لڑائی کے جذبے پہلے جیسے نہیں رہ سکیں گے۔

قبائلی دشمنیوں میں جنگ کا ایک اصول ہے۔ نئی لڑائی تب چھیڑی جاتی ہے جب پرانے دشمن کا کوئی علاج کر لیا جائے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب ستمبر گیارہ ہونا تھا تب یہ واضح تھا کہ امریکی افغانستان آئیں گے۔ وہ طالبان اور القاعدہ دونوں کے ساتھ اپنا حساب برابر کریں گے۔ امریکیوں کو افغانستان میں سب سے اہم مدد احمد شاہ مسعود سے ملتی تھی۔ احمد شاہ مسعود کو ستمبر گیارہ سے کچھ دن پہلے خودکش حملے میں مار دیا گیا۔ ستمبر گیارہ کے بعد وہ زندہ ہوتے تو افغانستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔

اب اگر معاہدہ گلبدین حکمتیار سے ہونے جا رہا ہے تو  طالبان کے خلاف ایک بڑا ایکشن سامنے کی بات ہے۔ طالبان کی اصل طاقت پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے منصوبہ پروگرام کا حصہ ہے۔ ایسے میں اگر ملا اختر منصور بچ بھی گئے ہیں تو اب وہ دوبارہ ٹارگٹ کئے جائیں گے۔ بچنے کا امکان ویسے کم ہے۔ ان لوگوں کی اکثریت جو ملا اختر سے کبھی مل چکے ہیں۔ پاسپورٹ پر ان کی فوٹو کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ملنے والے شواہد کی تصدیق کر رہے ہیں۔

ہماری سرکار اب بھی کھل کر کوئی پوزیشن لینے سے گریز کر رہی ہے۔ ڈرون حملے کو پاکستانی سرحد کی پامالی اور سالمیت پر حملہ ہی بتا کر خوش ہونا کافی نہیں۔ ایسا کہہ کر ہم لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ دنیا کے سامنے اپنا تماشا بھی بنا رہے ہیں۔ ساری دنیا کا ہم سے یہ سوال کرنا تو بنتا ہے کہ طالبان قیادت اگر ہماری بات نہیں مانتی تو یہاں کیسے رہ رہی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ملا اختر منصور ۔ خبر، پس منظر اور پیش منظر

  • 25-05-2016 at 3:06 am
    Permalink

    I am sure this paragraph has touched all the internet people, its really
    really pleasant paragraph on building up new webpage.

  • 25-05-2016 at 7:01 am
    Permalink

    There’s definately a great deal to learn about this issue.
    I really like all of the points you’ve made.

  • 26-05-2016 at 9:45 am
    Permalink

    I visited several web pages except the audio feature for audio songs current
    at this website is actually marvelous.

Comments are closed.