کیا یک طرفہ حب الوطنی ممکن ہے؟


mubashirاس تحریر کا مقصد بنیادی طور پر اک تصور کا ردِ تصور پیش کرنا ہے جو پاکستانی معاشرے میں بالخصوص، اور بالعموم دنیا کے دیگر معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ تصور میرے خیال میں درست نہیں۔ میرا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے، مگر اپنی سوچ کو آپ تک پہنچانا کوئی گناہ بھی نہ ہو گا۔

ہمارے جیسے معاشروں میں قومیں دو معاملات پر نہایت ہی آسانی سے جذباتی کی جاتی ہیں: مذہب اور ملت۔ ملت تو اقبال کے خیال میں “نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر” ہے، مگر تاریخ و جغرافیہ میں ماسٹرز ڈگری پکڑے، انہی دو موضوعات پر مرنے مارنے والے نوجوانوں کو اصل اسلامی سیاسی، اور شاید اپنے ہی ضلع کی تاریخ معلوم نہ ہو، مگر انہی دونوں موضوعات پر ان کی نعرہ بازی یقیناً دیدنی ہوتی ہے۔ اس تیز آنچ پر پکتی سیاسی اور معاشرتی ہنڈیا پر مزہ یہ ہے کہ مذہب کے معاملہ پر ملت، اور ملت کے معاملہ پر مذہب کا گرم مصالحہ چھڑک دیا جاتا ہے، اور اس دونوں سماجی و عمرانی موضوعات کے فروخت کنندہ اور خریدار، چسکے لے لے کر یہ باسی کڑہی کھاتے اور کھلاتے رہتے ہیں۔

عام فہم بات ہے کہ پیدا ہونے والا کوئی بھی بچہ، جو بڑا ہو کر اپنے معاشرے کا فرد بنتا ہے، اپنی مرضی سے ریاست نہیں چنتا۔ ہاں، آج کل میرے کئی جاننے والے ہیں جنہوں نے بہت شدید کوشش کرکے اپنے بچوں کو مغربی ممالک میں پیدا کروایا، مگر اس میں بھی کوشش بچے کی نہیں، ان کے والدین کی ٹھہری۔ خیر، بچہ جب پیدائش کا مرحلہ طے کر چکتا ہے تو ریاست اسے، اس کے والدین کے توسط سے، شہریوں کے ساتھ اپنے عمرانی معاہدے کے تحت، شہریت کا تحفظ اور تمغہ عطا کرتی ہے، اور شہریت کے اس پیکیج کے ساتھ اس بچے کی بحثیت معاشرتی فرد، ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ مگر ان ذمہ داریوں سے پہلے، یہ بچہ جب تک کہ اک بالغ فرد ہو جانے کا “مقام” حاصل نہیں کرلیتا، ذمہ داریوں کی یہ صلیب، ریاست کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ یہ صلیب ریاست کے کندھوں پر اس وقت کے بعد بھی رہتی ہے کہ جب وہ بچہ بلوغیت کے تمام مراحل طے کرلیتا ہوا، اپنی زندگی گزار کر قبر میں جا پڑتا ہے۔

ریاست کی یہ سیاسی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہری کو اس کی زندگی اور بعد از زندگی وہ پہچان اور وہ حقوق ادا کرتی رہے کہ جس کا وعدہ وہ اپنے سیاسی، آئینی اور عمرانی معاہدہ میں اس فرد کی پیدائش کے وقت اس کے ساتھ کرتی ہے۔ اپنی زندگی میں پیدا ہونے والا وہ بچہ، ریاست کے لیے مرتا ہے، مارتا ہے، اپنی جوانی اور اپنی زندگی معاشرے کو دیتا ہے، اپنا ٹیلنٹ، اپنا وقت، اپنی محنت اس معاشرے کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں صرف کرتا ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ ریاست اور اس کی ذمہ داری میں چلنے والا معاشرہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں پیدا ہوکر، ایک شہری، مثالی سطح پر، وہ حقوق حاصل کرتا ہے کہ جس کے تحت، ریاست بنیادی طور پر ان چھ معاملات پر اسکی ذمہ دار ہوتی ہے: روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج اور شہری احترام۔

وطنِ عزیز میں ان چھ معاملات پر ریاست کا اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک رہا ہے، ہے، اور آئندہ کیا متوقع ہے؟ اس سوال کا جواب میں آپ کی صوابدید پر ہی چھوڑتا ہوں۔

میں اپنے بچپن سے ہی جان ایف کینیڈی کی تقریر کا یہ فقرہ سنتا چلا آ رہا ہوں کہ: مت پوچھو کہ تمھارے ملک نے تمھارے لیے کیا کِیا، بلکہ خود سے یہ پوچھو کہ تم نے اپنے ملک کے لیے کیا کِیا؟ نعرہ بازی اور جذباتیت کے حوالے سے یہ فقرہ بالکل درست ہے، تکنیکی اعتبار سے اس فقرہ میں کوئی جان نہیں کہ میرے نزدیک، ریاست کی ذمہ داری، شہری کی ذمہ داری سے بہت / بہت بڑی اور بہت / بہت پہلے ہوتی ہے۔ اور اگر ریاست اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپاتی، تو اس پر سوال اُٹھانا کوئی مذہبی یا سیاسی گناہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ریاست کی شہریوں کی جانب کارکردگی اور احساسِ ذمہ داری پر اک تنقیدی نگاہ رکھ کر سوال اٹھانا ہی شاید اصل حب الوطنی ہوتی ہے۔

پاکستان میں پانی کی شدید کمی، ڈھائی کروڑ بچوں کا سکول سے باہر ہونا، سیاسی اور دفاعی سودے بازیوں میں اربوں روپوں کی ہیراپھیری، چند لوگوں اور اداروں کا تمام سوالوں اور احتساب سے مبرٰہ ہونا، ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کے اثاثوں اور انکی کارکردگی پر بات کرنا، بین الصوبائی معاملات پر سیاسی تنقیدی نظر رکھنا، ان سیاسی اور دفاعی پالیسیز پر بات کرنا کہ جن کا براہ راست اثر ہم پر بطور شہری آتا ہو، معاشرے کی ترقیءمعکوس میں ملائیت کی متشدد روایت پسندی پر وار کرنا، میڈیا کے مالی معاملات پر گفتگو کرنا اور مبشر اکرم کے بطور شہری کردار پر انگلی اٹھانا، اور ایسے دیگر کئی درجن سوالات کسی طور بھی حب الوطنی کی خلاف ورذی نہیں ہوتے۔ صرف یہ ہوتا ہے کہ مذہب و ملت کی تشریحاتی باسی کڑہی کو جب باسی کہا جاتا ہے تو بنا کر بیچنے والوں کو اس کہے کی چبھن ہوتی ہے کیونکہ اس باسی کڑہی کے بِکنے میں ہی اس کے بیچنے والوں کے معاشی، سیاسی، معاشرتی اور گروہی مفادات ہوتے ہیں۔

تو آئیے کہ انگور اڈہ کو افغانستان کے حوالے کرنے، بلوچستان میں احمد وال کے مقام پر افغان طالبان کمانڈرملا منصور اختر کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے، اور اپنے وزیراعظم صاحب کا علاج کے لیے لندن جانے، اور ان کے بچوں کے انتہائی امیر ہو جانے والے معجزات کے علاوہ، اک انقلابی پاشائی عبقری رہنما کی سیاسی بلوغت اور پاکستان میں فرقہ وارانہ، مسلکی، متشدد جہاد کا بیانیہ مستقل بیچنے والوں کے معاملات پر سوال اٹھائیں۔


Comments

FB Login Required - comments