میاں شہباز شریف گر چکے ہیں


adnan-khan-kakar-mukalima-3

جہلم سے ایک سناؤنی آئی تو ہم پرسا دینے مسلم لیگ ن کے مقامی عہدے دار جناب بلو بٹ صاحب کے پاس جا پہنچے۔

ہم: بلو بٹ صاحب، بہت افسوس ہوا۔ اللہ کو یہی منظور تھا۔
بلو بٹ: کیا ہوا ہے بادشاہو؟ کیا پاناما سے پھر کوئی نئی خبر آئی ہے؟ شریف خاندان کو پاناما کے یہودی بدنام کر رہے ہیں۔
ہم: پاناما سے تو نہیں، لیکن ہے پانی پانی کرنے والی خبر ہی۔
بلو بٹ: کیا ہوا ہے موتیاں والو؟
ہم: جہلم میں میاں شہباز شریف گر چکے ہیں۔
بلو بٹ: اوئے بیڑہ غرق۔ چھوٹے میاں صاحب بچ تو گئے ہیں؟
ہم: کہاں بچے ہیں۔ بس اب تو نئے کا ہی بندوبست کرنا پڑے گا۔
بلو بٹ: ہائے او میرے ربا۔ میاں صاحب تو بہت بھلے آدمی تھے۔ بٹ برادری کا بہت خیال کرتے تھے۔ وہ بھی گر گئے۔ ہڈی پسلی ہی نہ 13263771_1210145002363070_3740964192490870931_nٹوٹ گئی ہو۔ ایسا آدمی دوسرا کون ہے۔
ہم: آدمی؟ بٹ صاحب میں تو جہلم کے علاقے نالہ گھان کے میاں شہباز شریف نامی پل کی بات کر رہا ہوں۔ افتتاح سے پہلے ہی زمین بوس ہو گیا۔ وہ بھی عین شب برات کو۔
بلو بٹ: سبحان اللہ۔ یعنی شب برات کو زمین کو بوسہ دیا؟ سبحان اللہ۔ میاں صاحب ہیں ہی اللہ والے بندے۔ خود بھی ساری ساری رات سجدے میں گرے عبادت کرتے رہتے ہیں۔ میاں صاحب جلالی طبیعت کے صوفی ہیں۔ پل بھی اپنے نام کی لاج رکھ گیا۔ شب برات کو اس نے بھی سجدہ کیا اور زمین کو بوسہ دے دیا۔ سبحان اللہ۔
ہم: بٹ صاحب، بوسہ نہیں دیا۔ گر گیا ہے۔
بلو بٹ: جھوٹ مت بولو میرے بھائی۔ ابھی چند منٹ پہلے تم نے خود تسلیم کیا تھا کہ پل زمین بوس ہوا ہے۔
ہم: چلیں یوں ہی سہی۔ مگر اس پر بس آپ یہی تبصرہ کریں گے؟ خدانخواستہ یہ اگر افتتاح کے بعد گرتا اور اس پر آدمی ہوتے تو کیا
Shahbaz-Sharif-Visit-in-Lahoreہوتا؟
بلو بٹ: بھولے بادشاہو، تم نے آدمی کی بات کی ہے تو یہی تو کمال ہے میاں صاحب کا۔ دیکھو، میاں صاحب کی حکمت سمجھو حکمت۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ جہاں بھی ڈیڑھ دو فٹ پانی کھڑا ہو، میاں صاحب فوراً گاڑی رکواتے ہیں اور لانگ بوٹ چڑھا کر اس میں گھس جاتے ہیں۔ پانی سے عشق ہے انہیں۔ دوسرے ڈرامے باز حکمران تو خود کو عوام کے لیول پر لانے کی تشہیر کرتے ہیں، مگر میاں صاحب تو ملک کے غریب اور پسے ہوئے عوام کو بھی اپنے لیول پر لا رہے ہیں۔
ہم: ہیں؟ وہ کیسے؟
بلو بٹ: دیکھو، تم نے کیا نام بتایا تھا، نالہ گھان۔ تو وہ ظاہر ہے کہ پانی والا نالہ ہے کوئی۔ اب پل نہیں ہو گا تو لوگ ا
س میں میاں صاحب کی طرح گوڈے گوڈے (گھٹنے گھٹنے) پانی میں کھڑے ہوا کریں گے اور میاں صاحب کے لیول پر آ جائیں گے۔ بلکہ ان سے بہتر ہوں گے۔ میاں صاحب تو لانگ بوٹ پہنتے ہیں اور پانی کے لمس سے محروم رہتے ہیں، عوام تو پانی کو خود 13241202_1210144892363081_8907416535162390824_nمحسوس کریں گے۔ میاں صاحب نے شید گرمی میں اتنا بڑا تحفہ دیا ہے عوام کو۔
ہم: بٹ صاحب، وہ پل ناقص تعمیر کی وجہ سے گرا ہے۔ ٹھیکیدار نے سیمنٹ کی جگہ بھی ریت ہی ڈال دی ہو گی۔ یا سریے کی بجائے پتنگیں بنانے والی بانس کی چھپٹیاں ڈال دی ہوں گی۔
بلو بٹ: بادشاہو میں تمہارے ہر جھوٹ کو سچ مان سکتا ہوں، یہ بھی ماننے کے لیے تیار ہوں کہ عمران خان اب بڑے میاں صاحب سے استعفی نہیں مانگے گا اور مدت پوری کرنے دے گا، مگر یہ جھوٹ تو کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ میاں صاحب کی حکومت میں کسی پراجیکٹ میں سریا کم لگے گا۔ وہ ٹھیکیدار سیمنٹ کی جگہ ساری کی ساری ریت تو ڈال سکتا ہے، مگر سریا ڈبل ٹرپل ہی ڈالے گا۔ جہاں کلو سریا لگتا ہو گا، وہاں پانچ کلو لگائے گا۔ ایسی چولیں کسی ایسے بندے کے سامنے مارو جو میاں صاحب کو جانتا نہ ہو۔

ہم: ابھی چند دن پہلے ہی تو ہم نے بتایا تھا کہ پنڈی کے نیشنل کالج آف آرٹس میں بھی ایسا ہی ریت کا محل بن رہا ہے جو کسی بھی وقت سینکڑوں بچوں کی جان لے سکتا ہے۔ پہلے وہاں ایک محنت کش ایسی ہی ریتلی دیوار گرنے سے مر گیا، اور اب یہ پل گر گیا۔ تعمیرات میں کوئی مسئلہ تو ہے۔

بلو بٹ: باقی جو بھی مسئلہ ہو، مگر سریے کی کمی کا مسئلہ نہیں ہو گا۔
ہم: ویسے جو ٹھیکیدار جو کہ نیشنل کالج آف آرٹس کا ریت کا محل بنا رہا ہے، وہی مری کے وزیر اعظم ہاؤس کی بلڈنگ بھی بنا رہا ہے۔ اگر وہاں بھِی سریا اور ریت زیادہ اور سیمنٹ کم ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ اس میں تو کالج کے طلبا کی بجائے شریف خاندان خود موجود ہو گا۔
بلو بٹ: بھولے بادشاہ، کیا بات کرتے ہو؟ یہ ہاؤس تین سال سے پہلے تو کسی صورت نہیں بنے گا۔ اس کے بعد اگلی حکومت کسی اور پارٹی کی ہو گی۔ پھر یہ گر بھی گیا تو یہ اگلی حکومت کا قصور ہو گا۔ اسی کا سارا نقصان ہو گا۔ تم جیسے سیانوں کو کیا پتہ کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔
ہم: سیاست کا ہمیں پتہ نہیں، اور تعمیرات کا میاں صاحب کو پتہ نہیں۔
بلو بٹ: کیسے پتہ نہیں۔ یہ سارا سریا کیوں لگ رہا ہے اگر میاں صاحب کو تعمیرات کا پتہ نہیں ہے تو؟ تم بلڈنگ کی بات کرتے ہو، میاں صاحب کے تو دشمن تک بھی مانتے ہیں کہ میاں صاحب کی گردن تک میں سریا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar