پندرہ شعبان کو ڈکار کی معافی


zafar kakarطالبان کے امیر ملا اختر منصور کی مبینہ ہلاکت کی خبر آئی ہے۔ چونکہ خبر بلوچستان سے متعلق تھی اور بلوچستان میں ہمارا واحد ذریعہ خبر ماما قادر ہیں۔ سن گن لینے کے لئے ماما کو فون کیا۔

اسلام علیکم ماما!

وعلیکم السلام! یارا پندرہ شعبان مبارک ہوئے۔

ماما آپ کو بھی مبارک ہو۔ کیا خبریں ہیں ماما؟

سب امن ہے۔ سکون ہے۔ اس سال ہم حج پر جا رہا ہے۔

چلیں ماما بہت مبارک ہو۔ اللہ خیر و عافیت رکھے۔ ماما کیا خبریں ہیں یہ ملا صاحب کے بارے میں۔

ملا صاب ٹھیک ہے وہ ہمارا ساتھ حج پر جا رہا ہے۔

ماما میں بڑے ملا صاحب کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔

ارے یارا یہ باتیں ہم سے نہیں پوچھو۔ ہم کو لگتا ہے ہمارا فون ٹیپ ہوتا ہے۔ خوامخواہ کاروبار کا نصقان ہو جائے گا۔

ارے ماما تم نے کاروبار شروع کیا اور ہمیں بتایا نہیں۔

ارے یارا وہ ہم حج پر جا رہا ہے تو سوچا تھوڑا زاد راہ جمع کرے۔ یہ رمضان کے مہینے کاروبار کرے گا بس۔

کیا کاروبار ہے کچھ ہمیں بھی تو علم ہو۔

ارے یارا کیا کاروبار کرے گا۔ سستے بازار میں دو تین سٹال لیا ہے۔ اس میں دوانے فروٹ لگائے گا۔ ایک میں شربت، پکوڑے، سموسے، کھجور وغیرہ بیچے گا۔ ایک میں گوشت مرغی وغیرہ بیچے گا۔

ماما! ایک تو سٹال سستے بازار میں لئے ہیں اور اوپر سے مال بھی فروٹ پکوڑوں کا ہے۔ اس میں کیا منافع ہو گا؟

ارے تم کو نہیں پتہ یہی تو منافع کا چیز ہے۔

وہ کیسے؟

بھئی تم سے صاف بات کرے گا لیکن یہ بات دے کہ تم بعد میں تقریر نہیں کرے گا۔

ماما بالکل کوئی تقریر نہیں کروں گا۔

تو پھر خاموشی سے سنو۔ ہم نے دو ڈرم گریس لیا ہے۔ اس میں سموسے پکوڑے پکائے گا۔

کیا؟ ماما گریس میں پکوڑے!۔ ۔ ۔

تم کو بولا نا کہ تقریر نہیں کرنے کا بیچ میں۔

اچھا نہیں کرتا۔

ہاں گریس میں پکائے گا۔ ہم ادھر سٹال لیا تو ساتھ والا حاجی صاب ہم کو یہ سب گر بتایا۔ وہ سالوں سے یہ یہی کام دھندا کرتا ہے۔ بولا ماما! بیسن ڈیڑھ سو روپنے کلو ہے ۔ تیل عام والا بھی ایک سو ساٹھ روپے کلو ہے اور میدہ پچہتر روپے کلو ہے۔ ڈیڑھ سو روپے پکوڑے کلو بیچنے میں پلے سے نصقان ہے۔ پندرہ روپے سموسہ پلے سے نصقان ہے۔ گریس چالیس روپے کلو ملتا ہے۔ پھر ویسے بھی سارا سال الا بلا کھا کر لوگوں کو معدوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ گریس سے اگلے سال تک پرزوں میں چکناہٹ باقی رہے گا۔

شاباشے ماما۔ اور کیا کیا ارادے ہیں؟

بھئی حاجی صاب بہت استاد آدمی ہے۔ تربت سے کھجوریں منگواتا ہے اور مدینہ والے پکینگ میں پیک کرتا ہے۔ دس من کھجوریں ہم بھی منگوایا تربت سے۔ پیکٹ حاجی صاب دے گا۔

اچھا ! اور گوشت ، شربت فروٹ وغیرہ کے بارے میں کوئی فارمولا نہیں ہے حاجی صاحب کے پاس؟

ہے نا۔ کیوں نہیں ہے۔ گوشت میں حاجی صاحب پانی کا انجکشن لگاتا ہے جس سے تین پاﺅ ایک سیر بن جاتا ہے۔ حاجی صاب بولتا ہے کہ یہ صحت کے واسطے بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔

وہ کیسے؟

ارے یارا، گوشت میں چھوٹا چھوٹا رگیں ہوتا ہے جس میں سے خون نہیں نکلتا۔ پانی کا انجکشن لگانے سے گوشت اندر سے صاف ہو جاتا ہے۔ شربت حاجی صاب گھر میں بناتا ہے۔ ہم صرف چینی، رنگ اور بوتل اپنا دے گا۔ رہ گیا دوانہ تو اس میں منافع بالکل نہیں ہے۔ بس گاہک کا واسطے مجبوری میں رکھنا پڑتا ہے۔ پلے سے ہر دوانے میں سکرین کا انجکشن لگانا پڑتا ہے تاکہ میٹھا ہو جائے۔

ماما! کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ حج پر جا رہے اور اعمال یہ ہیں؟

اڑے منڑا چھوڑو تمہارا تقریر۔ سب ایسا ہی کرتا ہے۔ یہ تمہارا بڑی بڑی کمپنیاں پرانا سٹاک زمضان میں ختم کرنے کے لئے پانچ روپیہ سستا پیکیج لگاتا ہے۔ وہ تم لوگ کا چینل والے کیا کرتا ہے؟ کہیں آیان رمضان لگاتا ہے، کہیں مہمان رمضان لگاتا ہے، تو کہیں دوکان رمضان لگاتا ہے۔ دین کے نمائندہ کے طور پر یہاں ہر وہ نیم ملا براجمان ہے جس کو کشف و الہام کی بیماری لاحق ہے یا چینل مالک تک اپروچ ہے۔ پھر آپ دین کے نام پر ان سے ہاتھوں کی لکیریں پڑھواو، آنکھیں موندھوا کر ایک منٹ میں استخارہ کرا لو، دو دونی چار کا پہاڑا پڑھوا کر گھریلو ناچاقی دور کروا لو، پانی پر پھونک مروا کر علاج کروا لو ، قرآن مجید سے ٹوٹکے نکلوا لو،یا پھر گھروں میں گرمی سے تنگ آئے حاضرین پر رقت طاری کروا لو، سب کرتا ہے۔ تم ہم کو باتیں سناتا ہے۔ ایک اکیلا ماما تو نہیں ہے جس پر تم اخلاقیات کا تقریر پکا کرتا رہتا ہے۔

چلو ماما جیسے تمہاری مرضی۔ مگر وہ ملا صاب کے بارے میں تو کچھ بتاﺅ۔

او یارا ہم تم کو بولا کہ ہمارا فون ٹیپ ہوتا ہے۔ چلو ہم ذرا آسان فارسی میں تم کو سمجھاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ حالات آگے بھی بہت خراب ہے۔

وہ کیسے؟

بھئی بات یہ ہے کہ تم دہشت گردی کے خلاف اپنے آپ کو فرنٹ لائن اتحادی بولتا ہے۔ پھر مہمانوں کو گھر میں بھی رکھتا ہے اور مذاکرات کے وقت بولتا ہے کہ ہمارا بات نہیں مانتا۔

ماما بات تو واقعی خراب ہے۔ کوئی معافی تلافی والا چکر چلے گا کیا؟

دیکھو منڑا۔ آج پندرہ شعبان ہے۔ پندرہ شعبان کو لوگ ایک دوسرے سے معافی مانگتا ہے۔ ہمارا ایک منشی ہم کو آج بولا کہ ماما ہم سے تھوڑا بہت بددیانتی ہو گیا ہو گا۔ ہم کو اپنا حق معاف کر دیو۔ ہم بولا! بھئی خان گل۔ اگر تمہارا گھر مہمان آیا ہے اور تم نے ہم کو بتائے بغیر پیسہ لیا تو وہ معاف ہے۔ اگر تمہارا نیک بخت بیمار ہوا اور تم نے پیسہ لیا وہ بھی معاف ہے۔ اگر تمہارا بچے کا سکول فیس کا مسئلہ ہوا ہو اور تم نے پیسہ چرایا ہو تو معاف ہے۔ لیکن! اگر تم نے موج مستی عیاشی کے لئے ڈکار مارا تو خدا کا قسم ایک پیسہ بھی معاف نہیں کرے گا۔ ہاں۔

ماما میں کچھ سمجھا نہیں؟

ارے منڑا تم کو کیا ہو گیا ہے۔ اگر ایک خالد شیخ ہوتا ٹھیک تھا۔ ایک بلال الطیب ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ ایک یونس الموریطانی ہوتا۔ ایک اسامہ ہوتا ۔ ایک ملا عمر ہوتا ۔ ایک ملا صاب ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ ادھر تو ڈکار پر ڈکار ہے منڑا۔ کیا ان سب نے گریس والا سموسہ کھا لیا ہے یارا۔ منڑا ابھی تو ہم نے دکان بھی نہیں لگایا۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah