محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی


naseer nasirمحبت بادلوں کی طرح آسمان سے برستی ہے

اور پانی کی طرح زمین پر بہتی ہے

 اور ہوا  کی طرح

چہروں اور بالوں کو چھوتی ہوئی

درختوں کے پتوں کو چھیڑتی ہوئی

کبھی نہ ختم ہونے والے راستوں نا راستوں پر

 بے پا افشار چلتی رہتی ہے

محبت نفرت کا اینٹی سیرم ہے

کبھی نہ ایکسپائر ہونے والی ویکسین ہے
جو جسموں کی دبیز ترین تہوں سے گزر جاتی ہے

زمین محبت کی آخری پناہ گاہ ہے

یہاں اسے کوئی نہیں مار سکتا

 تمام تر نفرتوں کے باوجود

 یہاں وہ جنگلوں، پہاڑوں ندیوں، کھیتوں

 اور کھیتوں میں کام کرنے والے

 مردوں اور عورتوں کا روپ دھار لیتی ہے

 پھولوں کے رنگوں

اور تتلیوں کے پروں میں کیمو فلاژ ہو جاتی ہے

 اور کبھی کبھی تو شرارتی بچوں کی طرح

 شہد کی مکھیوں

اور بھڑوں کے چھتوں میں جا گُھستی ہے

اور کبھی زیادہ غصے میں ہو

تو معصوم کیڑوں مکوڑوں کو پاؤں تلے مسل ڈالتی ہے

یا چیونٹیوں کے سوراخوں میں پانی بھر دیتی ہے
یا کھلونا مشین گن سے

نقلی فائرنگ کرتے ہوئے تڑ تڑ ہنستی ہے

محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی

 سوائے دہشت گردوں کے

جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے

کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی !


Comments

FB Login Required - comments