شاکر علی کا چاند


samina ansariشاکر علی چاند پینٹ کرنا چاہتے تھے جو امن کی علامت ہو۔ جو جنگ سے خاتمے کا اعلان ہو۔ جو جیت کا علمبردار ہو۔ جو اندھیری رات میں ایسی روشنی کا کام دے جو اس کی اپنی ہو۔ مگر چاند کی روشنی اپنی نہیں۔ وہ تو سورج سے ادھار روشنی لیتا اور ٹھنڈی اندھیری راتوں کو روشنی بخشتا۔چلو چاند اتنا بھی کافی ہے مگر سورج نے تو انت مچائی ہوئی ہے۔ اتنی روشنی دیتا ہے کہ روئے زمین کا ذرہ ذرہ سیراب ہو جاتا ہے ۔ وہیں یہ روشنی زہر قاتل ہے۔ عقل اس روشنی میںکام نہیں کرتی۔ سکون نام کو نہیں۔ لوگ اسی روشنی سے بھاگتے پھرتے ہیں ۔ روئے زمین کی حرکت جاری ہے کہ محرکات ہی کائنات کا نظام ہیں۔ کوئی سورج کو دیکھ سکتا ہے؟ کیا وہ اتنی جرا ¿ت کر سکتا ہے کہ سورج کو دیکھے۔ ہر گز نہیں۔ سورج کی طرف دیکھنے سے ہم اندھے ہو جاتے ہیں۔ عقل تو سورج چڑھے ہی سلب ہو چکی ۔ اب دیکھنے کی حس بھی جاتی رہی ۔سو ہم حیلے سے لگتے ہیں۔ یہ سورج ، ستاروں ، چاند، سیاروں اور موسموں کے پھیرسے ہمارا واسطہ نہیں ۔

ہم تو ایک سیدھی سطر نہیں لکھ سکتے یا کہو تو ریاضی کی زبان میں کہ ایک لکیر کھینچو تو ہم بنا سکیل یا رولر کے ناکام ہیں چاہے پی ایچ ڈی ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ چاند گول ہے کہ چپٹا ہمیں اس سے غرض نہیں کہ چاند دیکھے عرصہ ہو چلا۔ اب تو رات ہی دکھائی نہیں دیتی۔ ہماری بینائی جا چکی۔ اندھے ہوئے پڑے ہیں۔ ہمارے اندھے پن کا اثر تو دیکھو۔ جہلم کا پل ٹوٹا پڑا ہے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہم تو اتنے اندھے ہیں کہ تیزاب سے پہلے ایک خاتون کا چہرہ جلا ڈالا۔ اچھا شغل رہا۔ جب اس سے جی اوب گیا تو نیا تماشہ کیا۔ اسی سے زبردستی زناکر لیا۔ ابھی کچھ سکون ہے مگر نئے شغل میلے کا کچھ تو سامان ہونا چاہیے نا۔ سو اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

Shakirہمارے پاس اتنی زمین ہے کہ سا ت نسلوں تک سب سکون سے کھا سکتے ہیں ۔ اور رہی بات قانون کی تو میاں قانون کیا بلا ہوتی ہے؟ ہم اندھے اور ہمارا قانون اندھا۔ کیسے بتائیں کہ ہمیں قطاروں میں لگ کر اپنا بل دینے کی عادت نہیں کہ یہ شودروں کا پیشہ ہے۔ انہیں پانی کے لئے قطار بنانا پڑتی ہے کہ پانی سب کی ضرورت ہے مگر ہم قطار کیوں بنائیں؟ ہم تو بڑے آدمی ہیں۔ ہمارے پاس پیسہ ہے، طاقت ہے کہ یہی زندگی ہے اپنی۔یہ چھوٹے موٹے قانون ہمارے واسطے نہیں۔ ہمارے لئے تو بس زمین پر اتری حوریں ہیں اور اے سی میں بیٹھ کر مزدوروں کے لئے نعرے بازی ہے۔ کہ کچھ تو ڈرامہ ہونا چاہیے۔ آخر توند بھرنے کو غریب کی محنت سے اُگی گندم بھی تو چاہیے۔اسے ہم پیسے دیتے ہیں کہ ہمارے لئے خالص گندم اُگائے اور جو ناقص بچ رہے وہ اپنے لئے رکھے۔خود کھائے چاہے خود کو بھوکا رکھ کر بچوں کو کھلائے۔ ہمیں جو غرض تھی اب پوری ہوئی ۔غریب مسلسل صلیب پر ہے۔

ارے چپ کرو۔ مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں۔ میں نے اس جگہ کو ہتھیانے کے لئے کڑی جدوجہد کی۔ امن کے جھوٹے نعرے لگائے تا کہ امداد کی آڑ میں کچھ روپیہ حاصل کر سکوں۔ یہ سب میری محنت کی کمائی ہے۔ میں نے جی جان سے روپیہ دو گنا کیا۔ اپنا آپ بیچا۔ کسی طوائف کی طرح ناچا۔ تب جا کر اپنی عزت بنی۔ میں امن کا کبھی داعی تھا ہی نہیں۔ میرے لئے دنیا جائے جہنم میں۔ مجھے کسی سے کوئی غرض ہیں۔ شاکر علی؟ کون شاکر علی؟ میں کسی شاکر علی کو نہیں جانتا۔جو جی آئے پینٹ کرے۔ میرا سر کیوں کھاتا ہے؟ پاکستان؟ میرا ملک ہے ۔ جسے میں نے ڈھیر سارا پیار دیا۔ ہاں! ہاں!پاکستان سے مجھے پیار ہے۔ چلو سب نعرہ ¿ مستانہ لگاتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد


Comments

FB Login Required - comments