یہ دھرتی فوج کی ملکیت نہیں


mujahid aliدو روز قبل پاک فوج کے ادارہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا کے مقام پر ایک سرحدی چوکی افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت اور دوسرے اہم امور کے ہجوم میں ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے عام ہونے والی یہ خبر زیادہ توجہ حاصل نہیں کر سکی۔ تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس کا نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ فوج پاک سرزمین کا کوئی حصہ کسی قانون قاعدے کے بغیر دوسرے ملک کو دینے کی مجاز نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے ایک خط میں اس اہم معاملہ پر وزیراعظم نواز شریف کی توجہ مبذول کروائی ہے اور چند اہم سوال اٹھائے ہیں۔ وزیر داخلہ کی تشویش حق بجانب اور درست ہے۔ ملک کے کسی بھی ادارے کو ملک کی سرزمین کا کوئی حصہ کسی بھی دوسرے ملک کی دسترس میں دینے کا نہ تو حق ہے اور نہ ہی اسے اس کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ملک کی فوج پرانے دور کے بادشاہوں اور والیوں کی طرح ساری زمین اپنے زیر تسلط سمجھ کر اپنی مرضی سے تقسیم کرنے کا حق حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چیلنج کرنا ضروری ہے۔

کسی بھی ملک کی فوج سرحدوں کی حفاظت کے لئے استوار کی جاتی ہے۔ کسی دشمن ملک کی طرف سے حملہ کی صورت میں فوج کے سپاہی اور افسر دھرتی کے ایک ایک انچ کے لئے جان نچھاور کرتے ہیں۔ 1965 کی جنگ یا اس کے بعد اور پہلے بھارت کے ساتھ ہونے والے سرحدی تنازعات میں پاک سرزمین کی حفاظت کے لئے جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں اور افسروں کی کمی نہیں ہے۔ جس فوج کو سرحدوں کی حفاظت کے بنیادی مقصد سے مامور کیا گیا ہو، اسے کسی بھی اسٹریٹجک یا خیر سگالی کے مقصد سے زمین کا کوئی ٹکڑا کسی دوسرے ملک کو دینے کا اختیار کیوں کر دیا جا سکتا ہے۔ پاک فوج نے ملک کی مختصر تاریخ میں سیاسی جوڑ توڑ میں ضرور حصہ لیا ہے اور سیاستدانوں اور سویلین حکومتوں پر بدعنوانی ، بدانتظامی اور ملک دشمنی کے الزامات لگا کر طویل عرصہ تک ملک پر حکومت بھی کی ہے۔ تاہم ان تجربات سے فوج اور ملک کے باشعور طبقوں پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ ملک عوام کے ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ خطہ کسی فوج نے فتح کر کے عوام کے نام پر حکمرانی کرنے والوں کے حوالے نہیں کیا تھا۔ قیام پاکستان کے لئے محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز تسلط اور ہندو اکثریت کی جارحیت کے خلاف جدوجہد کی تھی اور ایک علیحدہ وطن حاصل کیا گیا تھا۔ اس پس منظر کے سبب صرف عوام کے منتخب نمائندے ہی حکمرانی کرنے کے مجاز ہو سکتے ہیں۔ فوج کی آمریت مسلط کرنے کے نتائج ہمیشہ تباہ کن اور افسوسناک ہی ثابت ہوں گے۔ اس کا عملی مظاہرہ خاص طور سے 1970 کے انتخابات کے بعد فوجی حکمران کی طرف سے منتخب اکثریتی رہنما کو ملک کا اقتدار نہ سونپنے کے بعد سامنے آنے والے حالات و واقعات سے کیا جا سکتا ہے۔ بے شمار قربانیوں کے بعد بہت سی امنگوں اور آرزوؤں سے حاصل کیا گیا یہ ملک غلط فیصلوں اور فوجی آمریت کی وجہ سے 1971 میں دولخت ہو گیا تھا۔

بدقسمتی سے اس کے بعد بھی سیاستدانوں کی غلطیوں اور فوجی جرنیلوں کی ہوس اقتدار کی وجہ سے تاریخ سے سبق سیکھنے اور امور مملکت کو اصول و قاعدہ اور آئین و قانون کے مطابق چلانے کی بجائے سول اور سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت جاری رہی۔ اس بار بار کی مداخلت ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں بتدریج ایسے حالات نے جنم لیا کہ پاک فوج کو سرحدوں پر دشمن کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے ہی ملک کے اندر ریاست کی باغی اور عوام دشمن قوتوں اور دہشت گرد گروہوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان خصوصی حالات میں سکیورٹی اور خارجہ معاملات میں فوج نے خاص طور سے گہرا اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ اسی لئے پاک فوج کے سربراہ اہم قومی امور پر رائے دینے اور فیصلوں میں حصہ لینے کے لئے وزیراعظم سے ملتے رہتے ہیں۔ ایسی ملاقاتوں میں انہیں جو اہمیت اور پروٹوکول دیا جاتا ہے، وہ کسی باضابطہ و طریقہ کار اور قانون کے تحت نہیں ہے۔ بلکہ قومی سلامتی اور اہم امور میں فوج کی خدمات کے اعتراف میں اس کے سربراہ کو غیر معمولی اہمیت اور مرتبہ حاصل ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات واضح کرنے اور طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی تقدیر کے فیصلے عوام کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں کریں گے یا جی ایچ کیو میں بیٹھنے والے پاک فوج کے سربراہ اہم معاملات پر یک طرفہ طور سے فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔

ملک میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے اکثر مباحث ہوتے رہتے ہیں۔ اس سوال پر بھی رائے میں اختلاف موجود رہتا ہے کہ فوج کو قومی معاملات میں کس حد تک مداخلت کا حق حاصل رہنا چاہئے۔ ملک میں سکیورٹی کی غیر معمولی صورتحال اور مسلسل جاری رہنے والے عدم استحکام کی وجہ سے رائے عامہ بھی فوج کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتی رہتی ہے۔ اس لئے اکثر جائزوں میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ آرمی چیف کی مقبولیت منتخب وزیراعظم سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود پاک فوج کو اس بات کا شعور ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کے نظام میں آئین پاکستان کے تحت قائم کیا ہوا ایک ادارہ ہے۔ اسے چلانے کے لئے پاکستان کے عوام کے فراہم کردہ وسائل سے بجٹ دیا جاتا ہے۔ یہ مالی ترسیلات قومی بجٹ کے حصہ کے طور پر پارلیمنٹ سے منظور ہوتی ہیں۔ کوئی فوجی سربراہ عوام کا ووٹ لے کر اپنی پوزیشن پر فائز نہیں ہوتا بلکہ ملک کا منتخب وزیراعظم عوام کی طرف سے ملنے والے اختیار کی بنیاد پر اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کس جنرل کو فوج کی کمان عطا کی جائے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سیاسی لیڈروں کی کوتاہیوں، غلطیوں، بدعنوانیوں اور کم علمی کے سبب ملک میں بے چینی اور سیاسی انتشار کی کیفیت موجود رہتی ہے۔ لیکن اب یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ فوج کے زیر انتظام ادارے اپنا اصل کام کرنے کی بجائے ملک کے سیاستدانوں کو مصروف اور دباؤ میں رکھنے کے لئے سیاسی عدم استحکام کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ بدنصیبی سے ملک کے سیاستدانوں اور میڈیا میں ایسی کٹھ پتلیاں موجود رہتی ہیں جو عسکری اداروں کے اشاروں پر منظر نامہ تیار کرنے اور خراب کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی ہتھکنڈوں کی وجہ سے ملک پر کوئی بھی پارٹی یا سیاسی گروہ حکمران ہو، اسے فوج کے مقابلے میں دفاعی پوزیشن پر رہنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاستدان فوج کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے یا ان پر بات کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ لیکن سیاستدانوں کی غلطیوں پر طوفان برپا رہتا ہے۔

ملک کی حفاظت کی ذمہ دار فوج کے کسی جرنیل یا دوسرے عہدے دار نے آج تک اس بات کا جواب نہیں دیا کہ یکم مئی 2011 کو امریکی فوج کس طرح پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئی اور ایبٹ آباد کے ایک مکان میں اسامہ بن لادن اور دیگر لوگوں کو ہلاک کر کے واپس جانے میں بھی کامیاب ہو گئی۔ اس طرح اس حادثہ کا بھی کوئی جوابدہ نہیں ہے کہ کس طرح امریکی فوج کے ڈرون طیارے نے ہفتہ کے روز پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں میزائل داغ کر طالبان کے لیڈر ملا اختر منصور کو ہلاک کر دیا۔ پاک دھرتی کی حفاظت جس ادارے کی ذمہ داری ہے، اسے ان المناک کوتاہیوں پر قوم کو جواب دینا چاہئے۔ اس کے بعد یہ سوال سامنے آئیں گے کہ دنیا کے بدترین دہشت گرد کیوں کر پاکستان میں ہی محفوظ طریقے سے رہنے، علاج کروانے اور سفر کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

قوم اور ملک کے سیاستدان اگر ان کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ فوج خود کو مملکت پاکستان کا واحد وارث اور مالک سمجھنا شروع کر دے۔ اب یہ بات طے ہونی چاہئے کہ وارث اور محافظ میں فرق ہے۔ فوج کو طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے اور حکومت کی معاونت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اس تناظر میں وزیر داخلہ کا اعتراض اور سوالات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 21 مئی کو ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ”پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنے، سرحدوں کے انتظام کی اسٹریٹجک ضرورت کے تحت انگور اڈا میں تعمیر کی گئی بارڈر چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے پاک افغان سرحد پر استحکام اور امن کے لئے عملی اقدامات ممکن ہوں گے۔ اس کارروائی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بارڈر سے متعلق تمام امور باہمی افہام و تفہیم سے طے کئے جائیں گے“۔ چوہدری نثار علی خان نے فوج کے اس یک طرفہ اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ :”چیک پوسٹ افغان حکام کو دینے کے حوالے سے قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس قسم کے اہم فیصلوں کے لئے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ ایسے معاملہ میں وزارت داخلہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ وزارت سرحدوں کے انتظام ، کنٹرول اور حفاظت کے معاملات کی نگران ہے۔ لیکن انگور اڈا کی چیک پوسٹ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو نظر انداز کیا گیا ہے“۔ وزیر داخلہ نے اس حوالے سے صورتحال واضح کرنے کے لئے وزیراعظم کو خط لکھا ہے۔

وزیراعظم اور حکومت کو یہ معاملہ اٹھانے، اسے کو قومی اسمبلی میں لانے اور ہمیشہ کے لئے یہ اصول طے کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ سرزمین اس خطے پر آباد لوگوں کی ملکیت ہے۔ اس کی سرحدوں کے تعین کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ صرف ان کے منتخب نمائندے یا ان کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے مناسب اختیار کے تحت کرنے کے مجاز ہیں۔ فوج اگرچہ ملک کا طاقتور اور منظم ترین ادارہ ہے لیکن پاکستانی سرزمین کے مالکانہ حقوق اسے تفویض نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی اسے اس انداز میں کارروائی کا حق دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن اگرچہ برصغیر کی آزادی سے پہلے برطانوی حکومت اور افغانستان کے امیر عبدالرحمن کے درمیان ایک معاہدے کے تحت طے شدہ معاملہ تھی۔ لیکن 1947 میں قیام پاکستان کے بعد کسی بھی افغان حکومت نے 2430 کلومیٹر طویل اس سرحد کو پاکستان کی سرحد تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ عالمی طور پر سے ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے افغانستان تو ان تمام علاقوں پر دعویٰ کرتا ہے جو کسی زمانے میں تاج کابل کے زیر انتظام تھے اور جسے بعد کے حکمرانوں نے افغانستان سے چھین لیا تھا۔ اس دعویٰ کو مان لیا جائے تو صرف قبائلی علاقے ہی نہیں، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے افغانستان کے حوالے کرنے پڑیں گے۔ ماہرین کے مطابق افغانستان پاکستان کے 60 فیصد رقبہ پر اپنا حق جتاتا ہے اور اب تک اس سوال پر کوئی معاہدہ کرنے پر تیار نہیں ہوا ہے۔

کسی مناسب طریقہ کار کے بغیر ایسے ”برادر اور ہمسایہ ملک“ کو سرحد پر کوئی چیک پوسٹ حوالے کرنا ایک خطرناک رجحان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان سرحد پر ”خیر سگالی“ کے اس مظاہرہ کے بعد مطالبات کی ایک طویل فہرست بھی پاکستان کے حوالے کر سکتا ہے۔ یہ ایک اہم قومی معاملہ ہے تاہم وزیر داخلہ کے سوا قوم کا کوئی لیڈر نہ تو اس پر پریشان ہے اور نہ آواز اٹھانا مناسب خیال کر رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali