ڈاکٹر یونس حسنی


????????????????????????????????????

ایم اے پریویس شعبۂ اردو میں استاد ڈاکٹر یونس حسنی بھی پڑھایا کرتے تھے ۔وہ 1995 ء میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو چکے تھے۔ مگر 2003ء اور 2004ء میں ہمیں بھی ان سے پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی شخصیت دیگر اساتذہ سے کچھ مختلف تھی،ان کا ایک مخصوص لباس تھا۔ وائٹ پاجامے اور وائٹ کرتے کے اوپر ہلکے رنگوں کی شیروانیاں پہنا کرتے تھے۔ شیروانی کے تین بٹن عام طور پر کھلے رہتے پر کبھی کبھی گرمی کی شدت سے بھی ایسا ہوجاتا تھا۔ بعد میں علم ہوا کہ یہ ان کا انداز ہے۔ شعبہ اردو کے کونسل روم میں بیٹھے ہوئے نظر آتے تو تھکن کی وجہ سے دونوں پیر اٹھا کر کرسی کے اوپر رکھ لیا کرتے تھے۔ پان تو اتر سے کھایا کرتے تھے۔ پان کی گلوری کی مخصوص ڈبیہ ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔ جس میں قرینے سے کتھا چونا لگے ہوئے پانوں کی گلوریاں ایک کے اوپر ایک رکھی ہوتی تھیں۔ پان کلے میں دبانے کے بعد شہادت کی انگلی پر لگا ہوا کتھا چونا ضرور چاٹتے۔ پان کو انتہائی مزے لے لے کر چباتے۔ دائیں جبڑے سے بائیں جبڑے پر منتقل کرتے ہو ئے گفتگو جاری رکھتے۔

ان کے چہرے کے خدوخال کچھ منفرد تھے۔ ابرو کمان جیسے تھے۔ اور گفتگو میں ابروا چکا کر بات کرنا، دھیمے انداز میں اور کبھی اس طرح مسکرانا کہ جیسے سب جانتے ہوں،دھڑلے سے بات کرنے کی عادت تھی عام طور پر کسی سے خوفزدہ نہیں ہو تے تھے۔ پان منہ میں رکھتے ہوئے اگر کوئی بغور انھیں دیکھنے لگتا تو فوراََ کہتے کہ ’’بی بی کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے‘‘۔

اگر ان کا کوئی طالب علم ان سے دوسرے استاد کی خوبیاں بیان کرنے لگتا تو فورا کہتے’’ کیا ہم تمھارے استاد نہیں ہیں ؟‘‘

جس سے وہ طالب علم شرمندہ ہو کر رہ جاتا۔ عام طور پر شرارت کے موڈ میں رہا کرتے بذلہ سنجی ان کی فطرت میں تھی۔ مگر کبھی کبھی مزاج بگڑ بھی جایا کرتا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب ہماری کلاس کے شرارتی طلبہ ان سے چھیڑ خانی پر آمادہ ہوتے ۔ تو کلاس کے ذہین طالب علم کو مخاطب کر کے کہتے کہ ’’ میاں ہم دھوپ میں گنجے نہیں ہوگئے ہیں۔ ایک عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔‘‘اکثر ہمارے ہم جماعت لڑکے کبھی اقبال، کبھی ن۔م راشد اور کبھی میرا جی کے حوالے سے الٹے سیدھے سوالات کرتے تو غصے میں آجاتے اور کہتے جتنی تمھاری عمر نہیں ہے اتنا میرا تجربہ ہے ۔

اپنی شیروانیوں کے مخصوص اندازکی وجہ سے نواب خاندان کے محسوس ہوا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان سے براہ راست سوال کیا کہ آپ کا تعلق ہندستان کے کس علاقے سے ہے تو علم ہوا کہ راجستھان کے شہر ٹونک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مادری زبان اردو تھی ۔ تعلیم کے حوالے سے بتایا کہ میٹرک، انٹر، بی اے اور ایم اے بھوپال سے کیا۔ نیز پی ایچ ۔ڈی بھی اس دور کے مشہور استاد ڈاکٹر ابو محمد سحر کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ حسنی صاحب کے مقالے کا عنوان’’ اختر شیرانی اور جدید اردو ادب ‘‘تھا۔1966ء میں انھوں نے پی ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی تھی۔حسنی صاحب جامعہ کراچی، شعبۂ اردو کے چیئر مین بھی رہے۔

ان کا پڑھانے کا اندازکچھ مختلف تھا۔ کلاس میں لیکچر دیتے وقت اکثر دونوں ہاتھ کمر پر باندھ کر ٹہلنے لگتے۔ کبھی کمر پر ہاتھ رکھ کر بھنویں اچکا اچکا کر معنی حیز مسکراہٹ کے ساتھ طالبِ علموں کو مخاطب کرتے۔اگر موسم خوشگوار ہوتا اور طلبہ پڑھنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تو وہ ایک دو مزاحیہ قصے سناتے طلبہ ان کی گفتگو میں دلچسپی لینے لگتے تو لیکچر شروع کر دیتے بعض اوقات کچھ پڑھاتے ہوئے چہرے کے تاثرات سے بھرپور اداکاری کر کے دکھاتے۔کلاس میں موجود من چلی لڑکیوں کی شرارت پر اکثر غصہ ہوتے ۔کبھی ایک پاؤں اٹھا کر کسی کرسی پہ ٹکا کر اپنے گھٹنے پہ کہنی رکھنا اور تھوڑی ہتھیلی پہ ٹکا کر کہنا کہ ’’ بی بی کیا آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بڈھا ستر سال سے اوپر کا ہوگیا ہے۔ اس لیے سٹھیا گیا ہے وغیرہ۔

1ہم نے تو ان سے ہمیشہ شاعری کے ہی کورس پڑھے۔ خودان کا کہنا تھا کہ مجھے’’ کلاسیکی شاعری‘‘ پڑھانا بہت پسند تھا۔ مگر دس سال ’’اردو شاعری کا سیاسی و سماجی پس منظر‘‘ اور’’ اردو کی نثری داستانیں ‘‘ پڑھانا پڑیں۔ معلومات و سیع تھیں۔ سمجھانے کا انداز سہل تھا۔ لڑکیاں اکثر ان کے لیکچر کے دوران ہنس دیتیں تو کبھی مسکرا کر ٹال جاتے۔ کبھی انتہائی ناراض ہو کر بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھتے ’’بی بی کیا کوئی لطیفہ سنا دیا ہے میں نے؟‘‘۔

گفتگو کے دوران کوئی نہ کوئی چٹکلا چھوڑنا ان کا مشغلہ تھا۔ اپنے دور کے کم عمر ترین پی ایچ۔ ڈی تھے۔ 1937 کی پیدائش تھی 1966 میں پی ایچ ۔ڈی کی سند حاصل کر لی تھی۔ انھوں نے گیان چند جین جیسے استاد سے بھی تلامذہ فیض حاصل کیا۔ ڈاکٹر یونس حسنی نے پاکستان آنے کے بعد اختر شیرانی کے دیگر پہلوؤں پر کام کیا۔ اختر شیرانی کے تمام شعری مجموعوں کی تر تیب و تدوین کی جو بہت عرق ریزی کاکام تھا۔ ایک دفعہ ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا1977ء تا 1978ء بچوں کے مشہور پرچے ’’نونہال‘‘ کے لیے کہانیاں بھی تحریر کیں۔خاکے لکھنے میں کمال حاصل تھا شعبۂ اردو کی ایک استاد کا کہنا ہے کہ حسنی صاحب بہترین خاکہ نگارہیں۔ حسنی صاحب نے اپنے دوستوں اور اساتذہ اور ہم منصب لوگوں کے خاکے تحریر کیے اور اپنے پی ایچ۔ ڈی کے نگران ڈاکٹر ابو محمد سحر کا خاکہ’’ استاذی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ جو ’’زیست‘‘میں شائع ہوا۔

ریٹائرمنٹ کو لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود حسنی صاحب کی مقولیت میں کمی نہیں آئی۔ کبھی ایچ ۔ای۔ سی کے تحت ایمینینٹ پروفیسر کے طور پر تو کبھی فل ٹائم اور پارٹ ٹائم پروفیسر جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے۔ اسی دوران محمد علی جناح یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی، سی بی ایم کالج، میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیے۔ کراچی اور دیگر شہروں کے طلبہ کے پی ایچ۔ ڈی کے ممتحن بھی رہے۔ جامعہ کراچی کا شعبۂ اردو دوسری منزل پر واقع ہے مگر اس کے باوجود حسنی صاحب پابندی سے کلاس لینے آیا کرتے تھے اگر طبیعت شدید نا ساز ہوتی تو کسی طالب علم کو پہلے سے مطلع کر دیتے ۔اکثر اوقات شعبہ اردو کے چپڑاسی یا طالب علم ان کا بیگ اٹھا کر دوسری منزل تک لایا کرتے تھے۔

اپنے پی ایچ ڈی کے ریسرچ اسکالرز کے لیے اکثر دوڑ دھوپ کرتے ہوئے نظر آیا کرتے ۔ ایک دفعہ میری بی ایس آر کے آفس میں ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ’’ سر آپ یہاں ؟‘‘ کہنے لگے کہ’’ اپنی ایک پی ایچ ڈی کی طالبہ کے کنورژن کے سلسلے میں آیا ہوں‘‘۔ اس طالبہ کے پی ایچ۔ ڈی کے موضوع پر بی ایس آر کی جانب سے کوئی آبجیکشن لگ گیا تھا۔

حسنی صاحب شاعری سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔شاعری سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ ہمیں اقبال کی نظم ’’ طلوع اسلام‘‘ ن،م راشد کی نظم، ایران میں اجنبی اور میراجی کی نظمیں پڑھاتے اورنظم آزاد ، نظم معری اور نثری نظم پر اظہار خیال بھی کرتے جاتے۔

ایک دفعہ ہماری ایک ہم جماعت اپنی نویں جماعت میں پڑھنے والی بہن کو یونیورسٹی لے آئی۔ حسنی صاحب کی کلاس شروع ہونے والی تھی۔ بڑی بہن نے کہا کہ ’’سر حسنی ہم کو نہیں پہچانتے انھیں کیا پتا چلے گا کہ تم ایم اے کی طالبہ ہو یا نہیں۔ ہماری جماعت میں بہت کم عمر نظر آنے والی لڑکیاں بھی موجود ہیں‘‘۔ ہم سب جیسے ہی کلاس لینے جانے لگے تو سر حسنی نے تمام لڑکیوں میں سے اسی لڑکی کو کلاس میں جانے سے روکتے ہوئے کہا کہ’’ کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘۔ اس بچی نے بڑی بہن کی جانب اشارہ کیا تو بڑی بہن کہنے لگی کہ ’’سر آپ نے کیسے پہچانا؟۔ ہفتے میں تین دن تو ہماری کلاس ہوتی ہے ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ ہمیں بھی نہیں جانتے تھے‘‘۔ بڑی بہن کی بے لاگ تبصرے پر سر حسنی نے اپنے مخصوص انداز میں اسے سر تا پیر گھورا پھر کہنے لگے کہ ’’میں عمر کی اس منزل پر ہوں جب بندہ قبر میں پاؤں لٹکا کر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔ کسی بھی وقت عزرائیل ؑ کی دستک سنائی دے سکتی ہے اس بچی کی سہمی ہوئی چال نے مجھے بتا دیا تھا کہ یہ کسی کے ساتھ آئی ہے۔‘‘

1968ء میں ان کی شادی فاطمہ جعفر سے ہوئی جو فاطمہ حسنی کہلاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں چار بیٹیوں سے نوازا مگر ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا۔ان کی بیٹیاں نہدیہ حسنی ، رباب حسنی، لُبینہ حسنی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں اچھی زندگی گذار رہی ہیں۔حسنی صاحب عام طور پر ذاتی گفتگو نہیں کیا کرتے مگرکچھ عرصے قبل ان سے ملاقات ہوئی داڑھ کی تکلیف کی وجہ سے کافی پریشان تھے، کہنے لگے’’ ایک داڑھ نے بڑا تنگ کیا ہوا ہے پوری زندگی پان چھالیہ اور تمباکو کھایا۔ اب اس عمر میں اس داڑھ میں ایسی تکلیف ہوگئی ہے کہ پچھلے دنوں ڈاکٹر نے اسے کینسر قرار دے دیا تھا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ حالیہ ٹیسٹوں میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ کینسر نہیں ہے اب ڈاکٹر بضد ہیں کہ داڑھ نکلوا دو، اور میں بھی اپنی ضد پر قائم ہوں کہ جتنی زندگی باقی رہ گئی اس داڑھ کے ساتھ ہی گزار دوں۔ کیا پتہ وہ آپریشن کریں اور کچھ سے کچھ ہوجائے‘‘۔ میں نے طبیعت کا دریافت کیا کہ’’ اب کیسی ہے ؟‘‘۔تو کہنے لگے کہ ’’جب ڈاکٹر نے کینسر قرار دے دیا تھا تو سمجھو کہ زندگی تقریباََ ختم ہو گئی تھی مگر جب سے علم ہوا ہے کہ ایسا نہیں ہے توتھوڑی بہت امید ہوگئی ہے۔ اکثر داڑھ کی تکلیف اور بڑھاپے کی وجہ سے رات بھر جاگتا ہوں اور راتوں کو جاگتے ہوئے زندگی میں ملنے والے اہم لوگوں کے خاکے اور دیگر چیزیں لکھتا رہتا ہوں جو علمی، ادبی اور تحقیقی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔‘‘

شعبہ اردو ، جامعہ کراچی نے بڑے نامور اساتذہ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ۔ ابو الیث صدیقی ، ابو الخیر کشفی، فرمان فتح پوری، وقار احمد رضوی، جمیل اختر ، سحر انصاری، صدیقہ ارمان،ڈاکٹر رؤف پاریکھ ،ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر یونس حسنی بھی شعبہ اردو کے اساتذہ میں اہم نام اور مقام رکھتے ہیں اور اب تک جامعہ اردو میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں بھی حسنی صاحب اردو کے حوالے سے ہو نے والی تقریبات میں بھرپور طریقے سے شریک ہوتے ہیں۔کسی نے ازراہ تفنن ان سے سوال کیا کہ ’’حضرت کیا آپ بھی وائس چانسلر کے عہدے کے لیے درخواست دے رہے ہیں ؟‘‘تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’’ یہ عہدے درخواست طلب کر کے نہیں دیے جاتے۔اگر اعزازی طور پر بھی مجھے یہ پیش کش کی جاتی تو میں کبھی قبول نہ کرتا۔‘‘اللہ تعالیٰ انھیں صحت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے ۔آمین۔

 


Comments

FB Login Required - comments