سر آئینہ اداکاری اور پس پردہ جادوگری کا المناک طربیہ


wajahatایک مہربان پڑھنے والے نے پوچھا کہ “نثر لکھتے لکھتے بیچ میں شعر کا ٹکڑا کیوں جڑ دیتے ہو؟ دلیل کو ایک طرف رکھ کے اس مصرعے کے معنی اور وجہ تسمیہ پر الگ سے غور کرنا پڑتا ہے”۔ اچھی بات کہ سیدھے سیدھے سوال پوچھ لیا ہے۔ ماسکو والے بھائی مجاہد مرزا کو یہی بات کہنا ہوتی ہے تو غیر کی طرف منہ کر کے چوٹ کرتے ہیں کہ “وہ تو آرائشی نثر لکھتا ہے”۔ آرائش کی اچھی کہی۔ بھائی آرائش خم کاکل اس لئے لکھتے ہیں کہ اندیشہ ہائے دور دراز کے بیان کی کلفت سے رہائی ہو، اندوہ وفا سے چھوٹیں۔ یوں تو مکرمی مشتاق احمد یوسفی نے بھی فرمایا کہ اردو نثر کو غزل کے رہٹارک نے ڈبویا۔ یہ الگ بات کہ قبلہ یوسفی صاحب کو جہاں اپنے دو آتشہ بیان کی آنچ ذرا تیز کرنا ہو تو نثر کی بلا غزل کے سر رکھ دیتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو مشتاق احمد یوسفی کی ساری نثر استاد کی مرصع غزل کا درجہ رکھتی ہے۔ بات یہ ہے کہ کالم نگار کو سیاست اور معاشرت کے بنتے بگڑتے خدوخال کے کیف و کم پر نظر رکھتے ہوئے کچھ نتائج کشید کرنا ہوتے ہیں۔ کالم نگار، وقائع نگار یعنی رپورٹر تو ہے نہیں جسے اہل حکم کی بارگاہوں تک براہ راست رسائی ہو اور شب رفتہ کی سرگرانیوں کا احوال لکھ سکے۔ واقعات کا عینی شاہد ہو یا حقائق کی کھوج میں موقع پر پہنچا ہو۔ کالم نگار کی ایک آنکھ خبر پر ہوتی ہے اور ایک آنکھ تناظر پر۔ خبر تازہ واقعہ ہے اور تناظر ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا تا حد نظر پھیلا سلسلہ، کالم نگار اپنے تئیں ان دو بے حس و حرکت پتھر کی مورتیوں سے کلام کشید کرنے کی جستجو میں ہوتا ہے۔ کالم تجسیم اور پرچھائیں کے تعلق کا بیان ہے اور جب اس میں شعر کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے تو دراصل قلم کے بیان پر شاعر کی گواہی لی جاتی ہے۔ شاعر وہ آفت ہے جس نے برسوں ریاض کر کے ایک لحن دریافت کیا اور پھر اس لحن کی پڑھنے والوں تک رسائی سے بہرہ مند ہوا۔ غزل کا شاعر نرا گیانی ہی نہیں، ایسا داتا بھی ہے جو اپنے اندر اٹھتے بپھرتے بل کھاتے سمندری طوفانوں کو دو مصرعوں کی پیالی میں ڈال کے ہمیں دان کر دیتا ہے۔ شعر ادراک اور احساس کی کیفیات کا استعاراتی بیان ہی تو ہے۔ کالم نگار شعر کا سہارا لیتا ہے تو گویا سامنے کے واقعات کو روایت کے سانچے میں رکھ دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کالم نگار کو دو ٹوک انداز میں اپنا مدعا بیان کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ دیکھئے قائد اعظم محمد علی جناح اور جدوجہد آزادی کے دوسرے رہنماؤں کو علامت نگاری کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ البتہ سیاست میں پالیسی اور نعرے (posture) کا زاویہ ضرور ہوتا ہے۔ دقیق آئینی اور معاشی معاملات کو عوام کے لئے آسان زبان میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ گاندھی جی کہتے تھے “ہندوستان چھوڑ دو” اور قائداعظم کہتے تھے “تقسیم کرو اور چھوڑ دو”۔ یہ دو سامنے کی باتیں ہیں۔ جو کہا جا رہا ہے اس کا مفھوم کہنے اور سننے والوں پر واضح ہے۔ قائد اعظم اور پنڈت نہرو شملہ کی میز پر بیٹھے تو ایک فریق کو دوسرے کے بیان کا مافی الضمیر بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ یہ مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب ریاست نظریاتی چولا اوڑھ لیتی ہے۔ نظریاتی ریاست دراصل اقتدار کے دعوے داروں کے کسی ایک فریق کا اختیار پر اجارہ داری کا قضیہ ہوتا ہے۔ آمریت کو نظریے کا خوشنما لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ آمریت وہ جاں گداز غم ہے جس میں غم خواروں کو روگ بیان کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مرض کی تشخیص کو غداری قرار دیا جاتا ہے۔ مسئلے کے سیدھے بیان کو ملک دشمنی قرار دیا جاتا ہے۔ تیمارداروں کو دشمن ٹھہرایا جاتا ہے۔ حکومت کے مخالفوں کو ریاست کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ عوام کے نام پر عوام سے ہونے والی فریب کاری کی نشاندہی کرنے والوں کے لئے نت نئی گالیاں ایجاد کی جاتی ہیں۔ ہم نے اس ملک میں کسی کو نظریہ پاکستان کا مخالف قرار دیا، کسی کو سیکیورٹی رسک کہا اور کسی کو دانشور کا نام دے کر مطعون ٹھہرایا۔ ضیاالحق کے دور میں سیاسی کارکنوں کو تخریب کار کہا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تقریریوں میں عوام اور استحصال کا لفظ استعمال کرتے تھے تو وہ پالیسی کو نعرے کی شکل دیتے تھے۔ لیکن بے نظیر بھٹو کو چمک کا لفظ اس لئے اختراع کرنا پڑتا تھا کہ وہ جو جانتی تھیں اسے بیان کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب صحافی کچھ اداروں کو حساس قرار دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ باقی قوم کو بے حس قرار دے رہا ہے۔ صحافی تو اپنی یہ مجبوری بیان کرتا ہے کہ اسے لکھتے رہنا ہے اور یہ کہ اسے خبر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ جارج آرویل، اینمل فارم اور بگ برادر کی اصطلاحات استعمال کرتا ہے تو وہ ادب کو تہ داری دیتا ہے۔ لیکن سیاستدان کو غلیل اور دلیل کے استعارے استعمال کرنا پڑتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قومی منظر پر ایسے ماورائے آئین اور غیر قانونی زاویے جنم لے چکے ہیں جن کا بیان بھی خرابی سے خالی نہیں۔ ایک صحافی زمینی حقائق کا ذکر کرتا ہے تو معلوم کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ صحافی کا عجز بیان ہے یا زور آور کی عذر خواہی۔ کچھ برس پہلے والد مرحوم سے ملنے گیا تو ان کے پاس تازہ اخبار رکھا تھا۔ کہنے لگے یہ اسٹیٹس کو کیا ہوتا ہے۔ کیسے بتاتا؟ اگر بتانا ممکن ہوتا تو اخبار کے صحافی نے اسٹیٹس کو لکھا ہی کیوں ہوتا۔ بات بنا دی کہ ابا یہ جو گوجرانوالہ کچہری سے اسٹے آرڈر جاری کئے جاتے ہیں انہیں قانون کی زبان میں اسٹیٹس کو کہتے ہیں۔ جنت مکانی کچھ نہیں سمجھے اور سمجھانا ممکن بھی نہیں تھا۔ سادہ شعر سمجھ لیتے تھے مگر جب فیض کا شعر پڑھا جاتا تو خاموش ہو جاتے تھے۔

آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے

چپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھوٹے

ابا مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ سے پاکستان آئے تو پچیس برس کے تھے۔ ان کے دل سے یہ خوشی کبھی دور نہیں ہوئی کہ انھیں آزادی مل گئی تھی اور یہ کہ وہ پاکستان پہنچ گئے تھے۔ انھیں یہ سمجھانا بہت مشکل تھا کہ آزادی تو مل گئی ہے مگر آزادی کی روبکار لانے والا کسی اور سمت نکل گیا ہے اور ہم ایک ناگہانی کے مسلسل خوف میں ہیں۔ ظہور نظر کہتے تھے۔ رات بھر چاروں طرف اک چاپ سی آتی رہی۔ رات کے سناٹے میں آنے والی چاپ کا خوف جان لیوا ہوتا ہے۔ اور یہ خوف اور بھی بڑھ جاتا ہے جب یہ چاپ کبھی ایبٹ آباد میں سنائی دیتی ہے تو کبھی نوشکی میں۔ کبھی ڈھاکہ کے میر پور پل پر چاپ سنائی دیتی ہے تو کبھی پنڈی جیل کے دروازے پر۔ یہ چاپ لیاقت باغ پنڈی میں بھی سنائی دیتی ہے اور ڈیرہ بگٹی کی پہاڑیوں پر بھی۔ پوچھنا پڑتا ہے کہ گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے یا شہر کے دوسرے کونے میں خود کش دھماکہ ہوا ہے۔ مسلسل فائرنگ کی آواز کسی نودولتیہ گھرانے میں شادی کا شور ہے یا گھر کے پچھواڑے میں کسی کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ اچانک اوجھل ہونے والے نوجوان کو خرکار لے گئے ہیں یا وہ اہل کاروں کی تحویل میں ہے۔ وزیراعظم ناسازیِ طبع کی وجہ سے لندن گئے ہیں یا دارالحکومت میں درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ میڈیا آزاد ہوگیا ہے یا یکسر آزاد ہوگیا ہے۔ صحافی نے ادارہ تبدیل کیا ہے یا موقف تبدیل کر لیا ہے۔

بنیادی سوالات کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی ثقافت رائج کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی مکالمے اور موضوعی مسائل میں حد فاصل قائم کی جائے۔ جرم اور گناہ میں امتیاز کیا جائے۔ ریاست اور حکومت کے درمیان فرق قائم رکھا جائے۔ اخبار میں خبر اور رائے کے لئے الگ صفحات تفویض کئے جائیں۔ اینکر پرسن ثالث کا کردار ادا نہ کرے۔ قومی بجٹ کے صفحات پر سیاہی نہ پھیری جائے۔ قانون کے لفظ سے اختلاف کرنے والوں پر تقدیس کے تیر نہ چلائے جائیں۔ رائے کو جرم نہ سمجھا جائے۔ کراچی اور کچے کے علاقے میں “نو گو ایریاز” تب بنتے ہیں جب سوچ اور خیال میں نو گو ایریاز بنا لئے جائیں۔ مکالمے کی ثقافت ختم ہو جائے تو سیاست سرِ آئینہ اداکاری میں بدل جاتی ہے۔ پس پردہ جادو گری جاری رہتی ہے۔ المیہ اگر ایک ہی نمونے پر بار بار دہرایا جائے تو افسوسناک طربیہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بات نثر سے چلی تھی اور نامعلوم سرنگوں سے ہوتی ہوئی غاروں کی طرف نکل گئی۔ تو پھر شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ سلیم کوثر کہتے ہیں۔

اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رت بدلنی تو ہے

خیمہ خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے رت بدلنی تو ہے

کیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاں

بزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رت بدلنی تو ہے

عشق ایجاد ہم سے ہوا ہے سو ہم، اس کے رمز و کنایہ سے واقف بھی ہیں

تیرے بیمار کی یہ جو حالت ہے آخر سنبھلنی تو ہے، رت بدلنی تو ہے


Comments

FB Login Required - comments