نقاد کی خدائی: عسکری اور فسادات کا ادب (3)


ajmal kamalانکسار کا تقاضا ہے کہ آدمی اگر عرفان کا اعلان کر رہا ہو تو یہ بھی بتائے کہ وہ ٹھیک راستے پر کیسے پہنچا۔ عسکری کا انکسار اس بلند درجے کا ہے کہ وہ اپنے ہی طے کردہ اس اصول کو بھی استعمال نہیں کرتے کہ کہیں خودپسندی کا الزام نہ آجائے۔ اور پھر اپنے کیمیائی اور حیاتیاتی افعال کو سرِبازار بیان کرنا بھی تو بدذوقی ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ اپنے پہلے کالم میں اپنی اس مجبوری کا اعلان کر چکے تھے کہ میں ادب اور زندگی کو معروضی حیثیت سے نہیں پیش کر سکتا۔ جہاں تک پڑھنے والے کا تعلق ہے، وہ ان کی اس اطلاع پر کہ ‘‘مجھے کل عرفان حاصل ہو گیا’’ انھیں صرف مبارکباد پیش کر سکتا ہے۔ مبارکباد کے لیے لفظوں کا انتخاب ہر شخص کی مرضی پر موقوف ہے، آپ چاہیں تو MANY HAPPY RETURNS بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ دعا نہ بھی دیں تو کچھ فرق نہیں پڑتا، کیونکہ عسکری ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی زندگی میں یہ مبارک موقع اگر آتا بھی ہے تو بس ایک آدھ بار۔

آپ کو ارشمیدس کا قصہ یاد ہو گا جو ‘‘یوریکا! یوریکا!’’ چلّاتا ہوا اپنے غسل خانے سے بازار میں نکل آیا تھا۔ لوگوں نے اسے مبارکباد دی ہو گی یا نہیں، اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں، کیونکہ اس کا عرفان ایک سائنسی اصول کی دریافت پر مبنی تھا جسے آج بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ ذرا خیال فرمائیے کہ اگر وہ ہر جمعے کو، کپڑوں سے بےنیاز، اپنے غسل خانے سے بھاگ کھڑا ہونے کا وطیرہ اختیار کر لیتا اور اس کا عرفان ہر بار نئے کینڈے کا اور ہر بار دلیل و شہادت سے بےنیاز ہوتا تو لوگ اس کی داد یا مبارکباد کس طرح دیتے۔ میرے ایک مشفق ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کیفیت کو CHRONIC UREKITIS کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ اسے متعدّی بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اثرپذیر سعادت مند PREMATURE UREKITIS کا شکار ہو سکتے ہیں۔

عسکری کے اسلوب کی ایک اَور نمایاں خصوصیت ان کا طنز ہے۔ کون ہے جو اُن کے کاٹ دار فقروں سے محظوظ یا مشتعل (یا بیک وقت محظوظ اور مشتعل) نہ ہوا ہو۔ اس طنز کا پیرایہ بعض اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے جسے بعض لوگ ناشائستہ، غیرمتوازن یا انصاف سے بعید قرار دیتے ہیں۔ عسکری صاف گو آدمی ہیں اور صاف گوئی کا مطلب، بہ قولِ مشفق خواجہ، لازمی طور پر حق گوئی نہیں ہوتا۔ عسکری اکبر الہ آبادی کے بھی بہت قائل ہیں اور اردو شاعری میں ہجو کی روایت کے بھی، اور ان دونوں کے تخلیقی اثرات ان کے تنقیدی اسلوب میں اس حد تک اور اس عمدگی سے پیوست ہیں کہ انھیں جدا کرنے کی کوشش کی جائے تو عسکری کی نثر اپنی ایک نمایاں ترین خوبی سے محروم ہو جائے گی۔ مظفر علی سید نے ایک بار کہا تھا کہ لہجہ بھی در اصل نفسِ مضمون کا حصہ ہوتا ہے۔ عسکری کے اسلوب پر غور کرتے ہوے یہ بات بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ اَور بات ہے کہ کہیں کہیں ان کا طنزیہ لہجہ نفسِ مضمون میں استدلال کی کمی بھی پوری کر دیتا ہے۔ طنز کا استعمال عسکری کے ہاں موقعے کی مناسبت سے شگفتگی کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور زہرناکی کے ساتھ بھی۔ کہیں کوئی طنزیہ فقرہ عسکری کی دلیل کا پُرلطف پیرایۂ بیان ہوتا ہے اور کہیں پڑھنے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خرابی اس چیز میں ہے جس کی تنقیص کی جا رہی ہے یا لکھنے والے کے کیمیائی یا حیاتیاتی افعال میں۔ موخرالذکر صورت اُس وقت پیش آتی ہے جب عسکری کسی دلیل کی عدم موجودگی کو چھپانے کے لیے طنز کا استعمال کرتے ہیں اور معروضیت سے (خود اپنے لفظوں میں) اپنے ‘‘باپ مارے کے بیر’’ کا ثبوت دیتے ہیں۔ چونکہ یہ بات ایک سنگین الزام معلوم ہوتی ہے اس لیے مجھ پر لازم ہے کہ اس کی کوئی مثال بھی پیش کروں اور محض طنزیہ فقرے سے کام چلانے کی کوشش نہ کروں خواہ وہ فقرہ عسکری ہی کا کیوں نہ ہو۔

مئی 1944ء کے ‘‘ساقی’’ میں نئی شاعری کے معترضین (‘‘جمال پسندوں’’) کو جواب دیتے ہوے عسکری لکھتے ہیں:

Muhammad Hassan Askari‘‘جب آپ نئی شاعری پر صرف و محض اشتراکیت کا پراپیگنڈا ہونے کا الزام لگاتے ہیں تو پھر اپنے نظریے کو بھول جاتے ہیں جو آپ صرف اعتراض کرنے کے لیے گھڑتے ہیں، اپنی رہنمائی کے لیے نہیں۔ پہلے تو آپ نے دعویٰ کیا کہ شاعری میں رنگینی ہونی چاہیے، دوسری ہانک لگائی کہ نئی شاعری اخلاقیات کا پراپیگنڈا کیوں نہیں کرتی، اور اب آپ کو اخلاقیات کے پرچار پر بھی اعتراض ہے، کیونکہ اشتراکیت ایک اخلاقی نظام بھی تو ہے۔ پہلے یہ تصفیہ کیجیے کہ آپ کو اعتراض اشتراکیت پر ہے یا پرچار پر۔ اگر پرچار پر ہے تو پھر آپ اپنے اخلاقی نظام کی قصیدہ سرائی ہم سے کیوں چاہتے ہیں؟ اگر اشتراکیت سے آپ کو اتفاق نہیں تو نہ ہو، آپ کو اپنی پسند کا اختیار ہے، اسی طرح دوسروں کو بھی۔ اگر شاعر کا اشتراکیت پر ایمان ہے تو وہ اس کی شاعری میں تو حارج نہیں ہو سکتی۔’’

یہاں اشتراکیت کا نظریہ رکھنے والوں کے ساتھ عسکری کے بھلمنسئی کے اس برتاؤ کی طرف توجہ دلانا غیرضروری ہے جو وہ کبھی کبھار کرنے پر قادر ہیں۔ میں صرف یہ نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مندرجہ بالا اقتباس میں اُن لوگوں کی بھد اڑانا مقصود ہے جنھیں عسکری ‘‘جمال پسند’’ کہتے ہیں، خواہ اس سلسلے میں ترقی پسندوں کو تھوڑی دیر کے لیے برابر کا انسان ہی کیوں نہ فرض کرنا پڑے؛ بعد میں ان سے بھی نمٹ لیا جائے گا۔ ان سے نمٹنے کا ایک موقع ‘‘ساقی’’ ہی کے صفحات میں اکتوبر 1945 میں آیا:

‘‘جس زمانے میں مَیں دوسری یا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے ایک ساتھی تھے جو بعد میں خیر سے حکیم ہوئے، لیکن انھوں نے اُسی زمانے میں ایک نسخہ تصنیف فرما دیا تھا، اور نسخہ بھی کیا، اسے تو معجزہ کہنا چاہیے۔ کوئی مرض اس کی زد سے باہر ہی نہیں تھا۔ اُس وقت تو انھیں اپنی جدتِ طبع کی داد منشی جی کی چھڑی سے خوب ملی، لیکن شاید یہ نسخہ ایسا طبع زاد بھی نہیں بلکہ مدرسوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ بہرحال، چونکہ اس کے فوائد ایسے گوناگوں ہیں اس لیے آپ کے کان میں بھی پڑ ہی جائیں تو اچھا ہے۔ نسخہ حرف بہ حرف نقل ہے: گاڑی کی چوں چوں دو سو من، چرخے کی گھوں گھوں پانچ سو من، مچھر کا کلیجہ سات سو من، مکھی کا بھیجا نو سو من۔ ان سب اجزا کو اچھی طرح کوٹ کر کنجر کے لنگوٹے میں چھانا جائے اور پھر استعمال میں لایا جائے۔ انشاء اللہ ہر مرض کے لیے تیربہدف ثابت ہو گا۔

ایک ایسا ہی مجرب اور خاندانی نسخہ ترقی پسندوں کے پاس بھی ہے۔ یہ نسخہ ہُو المارکس سے شروع ہوتا ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں:

طبقاتی کش مکش، مادی جدلیات، ذرائع پیداوار اور اسی قسم کی دوسری کھادیں۔ رہا سوال کنجر کے لنگوٹے کا تو وہ کسر کاڈویل کی کتاب ILLUSION AND REALITY سے پوری ہو جاتی ہے۔’’

ایک بار پھر آپ کی توجہ ان بدیہی نتیجوں کی طرف دلانے کی ضرورت نہیں جو اس اقتباس سے برآمد ہوتے ہیں۔ میں تو آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایک برادرِ خورد (وہ بڑے بھائی تھے مگر اس سے ان کے برادرِ خورد ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا) عسکری پر یہ تہمت لگانے سے بھی نہیں چُوکے تھے کہ وہ مخالف نقطہ نظر اور دوسروں کی خودی کا احترام کرنا جانتے تھے۔ مزید برآں، دوسروں کی خودی کا احترام کرنے ہوے آپ کو یہ خوش خبری سنانا چاہتا ہوں کہ یہ نسخہ جو قدیم سے ‘‘سینہ بہ سینہ’’ منتقل ہوتا چلا آیا ہے، مجھ تک بھی پہنچا۔ ہوتے ہوتے اس کی صورت کچھ یوں ہو گئی تھی: ‘‘سینہ بہ سینہ زبانی روایت ڈیڑھ سو من، قرونِ وسطیٰ کی مابعدالطبیعیات ڈھائی سو من، جدیدیت عرف مغربی گمراہیوں کی کھاد ساڑھے تین سو من، مزاروں کی قوالی مع خیال کی گائیکی ساڑھے چار سو من، بہشتی زیور سے جنسی لذت کا سبق لے کر پیڑو کی آنچ سے بولائی بولائی پھرنے والی لڑکیاں اور اسی قسم کی دوسری شباب آور جڑی بُوٹیاں حسبِ ضرورت۔ ان سب اجزا کو قرونِ وسطیٰ ہی کے احتسابی ہاون دستے میں کوٹ لیا جائے۔ اب سوال پیدا ہو گا کنجر کے لنگوٹے کا، سو وہ آپ کے ذوق اور استطاعت پر منحصر ہے۔ اگر فرانس سے درآمدشدہ لنگوٹوں سے رغبت ہو تو (ایک صاحب) رینے گینوں کی کتاب CRISIS OF THE MODERN WORLD کو کام میں لائیے ورنہ اپنے الہ آباد والے فراق صاحب کا لنگوٹا تو کہیں گیا ہی نہیں۔’’

Firaq-Gorakhpuriیہ نسخہ آپ کی طبعِ حکیمانہ کو ناگوار محسوس ہو تو میں بےقصور ہوں۔ سینہ بہ سینہ روایت میں تو یہی ہوتا ہے۔ کیا پتا بیچ میں کوئی راوی کچا یا بےایمان نکل گیا ہو اور نسخے کے اجزا میں کچھ ردوبدل ہو گیا ہو۔ بہرحال نسخے کے سب اجزا مستند نہ بھی ہوں تو کیمیائی یا حیاتیاتی افعال کے چھوٹے موٹے اختلال کا تو علاج روایت کی برکت سے ہو ہی سکتا ہے۔

اپنے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت کی جانب عسکری نے اپنے مضمون ‘‘فن برائے فن’’ کے آغاز میں خود بھی اشارہ کیا ہے:

‘‘بعض حضرات کو مجھ سے یہ شکایت ہے کہ یہ اچھے خاصے علمی مضمون کو کرخنداروں کی زبان میں ادا کرکے مبتذل بنا دیتا ہے۔ خداجانے ان بزرگوں کو میری ایک اس سے بھی زیادہ تشویش ناک اور بنیادی ابتذال پسندی کا احساس ابھی تک کیوں نہیں ہوا۔ بڑے بڑے نظریوں اور مذاہبِ فکر پر غور کرتے ہوئے عام طور سے میں نے ان کے صحیح ترین تصور کے بجائے مقبول ترین تصور کو پیشِ نظر رکھا ہے۔’’

‘‘عام طور سے’’ کے الفاظ سے یہ تو وضاحت ہو جاتی ہے کہ عسکری ہر نظریے یا مذہبِ فکر کے سلسلے میں یہ طریقہ استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھتے، لیکن اس سوال کا کوئی فوری جواب نہیں ملتا کہ کہاں وہ اس طریقے کا استعمال روا رکھتے ہیں اور کہاں اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔ ‘‘صحیح ترین’’ اور ‘‘مقبول ترین’’ قصور کا فرق بہت کارآمد ہو سکتا ہے اگر مثلاً اسے نظریے اور عمل کے درمیان موازنے کے لیے استعمال کیا جائے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی نظریے کی دونوں شکلوں کو بیک وقت سامنے رکھا جائے۔ یہ طرزِتنقید عسکری کی تحریروں میں مشکل ہی سے ملتا ہے۔ اشتراکیت ہی کو لیجیے جو عسکری کے زمانے کے مقبول نظریوں میں سے ایک تھا۔ اس کا ذکر عسکری کے ہاں ‘‘اشتراکیت ایک اخلاقی نظام بھی تو ہے’’ کے لفظوں میں بھی آتا ہے اور ‘‘قلیوں کی ہڑتال’’ کی پھبتی کے طور پر بھی۔ لیکن وہ ایک وقت میں ایک ہی جلوہ اپنے سامنے رکھنے کے قائل ہیں۔ چونکہ انھوں نے ‘‘ساقی’’ میں اپنا پہلا کالم لکھتے ہوے کہہ دیا تھا کہ ‘‘میں ادب اور زندگی کو معروضی حیثیت سے نہیں پیش کر سکتا’’، اس لیے اگر ان کی تحریروں میں کہیں یہ محسوس ہو کہ کسی مذہب فکر کے ‘‘صحیح ترین تصور’’ کا موازنہ کسی دوسرے نظریے کے ‘‘مقبول ترین تصور’’ سے کیا جا رہا ہے تو اس اعتراض کی گنجائش نہیں نکلتی کہ عسکری نے کوئی دعویٰ کیا تھا اور اس کے برخلاف عمل کیا۔ یہ نتیجہ البتہ برآمد کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔

‘‘صحیح ترین’’ اور ‘‘مقبول ترین’’ کی اصطلاحیں خاص توجہ کی مستحق ہیں کیونکہ ان سے معروضیت کی بُو آتی ہے۔ عسکری ان اصطلاحوں سے کیا مراد لیتے ہیں، اس کے لیے ان کے ‘‘فن برائے فن’’ والے مضمون کو آخر تک پڑھنا مفید ہو گا۔ اس مضمون کی تمہید سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ فن برائے فن کے نظریے کے مقبول ترین تصور کو پیشِ نظر رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یعنی اس نظریے کی اُن تعبیروں کو جو عام طور پر رائج ہیں، لیکن اصل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ ان مروجہ تعبیروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے اُن ادیبوں سے براہِ راست رجوع کرتے ہیں جنھیں اس نظریے کا عامل کہا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں کا تفصیل سے جائزہ لے کر وہ درحقیقت فن برائے فن کی نظریے کے اس تصور تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک صحیح ترین ہے۔ اور اس عمل کے دوران یہ نکتہ واضح کر دیتے ہیں کہ کسی ادبی نظریے یا مکتب فکر کی صحیح ترین شکل تک پہنچنا مقصود تو اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بجاے اس نظریے کے حامل، یا اس پر عامل، ادیبوں کی تحریروں سے رجوع کرنا ناگزیر ہو گا۔ (یہ اَور بات ہے کہ ‘‘فن برائے فن’’ کے نظریے کے ترجمان سمجھے جانے والے ادیبوں کے متعلق رائج ‘‘مقبول ترین’’ تصور کو رد کرنے کے جوش میں عسکری انھیں اچھا خاصا حالی بلکہ کرشن چندر ثابت کر کے چھوڑتے ہیں۔) ادیبوں کے کسی خاص گروہ یا اجتماع کے متعلق ‘‘مقبول ترین تصور’’ کے فروغ میں تنقید کیا کردار ادا کرتی ہے، اسے عسکری نے اسی مضمون میں یوں بیان کیا ہے:

‘‘انیسویں صدی کے پہلے پچاس سال تک تنقید کا عام اور غالب رجحان یہی تھا کہ ادب کے مقاصد میں نفع اور لطف دونوں چیزیں شامل ہیں۔ اس کے بعد یا تو نفع کی شرط بالکل ہی اڑا دی جاتی ہے یا اس کا ذکر دبی زبان سے ہوتا ہے۔ نظریہ سازوں کے ذہن ہیں ‘لطف’ کا تصور جتنا ارفع و اعلیٰ ہو وہ الگ چیز ہے، مگر عام آدمی اس لفظ کا مطلب بہت ہی مفعولی قسم کی لذت اندوزی یا سُرور سمجھتا ہے۔ ایک خاص میلان رکھنے والی تنقید اسی مفہوم پر زور دیتی ہے تاکہ چند ادیبوں کے متعلق عام لوگوں کا یہ عقیدہ اور مضبوط ہو جائے کہ یہ تو دن رات پلنگ میں پڑے ‘جمالیاتی تسکین’ کی چسکیاں لیتے رہتے تھے۔’’

اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک سے زائد ادیبوں کو ایک مخصوص خانے میں رکھ کر ان کے بارے میں ایک مخصوص اور غیرحقیقی تصور کو مقبول بنانا تنقید کا ایک خطرناک اور گمراہ کن عمل ہے۔ لیکن، بدنیتی کو اگر فی الحال بحث سے خارج رکھا جائے تو بھی، تحریروں کے کسی ذخیرے پر اظہار رائے کرتے ہوئے اس کے اجزا میں کوئی ایک یا چند مشترک خصوصیات دریافت کرنا تنقید کی ناگزیر مجبوری ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے کسی بھی ذخیرے میں، معاشرتی یا دیگر عوامل کے زیر اثر، ایک یا زیادہ خصوصیات کا مشترک ہونا امکان سے باہر نہیں ہے؛ لیکن ان کا بیان، خصوصاً اگر وہ بدنیتی یا بےاحتیاطی پر مبنی ہو، اس ذخیرے کے بارے میں پڑھنے والوں کے تصورات کو کسی طرح سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک تو اس سے وہ خصوصیات نظرانداز ہو جاتی ہیں جو ان متفرق تحریروں میں مشترک نہیں ہیں؛ دوسرے یہ کہ مختلف ادیبوں کی انفرادی خصوصیات کے پسِ پشت جا پڑتی ہیں؛ تیسرا اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مشترک خصوصیات کے بیان سے نقاد اپنی مرضی کے نتائج برآمد کر کے اس ذخیرے کی تقدیر پر گویا مہر لگا دیتا ہے۔ اردو ادب میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض منفرد ادیب، جو اس رجحان سے متعلق نہیں سمجھے گئے جسے نقادوں نے ان کے دور کا غالب رجحان قرار دیا، مکمل طور پر نظرانداز ہو گئے۔

جہاں تک میں سمجھا ہوں، عسکری نے ‘‘ایک خاص میلان رکھنے والی تنقید’’ کے اس ‘‘غیرمحتاط’’ عمل کی طرف اشارہ کر کے انھی خطروں کی نشاندہی کی ہے۔ قرۃ العین حیدر نے بھی اردو تنقید کے اسٹیریوٹائپ پر اسی قسم کا اعتراض کیا ہے کہ اس میں ‘‘اصلاحی ادب’’، ‘‘رومانی ادب’’، ‘‘ترقی پسند ادب’’ اور ادب کی دسری اقسام کی واٹرٹائٹ خانہ بندی اور فہرست سازی تقریباً یکساں الفاظ میں کی جاتی ہے۔ کہتی ہیں:

‘‘اس اسٹیریوٹائپ تنقید کا ایک وصف یہ ہے کہ مثلاً رومانی دور میں کوئی چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ لکھی گئی ہو اسے قابلِ اعتنا نہ سمجھا جائے گا۔ اپنے عروج کے زمانے میں ترقی پسندوں نے بہت سوں پر یہ لیبل چپکا کر انھیں راندۂ درگاہ قرار دے دیا۔’’

ترقی پسندوں کے ساتھ بھی اس سے بہتر سلوک نہیں ہونے والا تھا۔ ترقی پسندوں کے مخالف نقادوں نے رفتہ رفتہ اس بات کو گویا ایک ثابت شدہ حقیقت کا درجہ دے دیا ہے کہ ‘‘وہ لوگ’’ کمیونسٹ پارٹی سے ہدایات حاصل کر کے ان کی حرف بہ حرف پابندی کرتے ہوے افسانے، نظمیں اور غزلیں ‘‘تیار’’ کرتے تھے جن کا مقصد ‘‘قلیوں کی ہڑتال کرانا’’ یا قحط زدہ لوگوں کا ذکر کر کے اپنی رحم دلی کا سکہ بٹھانا ہوتا تھا۔ نقادوں کا چلایا ہوا سکہ اتنا رائج ہو گیا ہے کہ اس کے خلاف ملنے والی شہادتیں بھی اس کے اثر کا توڑ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ بہرحال، نقاد کا موضوعِ بحث خواہ ‘‘ترقی پسندی’’ ہو یا ‘‘رومانی دور’’ یا ‘‘جمال پرستوں کا ادب’’، یہ بات ہمیشہ نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ ادب کا کوئی بھی رجحان ساتھ چلنے والے ہر ادیب کو بڑا ادیب نہیں بنا سکتا، اور کسی ادب کی تاریخ میں اس رجحان کی مجموعی قدروقیمت کا تعین بڑی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments