نوشکی : ڈرون حملے کے متعلق  24گھنٹوں میں اہم انکشافات متوقع


droanنوشکی کے قریب مبینہ ڈرون حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی اور موقع سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں تاہم حملے میں ہلاک ہونے والے محمد ولی کی لاش وصول کرنے تین روز بعد بھی کوئی ہسپتال نہیں پہنچا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق نوشکی مبینہ ڈرون حملے کے حوالے سے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ موقع سے تمام شواہد اکٹھے کئے جا چکے ہیں ، تمام شواہد 48 گھنٹے کے دوران اعلیٰ تحقیقاتی اداروں کے حوالے کر دئیے جائیں گے جبکہ براہ راستہ تفتان ایران سے پاکستان آنے والے تمام افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ حاصل کئے گئے ڈیٹا کے مطابق محمد ولی نامی شخص 21 تاریخ کو ایرانی ویزے پر پاکستان میں داخل ہوا جبکہ اس سے قبل محمد ولی ایران کے شہر مشہد اور دیگر شہر بھی گیا۔ ساتھ ہی یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ محمد ولی کا نام چمن میں ووٹر لسٹ میں ہے جس میں اس کا پتہ بھی موجود ہے۔ چمن میونسپل کمیٹی کی حتمی انتخابی فہرست میں محمد ولی کا نام سیریل نمبر 38 میں شامل ہے جس میں اس کا نام محمد ولی ولد شاہ محمد شناختی کارڈ نمبر اور پتہ جدید آبادی چمن ضلع قلعہ عبداللہ درج ہے۔ تاہم جدید آبادی میں محمد ولی کی رہائش گاہ کا تاحال پتہ نہیں لگایا جا سکا۔ اہل علاقہ کے مطابق اس نام کا کوئی شخص یہاں نہیں رہتا۔ دوسری جانب سکیورٹی اداروں نے کوئٹہ میں محمد ولی کے بننے والے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حوالے سے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ محمد ولی کی لاش تین روز سے ہسپتال میں موجود ہے تاہم لاش وصول کرنے تاحال کوئی ہسپتال نہیں پہنچا۔ میت وصول کرنے کے لیے دو روز قبل محمد رفیق نامی شخص نے اپنے آپ کو ولی خان کا بھانجا بتاتے ہوئے سول ہسپتال سے رابطہ کیا ، مگر سول ہسپتال کے عملے کا دوبارہ رابطہ کرنے پر محمد رفیق کا موبائل مسلسل بند مل رہا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹرز نے محمد ولی کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے گزشتہ روز اسلام آباد بھجوا دئیے گئے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈی این اے رپورٹ ایک ہفتے تک ملے گی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں لاش وصول نہ کی گئی تو محمد ولی کی لاش امانتا دفنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments