پاک امریکہ تعلقات: اعلان جنگ یا تعاون کا نیا دور


editپاکستان نے بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ڈرون حملہ کرنے پر امریکہ سے سخت احتجاج کیا ہے۔ اس حملہ میں ہفتہ کے روز طالبان کا لیڈر ملا اختر منصور مارا گیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے اس حملہ کو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس احتجاج سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکی افواج پر حملے کرنے والے کہیں محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ ایران کے ساتھ تعاون کرنے کی پاداش میں پاکستان نے خود ہی ملا منصور پر حملہ کے لئے معلومات فراہم کی تھیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بتانے سے بھی گریز کیا ہے کہ یہ حملہ پاکستانی علاقے میں ہؤا تھا یا ملا منصور کو افغانستان کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اخباری نمائیندوں کے سوالوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اس علاقے کے بارے میں ذیادہ نہیں جانتا لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسے پاک افغان سرحدی علاقے میں نشانہ بنایا گیا تھا‘۔اس دوران نوشکی کے قریب ہونے والے اس حملہ میں ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں پاکستانی حکام کوئٹہ لے گئے تھے۔ ان میں سے ڈرائیور کی لاش کو فوری طور پر شناخت کرکے ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا لیکن ابھی تک یہ تصدیق کرنے سے گریز کیا گیا ہے کہ اس حملہ میں مارا جانے والا دوسرا شخص ملا منصور ہی تھا۔ البتہ اس دوسرے شخص کے بارے میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہ ولی محمد کے نام سے سفر کررہا تھا اور اس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ تھا۔ غیر سرکاری طور پر پاکستانی میڈیا اس شخص کو ملا اختر منصور کے طور پر شناخت کررہا ہے اور اس کی ٹریول ہسٹری کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ظاہر ہے یہ معلومات پاکستانی حکام ہی میڈیا کو دے رہے ہیں۔

اس صورت حال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملا منصور پر حملہ امریکہ کی طرف سے طالبان اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے یا اس حملہ کے ذریعے دونوں ملکوں نے درپردہ تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ امریکی صدر سے لے کر وزارت خارجہ تک یہ دعویٰ تو کررہے ہیں کہ افغانستان میں امن تاراج کرنے والے اور امریکی مفادات پر حملے کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا لیکن پاکستان کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ ملا اختر منصور ایران کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنا چاہتا تھا اور اس کا حالیہ دورہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ اگرچہ ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ملا منصور ایران آیا تھا لیکن پاکستانی حکام اس دوسرے شخص کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ حملہ سے پہلے وہ تافتان کی سرحد سے ایران سے پاکستان میں داخل ہؤا تھا۔ اس کی منزل مقصود کوئٹہ تھی۔

تاہم اس بارے میں مسلسل متضاد خبریں آرہی ہیں کہ ملا منصور کی نقل و حرکت کے بارے میں کس ذریعے سے امریکہ کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ملا منصور کو ٹارگٹ کرنے کے بارے میں رابطہ میں تھی۔ اور اسے پاکستانی انٹیلی جنس کی اطلاع پر ہی نشانہ بنایا گیا تھا کیوں کہ وہ طالبان کے انتہا پسند ٹولے کے ہتھے چڑھ چکا تھا اور پاکستان کی بجائے اب ایران سے تعاون حاصل کرنے کے لئے کام کر رہا تھا۔ اس بارے میں یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس ملا اختر منصور کے ایران میں قیام کے دوران اس کی نگرانی کرتی رہی تھی اور اسی نے ملا منصور کی پاکستان روانگی کے بارے میں امریکہ کو معلومات فراہم کی تھیں۔ اور شاید ملا منصور کی گاڑی میں ٹریکر بھی ایرانی ایجنٹوں نے ہی لگایا تھا۔ اس کا رروائی کا مقصد ایک طرف امریکہ کو خوش کرنا تھا تاکہ مستقبل میں امریکہ کا اعتماد حاصل کیا جا سکے تو دوسری طرف پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ پاکستان میں ایران دشمن عناصر کے خلاف بھی اسی طرح عالمی طاقتوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کلبھوشن کی گرفتاری کے پس منظر میں عالمی طور پر پاکستان کو بد حواس کرکے بھارت کو بھی خوش کیا جا سکتا تھا۔

اس حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ پاک فوج کی طرف سے اس سانحہ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملہ پر سب سے پہلے پاک فوج کو وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ اس حملہ کی اجازت کیوں کر دی گئی تھی۔ طالبان کا نیا قائد مقرر ہونے اور طالبان کی طرف سے حکمت عملی واضح ہونے تک ملا منصور کی ہلاکت اور اس کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم اگر پاکستان درپردہ اس کارروائی کا حصہ نہیں ہے تو امریکی حملہ طالبان کے علاوہ دراصل پاکستان کو ہی وارننگ ہے کہ وہ امریکہ کے مجرموں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 452 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali