جوتو منہ میں وجھ ۔۔۔ سندھ کا نیا تعارف


ibarhim kunbharخواتین کو کوڑے مارنے سے لے کر  اسکول کے بچوں کو مرغا بنا کر ان پر چھڑیوں کی بارش کرنے تک، اپنے ملک میں اپنے ہی قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں شھریوں کی درگت بنانے کے کئی واقعے، پولیس کی بزرگ شہریوں پر برستی لاتیں اورگھونسے، یا کسی مدرسے کے مولوی استاد کا معصوم طلبہ پر وحشیانہ تشدد، اس قسم کی کئی وڈیوز سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں اور نظر سے گزر بھی جاتی ہیں۔

ابھی دودن پہلے قومی اسمبلی میں فاٹا کے ایک ممبر مولوی جمال الدین نے بھی ایک ایسی ہی وڈیو کا ذکر چھیڑ کر اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اس وڈیو میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ایک نقاب پوش عورت کی جامہ تلاشی لے کر  اس کے ناچ سے محظوظ ہو رہے ہیں ۔مولوی جمال الدین کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے اداروں کے خلاف سازش ہے جس کو بے نقاب کیا جائے۔

 ایسی ہی ایک وڈیو لیک ہوئی ہے سندھ کے ضلع نوشھرو فیروز کے چھوٹے سے شھر پُھل سے۔ مقامی زمیں دار  کی طرف سے دو نوجوانوں کی تضحیک کی یہ وڈیو اور پھر اس پر پولیس کی کارروائی کی خبریں اب عام ہو چکی ہیں۔

اس وڈیو میں آواز تو صاف نہیں سنائی دیتی، لیکن یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگ ایک جگہ پر بیٹھے ہیں، یہاں سے وہاں سے آوازیں آ رہی ہیں، ایک نوجوان زمین پر بیٹھا ہوا ہے، جسے ایک اور شخص کہتا ہے کہ ”جوتو منھں میں وجھ“ یعنی منہ سے جوتا اٹھا اور پھر وہ نوجوان اس نادری حکم کی بجاآوری لاتے ہوئے کسی کے پاؤں پڑ کر معافی مانگتا دکھائی دیتا ہے۔

 سندھ میں نان اسٹاپ جرگا شاھی کا یہ شاخسانہ ہے کہ جاگیردارنہ سماج کے امین مقامی و غیر مقامی بااثر اور چھوٹے بڑے زمیں دار اپنی زمین کاشت کرنے والوں کے ساتھ پورے گاؤں، گوٹھ، شھر اور تحصیل کے باسیوں کو اپنا مزارعہ سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک مزارعہ انسان ہی نہیں اس لئے ان کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، وہ صرف حکم ماننے کے لئے ہوتے ہیں اس لئے جو چاہو ان پر حکم چلا دو۔

غلامی کی زنجیروں کو توڑتی اس دنیا میں سندھ اس قسم کی غلامانہ ذہنیت میں دن بہ دن دھنستا چلا جا رہا ہے، کیا سوشل میڈیا پر سندھ کے جوان مرد کو منہ میں جوتا پکڑ کر معافی مانگتا دکھانا اس کا ایک جیتا جاگتا ثبوت نہیں؟

111پُھل نوشھرو فیروز کا چھوٹا سا شھر ہے۔سندھ کے کلہوڑہ حکمران میاں نصیر محمد سے لے کر  سندھی ٹرینڈ سیٹر فنکار جلال چانڈیو تک نوشھرو فیروز کے کئی تعارف ہیں، اس کا ایک تعارف پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کا دست راست، بھایوں جیسا دوست اور بینظیر بھٹو کا انکل غلام مصطفی جتوئی بھی ہے، لیکن اس شھر کا بڑا تعارف تو سید الھندو شاہ ہے جس نے انگریز راج کے اس زمانے میں نوشھرو میں مدرسہ ھائی اسکول کی بنیاد رکھی جب بنیادی تعلیم کے بعد طلبہ ممبئی، علی گڑھ اور کلکتہ جاتے تھے یا پھرمالی طور پر مستحکم، خوشحال اور رسائی رکھنے والے گھرانے اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا کرتے تھے۔

1933ء کے تعلیمی اندھیروں میں جہاں ہائی اسکول کی بنیاد رکھی گئی ہو اسی ضلع کے مضافات میں2016ء میں جاہل نسل کے وڈیرے کسی نوجوانوں کو منہ سے جوتا اٹھا کر معافی منگوانے پر مجبور کریں، اس سے یہ اندازہ لگانا تو آسان ہے کہ دور جدید کے بااثر لوگوں کا تعلیم کو عام کرنے میں کیا کردار ہے۔

 اب تو الھندو شاھ کے درس و تدریس کو عام کرنے والے خیرسگالی جذبے کا سورج غروب ہوچکا، وہ سندھ کو پڑھا لکھا دیکھنے کا خواب اپنے آنکھوں میں سجا کر سو چکے، مجھے اسی خاندان کے کسی دوست نے بتایا کہ الھندو شاھ کے مشن کو کسی نے آگے نہیں بڑھایا، خاندان کے باقی سب لوگ مقامی بااثر اور سیاسی پارٹیوں سے ٹکٹ لینے دینے کے چکروں میں لگے ہوئے ہیں۔

جس وڈیو کا ذکر سندھی اردو میڈیا پر عام ہے اس کی اصلی کہانی بھی میڈیا کی زبانی سب کے سامنے آ چکی ہے کہ محمد بخش مبیجو نامی ایک مقامی زمیں دار  نے اپنی گاڑی کو راستہ نہ ملنے پر دو جوان بھایوں کو بنگلے پر بلا کرحکم صادر کیا کہ اس ناکردہ جرم کی سزا کا ازالہ منہ سے جوتا اٹھا کر معافی مانگنے کی صورت میں ادا کریں۔ یہ منی قسم کا جرگا تھا اور سندہ میں زمیں دار وں کے ڈیرے اب بھی خودساختہ عدالتیں بنے ہوئے ہیں۔

 جاگیردارنہ سماج سے تنگ کسی سر پھرے کامریڈ نے یہ وڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی یا یہ بھول اسی مقامی بااثر کے کسی حامی چھوٹے وڈیرے سے ہو گئی، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دکھاوے کے لئے ہی سہی، ضلعی پولیس حرکت میں آ گئی اور صوبائی پولیس کے سربراہ کو بھی اس واقعے کا نوٹس لینے کا خیال آ گیا، اورمقامی بااثر زمیں دار کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بہت ہی کم ہوتا ہے کہ دور دراز سندہ کے گاؤں گوٹھ، قصبے یا کسی چھوٹے شھر میں کوئی اس طرح کا ناخوشگوار واقعہ سوشل میڈیا پر آئے اور اس کا نوٹس لیا جائے پھر اس کے ذمہ دار ملزم دھر لئے جائیں۔

سندھ کے کسی قصبے میں اس طرح کے واقعے کا ہونا تو غیر معمولی نہیں، اس طرح کے کئی وڈیو آپ کو سوشل میڈیا پر بھی مل جائیں گی لیکن اس پر نوٹس لینا اور پھر اس کے ذمہ داروں کو فی الوقت ہی سہی گرفتار کرنا یعنی پولیس کا کسی مقامی یا غیر مقامی بھوتار اور سردار پر ہاتھ ڈالنا واقعہ بھی غیر معمولی ہے۔

میں نے سوشل میڈیا پر ٹنڈو الہ یار کی ایک بہت بااثر خاتوں کی وڈیو دیکھی ہے جس میں وہ ایک نوجوان کے منہ پر کالک ملنے کا حکم دیتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ خاتوں اس نوجوان کو جن بے پہرن (نازیبا) الفاظ سے کوس رہی ہے وہ الفاظ تو عام طور مرد حضرات بھی کم ہی استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح آپ کو ٹنڈو محمد خان کے ایک پیرصاحب کی وڈیو بھی سوشل میڈیاپر مل جائے گی جس میں وہ ایک بچے کو موبائل کی چوری کے الزام میں پکڑ کے اپنے عقوبت خانے میں کپڑوں سے محروم کرکے اس کے نازک اعضاء پر لاٹھیاں برسا کر گالم گلوچ کر رہا ہے۔

میں مدرسے میں معصوم بچے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس مولوی کے بارے میں کیا کہوں جو اپنے آگے کھلی پاک کتاب کی بھی لحاظ نہیں کرتا۔ اس طرح کے واقعات کی کئی وڈیوز منظرعام پر آئیں لیکن ان پر کسی کو نوٹس لینے کی فرصت نہیں ملی اور ان سب ظالم کرداروں کی اب بھی وہی سوچ ہے۔

02ویسے بھی وڈیو، فلم یا اخبار کے تراشے کو پاکستان کے قوانین میں ثبوت کے طور پر کم کی مانا جاتا ہے، پھر اس پُھل شہر والے واقعے میں تو زمیں دار  محمد بخش مبیجو کے ہمدرد تو دو غریب نوجوانوں کی نسبت زیادہ ہیں، پُھل، آس پاس کے چھوٹے بڑے شھر اور گاؤں، خود متاثرہ نوجوانوں کے عزیز و اقارب، شھر کی نام نہاد اشرافیہ، غربا کی اکثریت، یعنی سب ہی اسی دھندھے میں لگے ہوئے ہیں کہ معاملہ کسی سندھی اخبار کی دو کالمی سرخی خبر ” لئی مٹی“ بن جائے یعنی معاملہ رفع دفع ہو جائے، کیونکہ سارا شھر اور گاؤں اس نوجواں کو” مٹی پاؤ “کے مشورے دے رہا ہے۔

 دو بھایوں کی عزت نفس کی دھجیان اڑانے والا یہ مقامی بااثر شخص کل اس لئے باعزت بری ہوجائے گا کیونکہ شریف سماج کے دو مظلوم کردار دباؤ بڑھنے پر اس زمیں دار  کو خود سے معاف کردیں گے۔ متاثرین سے معافی مانگنے کا تو تصور نہیں اس لئے اس کی نوبت بھی ہمارے قانون کے رکھوالوں کی مہربانی سے نہیں آئے گی، تحضیک آمیز اس جرگے کے کئی گواہان موجود ہیں اور سب سے بڑا گواہ تو صوفہ سیٹ پر براجمان وہ باریش مولوی صاحب ہے جس کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ پر سرکار نے مقدمہ ہی اپنی مدعیت میں درج کرکے گواہوں اور ثبوتوں والے جھنجھٹ سے خود کو بچا لیا ہے۔کوشش کے باوجود متاثرہ بھائیوں کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ۔

سندھ میں سرکار کا مدعی بننے کا مقصد مقدمے سے جان نکالنے کے سوا اور کیا لیا جائے؟ اس مقدمے میں بھی ملزم کے خلاف وہ قلم لگائے گئے ہیں کہ ملزم جوڈیشل ریمانڈ سے واپس آ کر شخصی ضمانت پر آزاد ہوسکتا ہے۔اس قسم کے کمزور مقدمے میں پولیس کو گواہوں کی ضرورت ہی نہیں پڑتی لیکن اگر پڑ بھی جائے تو وڈیروں کے غنڈہ راج میں گواہی دینے کون سا شریف بندہ آئے گا؟

سندھ کی سرکار اور سرکاری پارٹی یہ اعلانات کرکے نہیں تھکتی کہ سندھ آگے بڑہ رہا ہے اور سندھ کے کامریڈ یہ نعرہ لگاتے نہیں تھکتے کہ سندھ جاگ رہا ہے، لیکن وڈیرے محمد بخش مبیجو کے اس اقدام کے بعد سندھ کا جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور وڈیرہ کلاس کے مائینڈ سیٹ کے چنگل میں جکڑے ہونے کا اور کیا ثبوت چاھئیے؟۔کیا اب بھی ہم اس خواب میں رہیں کہ سندہ آھستہ آھستہ اس غلامانہ ذھنیت کو مات دے کر آگے بڑھ رہا ہے اور جلدی ہم اس مبیجو مائنڈ سیٹ کو شکست دے سکیں گے۔

پُھل کہانی کا ویلن سرکاری پارٹی کا ٹکٹ ھولڈر ہے، مقامی انتخابات کا امیدوار اپنے حلقے میں یہ سب کچھ کروانے کے لئے اتنا بااختیار ہے، اب آپ خود ہی حساب لگائیں کہ تحصیل، ضلعہ اورڈویژن کے مالک بنے ان جاگیرداروں کا اثر رسوخ کہاں تک ہوگا۔

یہ مبیجو جیسے زمیں دار  تو جیسے پیٹی ٹھیکدار ہیں اور ان کا نیٹ ورک اوپر تک جاتا ہے، آدھا سندھ ان مقامی وڈیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس کے بعد بڑے زمیں دار، ہمارے ہی منتخب ممبران ہے، چھوٹے وڈیروں سے بچا سندھ ان جاگیردارانہ ذھنیت رکھنے والے بڑے وڈیروں کے پاؤں میں پڑا ہوا ہے باقی سندھ پر سید، پیر اور مرشد قابض ہیں جن میں بھی آدھے زندہ اور آدھے مردہ پیر ہیں، باقی جو ٹکڑا بچتا ہے وہ وہ عاملوں اور بھوپوں کے حوالے ہے، جعلی حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کا حساب لگانے کے لئے کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔

جمہوریت کے نام پر گذشتہ بیس برس میں سندھ جن زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے ان کا اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں، مقامی انتخابات، اضلاع کو بانٹنے سے لے کر عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی بولیان لگانے تک خود کو سندھ کا مالک سمجھنے والے پارٹی سربراہان کے آگے تو بس سندہ کا نقشہ ہوتا ہے اور ہر ٹکٹ جاری کرتے وقت وہ سندھ کا مخصوص حصہ اپنے چہیتوں کو بانٹ کر اس پر حکمرانی کا سرٹفکیٹ جاری کردیتے ہیں، اور سندہ کا یہ کاروبار برسوں سے جاری ہے، شہروں کے شہر، تحصیلوں کے تحصیل اور ضلعوں کے ضلعے اس طرح ٹھیکے پر دئے ہوئے ہیں، اس صورت میں تو یہ ہونا ہے، جرگے، جرمانے، پاؤں پر ناک رگڑ کر کے معافیاں تلافیاں اور منہ میں جوتے اٹھانے جیسے فرمان۔۔۔ یہی سندھ کا نیا تعارف بنتا جا رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 19 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar