ڈنر جل گیا!


دنیا میں سفر کرنے سے بہت کچھ دکھائی دیتا ہے اور سمجھ بھی آتا ہے۔ دنیا میں بھانت بھانت کے انسان بستے ہیں، وہ الگ زبانیں‌ بولتے ہیں‌ اور مختلف طریقے سے سوچتے ہیں۔ وہ مختلف طریقوں سے زندگی گذارتے ہیں۔ جو بھی چیزیں لوگوں‌ کے اردگرد موجود ہوتی ہیں، انہی کو استعمال کرکے وہ اپنے گھروندے بناتے ہیں۔ جیسے ساؤتھ ایشیا میں مٹی کو اینٹوں میں‌ بدل کر اس سے عمارات بناتے ہیں، اسی طرح درختوں کو کاٹ کر ان سے دیواریں‌ بنا کر نارتھ امریکہ میں‌ گھر بناتے ہیں۔ ہر علاقے میں‌ بسنے والے جانور اور پودے الگ ہیں۔ جیسے ساؤتھ امریکہ میں‌ الپاکا اور لاما ہیں، وہاں گنی پگ پکاتے اور کھاتے ہیں، اسی طرح‌ سندھ میں‌ کھجور، پلا مچھلی، آم اور کنول کے پھولوں اور پودوں کو مختلف طریقوں سے پکانے اور کھانے کا رواج ہے۔ ہر جگہ کی آفتیں بھی الگ ہیں۔ کہیں زلزلے ہیں، کہیں سیلاب اور کہیں بگولے۔

جب ساؤتھ ایشیا سے لوگ امریکہ شفٹ ہوں‌ تو ان کو شروع میں‌ ضرور عجیب لگتا ہے کہ لکڑی اور شیشے کے گھروں‌ میں‌ رہ رہے ہیں۔ لکڑی کے گھروں میں رہنے کی وجہ سے کس طرح ان گھروں کا آگ میں‌ تباہ ہوجانا آسان ہے، وہ آپ کو تبھی سمجھ میں‌ آسکتا ہے جب اپنی آنکھوں‌ سے ایک دم گھر جل کر بھسم ہوتا دیکھیں۔ 25 سال امریکہ میں‌ رہنے کے بعد یہ کسی کے لیے بھی مشکل ہوگا کہ وہ یا تو کبھی خود اس حادثے کا شکار نہ ہوئے ہوں یا ایسے کسی شخص کو نہ جانتے ہوں‌ جو کبھی آگ کے حادثے کا شکار ہوئے ہوں۔ کافی لوگ ہر سال مر جاتے ہیں۔ ایک گھر کے مالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہوں‌ نے مکان اور اس میں‌ موجود سامان کی انشورنس پالیسی خریدی ہوئی ہو۔ یاد رہے کہ یہ پالیسی گاڑی کی انشورنس، ہیلتھ انشورنس، لائف انشورنس، اور ڈاکٹر ہونے کی صورت میں‌ مال پریکٹس انشورنس کے بعد بھی ضروری ہے۔

ایک اسٹڈی کے مطابق اگر گھر کے مکینوں کے پاس آگ بجھانے کی مشین موجود بھی ہو تو ان کو نہیں‌ معلوم ہوتا کہ اس کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ ہر گھر میں‌ فائر ایکسٹؤئنگشر ہونا چاہئیے۔ آگ بجھانے کے لیے پی اے ایس ایس یعنی پاس کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پی سے پن، یعنی پہلے پن نکالنی ہے جو کہ ایک تالے کی طرح‌ آگ بجھانے والے آلے کو حادثاتی طور پر اخراج سے روکتی ہے۔ اے فار ایم، یعنی کہ آگ کے منبع کی طرف رخ کر کے اس سے اسپرے کرنا ہے اور آخری ایس سؤائپ کے لیے ہے یعنی دائیں‌ بائیں‌ اسپرے کرنا۔

آج اپنی زندگی میں‌ آگ سے فرار کا قصہ بیان کروں‌ گی۔ یہ میرے لیے ذاتی طور پر ایک تکلیف دہ موضوع ہے۔ ہوسکتا تھا کہ ہم لوگ جل کر مر جاتے اور آج یہ مضمون لکھنے کے لیے میں‌ زندہ نہ ہوتی۔ اس دن کے بعد کافی عرصہ تک عجیب و غریب خواب آتے رہے۔ ایک خواب میں‌ دیکھا کہ میرے سارے بہن بھائی سکھر والے گھر میں‌ ہیں جہاں‌ ہم لوگ بچپن میں رہتے تھے۔ میں نے خواب میں‌ دیکھا کہ اوپر والی منزل میں‌ آگ لگ گئی ہے اور وہ آہستہ آہستہ نیچے آرہی ہے۔ میری بہن اس بڑے کمرے میں‌ تھی جس میں‌ بہت ساری کھڑکیاں لائن سے بنی ہوئی تھیں۔ ہمارے والد آرکیٹکٹ تھے اور انہوں‌ نے گھر خود ڈیزائن کیا تھا جو کہ باقی گھروں‌ سے مختلف تھا۔ ان کھڑکیوں‌ کے باہر سیمنٹ کے چوکور باکس سے بنے ہوئے تھے جن میں‌ پودے لگا سکتے تھے۔ انہوں‌ نے یہ ڈیزائن شائد کسی انٹرنیشنل میگزین میں‌ دیکھا ہو، وہ ڈیزائن سکھر کے لیے ٹھیک نہیں‌ تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں‌ سکھرمیں‌ شدید گرمی پڑتی ہے۔ ان سیمنٹ کے چوکور باکس کے اندر وہاں صرف پانی ابالا جا سکتا تھا۔ بہرحال اپنے خواب میں‌ میں‌ یہ کھڑکیاں‌ بجا کر اپنی چھوٹی بہن سے کہہ رہی ہوں‌ کہ باہر نکل آؤ، گھر میں‌ آگ لگ گئی ہے۔ خواب میں‌ جگہوں‌ کے نقشے الٹ پلٹ ہوتے ہیں۔ یہ کھڑکیوں‌ والا کمرہ دوسرے منزل پر تھا۔ دوسری منزل کے باہر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں؟

مجھے میری ایک بہت اچھی انڈین دوست نے کام کے بعد اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ وہ اپنے شوہر سے طلاق لینے کے بعد گھر میں‌ اکیلی رہتی تھی۔ اس کی ایک ہی بچی تھی جو ایک ہفتہ اپنے باپ کے پاس اور ایک ہفتہ اپنی ماں کے پاس رہتی تھی۔ جب میں‌ اس کے گھر پہنچی تو وہ گھر کے پیچھے رکھی گرل پر مچھلی پکا چکی تھی۔ گرل کی آگ بجھا کر جیسے ہی اس نے پروپین ٹینک کو الگ کرنے کی کوشش کی تو وہ ایک دم پھٹ گیا جس سے اس کو دھکا لگا اور ساری گرل نے آگ پکڑ لی۔ یہ خیریت ہوئی کہ تھوڑے سے سر کے اور بازؤؤں کے بال جھلسنے کے علاوہ اس کو زیادہ آگ نہیں‌ لگی۔ میں‌ اور اس کی 10 سالہ بیٹی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بچی مجھے اپنے وڈیو گیم دکھا رہی تھی۔ جیسے ہی ہم لوگوں‌ نے گرل میں‌ آگ لگی دیکھی تو وہ بچی ایکدم چھلانگ مار کر صوفے سے اتری اور سامنے والا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ امریکہ میں‌ سارے اسکولوں‌ میں‌ فائر ڈرل سکھاتے ہیں۔ آگ کو دیکھ کر ہی میں‌ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ چھوٹی موٹی آگ نہیں‌ تھی جس پر پانی ڈال کر اس کو قابو میں‌ کیاجاسکے۔ پروپین ٹینک میں‌ سے گیس تیزی سے نکل رہی تھی اور شعلے 8 سے 10 فٹ اونچے تھے جو مکان کی چھت کو نگلنے میں‌ مصروف تھے۔


17 اگست 2015 کو امریکی ریاست آئڈاہو کے ایک جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ بائیں طرف نظر آنے والا ہرن بھی جل کر ہلاک ہو گیا۔ مقامی کسان کے کتے مردہ ہرن کے پاس افسردہ بیٹھے ہیں۔

باہر نکلتے ہی ہم لوگوں‌ نے نائن ون ون کو کال ملائی اور آگ بجھانے والا عملہ صرف 2 منٹ میں‌ مکان تک پہنچ گیا تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں‌ آگ ہر 60 سیکنڈ میں‌ دوگنی ہوجاتی ہے، جب تک ان لوگوں‌ نے پانی برسانا شروع کیا تو چھت پر سے آگ کے شعلے آسمان سے باتیں‌ کرتے دیکھے جاسکتے تھے۔ اس کی گاڑی گیراج میں‌ کھڑی تھی اور وہ بھی جل گئی۔ میں نے اپنی گاڑی چلا کر اس کے گھر سے دور کھڑی کردی۔ اس کا ایک کتا بھی تھا جس کو جلدی میں‌ بھاگتے ہوئے ہم لوگ ساتھ میں‌ نہیں‌ نکال پائے تھے۔ اس کا کتا مجھے بالکل پسند نہیں‌ تھا لیکن میں‌ ہرگز ایسا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا کباب بن جائے۔ ہم لوگ سامنے والے گھر کے باہر کھڑے سارا مکان جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اس خاتون نے بہت مشکلوں‌ سے طلاق کے پروسس میں‌ یہ مکان اور اپنا سامان وغیرہ بچایا تھا۔ اس شہر میں‌ صرف اس کے سسرال والے رہتے تھے جو کہ وقتاً فوقتاً اس کو دھمکیاں‌ بھی دیتے رہتے تھے۔ کافی قانونی جنگ کے بعد وہ اس مکان کی مالک بن پائی تھی۔ وہ خوبصورت مکان اپنے سارے قیمتی سامان کے ساتھ ہماری آنکھوں‌ کے سامنے بھسم ہوگیا۔ اس نے اپنے سابقہ شوہر کو فون ملایا اور وہ آ کر بچی اپنے ساتھ لے گیا۔ فائر بریگیڈ اور پولیس نے ہمارے بیان جمع کیے۔ انہوں‌ نے میری دوست سے جو کہ ایکدم بے گھر ہوگئی تھی پوچھا کہ آپ کہاں‌ جائیں گی؟ جن لوگوں‌ کا اس طرح‌ سب کچھ ختم ہوجائے تو ریڈ کراس اور دیگر مقامی تنظیمیں‌ ان کی مدد کرتی ہیں۔ میں‌ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے پولیس آفیسر سے کہا کہ اس کو میں‌ اپنے گھر لے جاؤں‌ گی۔ گھر جا کر میں‌ نے اپنے بچوں‌ سے کہا کہ آنٹی آج ہمارے ساتھ رکیں‌ گی۔ رات بھر عجیب وغریب خواب آتے رہے لیکن پھر بھی میں‌ نے سو جانے کی کوشش کی۔ ہمارے مریض‌ تین مہینہ پہلے سے اپوائنٹمنٹ بناتے ہیں اور آندھی آئے یا طوفان، میں‌ کلینک سے چھٹی نہیں‌ لے سکتی ہوں۔

میں‌ نے دیکھا کہ اس کے لمبے بال صوفے کی کمر پر بکھرے ہوئے ہیں‌ اور وہ ساری رات لائبریری میں‌ بیٹھی روتی رہی۔ ایسا نہیں‌ ہے کہ جو لوگ امریکہ میں‌ رہتے ہیں، ان کی زندگیوں‌ میں‌ سے دکھ، پریشانیاں‌ اور مصیبتیں‌ ختم ہوگئی ہیں۔ ہر جگہ کے لوگوں‌ کے اپنے مسائل ہیں۔ ہم ہر انسان کا ہر مسئلہ نہیں‌ سمجھ سکتے ہیں لیکن ان میں‌ اضافہ کرنے سے یقیناً خود کو روک سکتے ہیں۔ یہ اچھا ہوا کہ اس کا مکان اور گاڑی سب کچھ انشورڈ تھا۔ انشورنس کمپنی نے اس کو کرائے پر گھر دلا دیا جہاں‌ وہ اس وقت تک رہے گی جب تک اس کا مکان دوبارہ سے تعمیر نہیں‌ ہوجاتا۔ گھر میں‌ موجود سارا سامان بھی انشورڈ تھا۔ اس نے ایک پرائوٹ ایڈجسٹر کمپنی سے رابطہ کیا جو جلے ہوئے مکان میں‌ جا کر ایک ایک چیز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگاتے ہیں‌ کہ نقصان کتنا تھا تاکہ وہ اپنے کلائنٹ کے لیے یہ پیسے انشورنس کمپنی سے حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ پروپین ٹینک کمپنی پر بھی کیس دائر ہوا جن کی ناقص پروڈکٹ سے اس خاتون کا سارا گھر جل گیا۔

میں‌ نے اس تجربے سے کیا سیکھا؟ اس تجربے سے مجھے احساس ہوا کہ ہمارے گھروں‌ کا جل کر بھسم ہوجانا کتنا آسان ہے۔ اس کے بعد میں‌ نے تین فائر ایکسٹؤنگشرز خریدے، دو اپنے بچوں‌ کے کمروں‌ کے لیے اور ایک کچن کے لیے۔ اس کے علاوہ کپڑے کی بنی دو سیڑھیاں‌ خریدیں جن میں‌ ہک ہوتا ہے جس کو کھڑکی میں‌ لگا کر فرار ہوسکتے ہیں۔ یہ سیڑھیاں‌ اپنے دونوں‌ بچوں‌ کی کھڑکیوں‌ کے پاس رکھ دیں۔ فائر ڈرل بہت اہم مشق ہے اور یہ ہر اسکول اور ہر گھر کے افراد کو کرنی چاہئیے۔ گھر کے ہر کونے سے آگ سے فرار ہونے کا پلان ضرور سوچنا چاہئیے۔

اوہ یہ بتاتی چلوں‌ کہ ڈنر تو اس دن جل گیا تھا لیکن فائر مین کتے کو تلاش کرکے باہر لے آئے تھے۔ وہ بیچارہ تھوڑا سا جھلس گیا تھا اور بری طرح‌ کپکپا رہا تھا لیکن اس کو زندہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اگر وہ جل کر مر جاتا تو مجھے ساری زندگی اس کو نہ بچانے کا غم رہتا۔ میں‌ نے فوراً اس کو دبوچ لیا، اس وقت میرے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ زیادہ کانپ رہا ہے یا میں‌؟ ہم ساتھ میں‌ جلتا ہوا مکان اور اس پر پڑتی ہوتی پانی کی دھاریں‌ دیکھتے رہے جو ہمارے اوپر بھی اوس کی طرح‌ گر رہی تھی۔ اس حادثے کے بعد میرے اور اس کتے کے تعلقات بہتر ہوگئے۔ یقیناً یہ حادثہ ہمیں‌ قریب لانے کا سبب بن گیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں