ڈرون حملے کا امریکی جواز ناقابل قبول ہے : وزیر داخلہ


ch nisarوفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ملا منصور اختر پر دفتر خارجہ کا موقف پہلے آ گیا تھا۔ واقعہ آج سے دو دن پہلے بلوچستان کے دور دراز علاقے میں ہوا۔ گاڑی کو دوپہر ساڑھے تین بجے نشانہ بنایا گیا اس میں دو افراد سوار تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا گاڑی راکھ کا ڈھیر بن گئی اور دونوں لاشوں کا چہرہ ناقابل شناخت تھا۔ واقعے کے 7 گھنٹے بعد امریکا کی طرف سے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی۔ اطلاع میں کہا گیا کہ ملا منصور کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی ایجنسی موقع پر پہنچ گئی تھی۔ گاڑی سے چند گز دور پاسپورٹ ملا اور کوئی چیز نہیں ملی۔ انہوں نے کہا بار بار کہا گیا کہ اتنے دن گزرنے کے بعد پاکستان کنفرم نہیں کر سکا۔ ایک شخص کو شناخت کے بعد لاش ورثا کو حوالے کر دی گئی۔ تصدیق نہیں کر سکے کہ دوسرا شخص ملا منصور تھا۔ ابھی تک ملا منصور کے اس واقعے میں مرنے کی کوئی سائنٹفک شہادت موجود نہیں ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ لے لیے گئے رپورٹ کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔ افغانستان اور امریکی معلومات کے مطابق ملا منصور ہلاک ہو چکا ہے۔ چودھری نثار نے کہا حکومت پاکستان ڈرون حملے کی سخت مذمت کرتی ہے ڈرون حملے کا امریکی جواز غیر قانونی، ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم کی واپسی کے بعد نیشنل سکیورٹی کونسل کی میٹنگ ہو گی۔ سارے ایشو پر مشاورت کے بعد قوم اور دنیا کے سامنے حکومت واضح موقف دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا ابھی تک تصدیق نہیں کر سکتے کہ پاسپورٹ مرنے والے شخص کا ہی تھا تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کی جگہ سے ملنے والا پاسپورٹ ولی محمد نامی شخص کا تھا۔ ولی محمد نے 2002 میں کمپیوٹرائزڈ شناختی اور 2005 میں پاسپورٹ بنوایا۔ شناختی کارڈ پچھلے سال منسوخ ہوا پاسپورٹ کے منسوخ نہ ہونے کی وجہ معلوم نہیں۔ ولی محمد کا پاسپورٹ 2011 میں رینیو ہوا اور انٹیلی جنسی کے ذرائع نے پچھلے سال اطلاع دی کہ یہ شخص افغانی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا حکومت نے جعلی شناختی کارڈز کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا ولی محمد کی دستاویزات کی عزیز احمد خان اور محبوب خان لوزئی نے تصدیق کی تھی دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ محمد ولی کی دستاویزات کی 2005ءمیں قلعہ عبداللہ کے تحصیلدار نے کی۔ چودھری نثار نے کہا ملا منصور کا مسئلہ انتہائی سیریس ہے امریکا کا یہ کہنا جو جہاں ہو گا اسے نشانہ بنائیں گے تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔ ملا منصور بہت ممالک میں گیا صرف پاکستان میں نشانہ کیوں بنایا گیا؟۔ امریکا کی عجیب منطق ہے اور افغان طالبان کا سربراہ گاڑی میں ایک ڈرائیور کے ساتھ تھا۔ ملا منصور افغانستان میں تھا تو امریکا کیلئے خطرہ کیوں نہیں تھا؟۔ کہا گیا ملا منصور کو امن کی راہ میں رکاوٹ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ افغان طالبان کیساتھ پہلی دفعہ مذاکرات میں ملا منصور نے طالبان وفد کی قیادت کی۔ ملا منصور مذاکرات میں رکاوٹ ہوتا تو مری مذاکرات کیسے ہوتے؟۔ وزیر داخلہ نے کہا کہیں پٹاخہ بھی پھٹتا ہے تو پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ خطے میں امن کیلئے صرف مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ خطے میں امن کی ضرورت پاکستان اور افغانستان کو سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا مری مذاکرات میں بڑا اچھا ماحول رہا امریکا ، چین موجود تھے اور مری مذاکرات کے بعد دوسرا راو¿نڈ اکتیس جولائی کو ہونا تھا جس سے تین ، چار دن پہلے ملا عمر کی وفات کی خبر لیک کی گئیں جبکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں کابل پر حملے نہ کرنے کا اعلان ہونا تھا۔ چودھری نثار نے مزید کہا طالبان پاکستان کے زیر اثر نہیں ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ سربراہ کو قتل کر کے طالبان کو کہیں مذاکرات کریں۔ ڈرون حملے خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں جس کیلئے کوئی جواز قابل قبول نہیں ہے۔ ایسے اقدامات سے پاک امریکا تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اب تک کی اطلاعات کے مطابق امریکی ڈرون پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوا۔


Comments

FB Login Required - comments