جب میری ملاقات ملا منصور سے ہوئی


سمیع یوسفزئی

samiدو سال تک ملا منصور طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کو چھپاتا رہا۔ ان برسوں میں منصور نے نہ صرف طالبان کی لڑائی کو جاری رکھا بلکہ بڑھاوا دینے میں بھی کامیاب ہوا۔ مگر سارا کیا دھرا ختم ہوا کیوںکہ ملا منصور محض دس ماہ تک طالبان کی قیادت کرنے کے بعد بلوچستان میں پاک ایران بارڈر کے پاس امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بن گیا۔

یہ سوال ابھی حل طلب ہے کہ اس کا مارا جانا افغانستان میں قیام امن کے لئے مفید ثابت ہوگا یہ اسے اور مشکل بنائے گا۔

مجھے یاد ہے کہ میری ملا منصور سے پہلی ملاقات 1995 میں ہوئی۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا کیوںکہ وہ چاہتا تھا کہ میں اس کی اور اس کے دوستوں کی طالبان جیسی نو آموز تحریک میں شمولیت کو رپورٹ کروں۔

اگلے دن پشاور کے مصروف بس اسٹیشن میں مَیں نے اسے بڑی سی سن گلاسز لگائے اور افغانی پگڑی پہنے چھوٹی سی پرجوش تقریر کرتے دیکھا جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے اور وہ لوگ افغانستان میں ملا عمر کے شانہ بشانہ لڑ کر افغانستان سے وار لارڈز کا صفایا کر دیں گے اور وہاں ایسی افغان امارت قائم کریں گے جو شریعت کا نفاذ کرے گی۔

بعد میں پتہ چلا کہ وہ ملا عمر کے قریبی ساتھیوں میں گنے جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

طالبان کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں جب پاکستان نے طالبان پر بہت زیادہ زور ڈالا تو منصور ایران، پاکستان کے لئے یہ پیغام لے کر چلے گئے کہ وہ اور اس کی تنظیم اپنی وفاداریاں کسی اور سے بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ “تیر نشانہ پر لگا”، طالبان کے ذرائع نے کہا۔ “پاکستان پرسکون ہوگیا”۔ ایران والی چال سے تو امریکہ بھی بھونچکا رہ گیا۔

اسی طلبان کے سینئر ذرائع کا کہنا تھا کہ منصور کا مرنا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، مگر طالبان ایک مذہبی تحریک ہے جو کسی فرد واحد کی محتاج نہیں، اس کے ممبر اپنے نئے لیڈر سے بھی وفادار رہیں گے اور ان کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

بڑے پیمانے پر یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ مذاکرات کے لئے منصور طالبان کی طرف سے بہترین آدمی تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ افغان حکومت کی نیت پر شبہ کرنے کے باوجود مذاکرات کے لئے بہت لچکدار رویہ رکھتے تھے۔

طالبان کے قطر آفس کے ایک رکن نےجو جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات کے لئے رابطے کا کام کرتا ہے، کہا  “ان کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ وہ اندرونی خلفشار پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں، اس کے بعد امن مذاکرات کے لئے آگے بڑھیں” ۔

زیادہ تر طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جو بھی طالبان کا امیر ہوگا اس کے لئے مذاکرات زہریلی گولی ہیں کیوںکہ صرف انتہائی مضبوط طالبان لیڈر ہی مذاکرات جیسی سخت گولی نگل سکتا ہے۔ اسی لئے ملا منصور کی موت سے مذاکرات کی راہ پہلے سے بھی دشوار ہوئی ہے۔

________

یہ آرٹیکل ڈیلی بیسٹ میں پوسٹ ہوا اور وہاں سے  اس کے کچھ حصے ترجمہ کئے گئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments