ہنزہ: ضمنی انتخابات اور طاقت کا ارتکاز


محمد علی مسافر

musafirہنزہ میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبر کے انتخاب کے لیے ضمنی انتخابات 28 مئی کو ہونے جا ر ہے ہیں ۔ یہ نشست اس وقت خالی ہوئی تھی جب ہنزہ سے منتخب امیدوار، میر غضفر علی خان کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔

گلگت بلتستان میں انتخابات پچھلے سال جون میں منعقد ہوئے تھے جس میں مسلم لیگ نون نے واضح اکثریت سے حکومت سازی کی تھی۔ ان انتخابات میں ہنزہ سے میر غضنفر منتخب ہو کر قانوں ساز اسمبلی کا ممبر بنے تھے۔ منتخب ہونے کے بعد میر غضنفر وزیر اعلیٰٰ کے منصب کی دوڑ میں بھی شامل تھے اور اس عہدے کی حصول کے لیے سیاسی جدو جہد کے ساتھ ساتھ ذاتی اثر و رسوخ بھی خوب استعمال کیا لیکن موجودہ وزیر اعلیٰ، حافظ حفیظ الرحمان کی پارٹی کےلیے بے حد خدمات اور عوام میں مضبوط جڑیں ہونے کی وجہ سے میر غضنفر کی کوششیں کام نہ آسکی۔ یوں میر صاحب پارٹی سے خفا رہنے لگے۔

اس دوران جب ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے تو میرغضنفر نے پارٹی سے ناراضگی اور مرکز میں اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اہلیہ، رانی عتیقہ کو نہ صرف ہنزہ کی خواتین کی سیٹ پر نامزد کروایا بلکہ منتخب بھی کروایا اور یوں ہنزہ کی باصلاحیت اور تعلیم یافتہ خواتین کو نظر انداز کر کے میاں کے ساتھ ساتھ بیگم بھی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی ممبر بن گئیں۔

بعد ازاں جب اس وقت کے گورنر پیر کرم علی شاہ نے اپنے عہدے سے استفعیٰ دیا تو میر صاحب نے گورنرشپ کے منصب کی حصول کے لیے اپنے تمام تر کوششیں تیز کر دیں۔ اس عہدے کے امیدواروں میں پارٹی کے بہت مخلص اور دیرینہ کارکن بھی شامل تھے لیکن میر اور ان کی اہلیہ کے مرکزی رہنماوں سے ذاتی روابط اور اثر و رسوخ کی بدولت میر صاحب گورنر مقرر ہوئے۔

میر صاحب کے گورنر مقرر ہونے کے بعد ہنزہ کی نشست کئی مہینے خالی رہی۔ آخر کار الیکشن کمیش نے 28 مئی کو ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد مختلف پارٹیوں میں امیداروں کے نامزدگی کا عمل شروع ہوا۔ مسلم لیگ ن نے بھی امیدواروں سے درخواستیں طلب کیں۔ سلیم خان (گورنر کے فرزند) سمیت کئی پارٹی ورکروں نے کاغذات نامزدگی جمع کیے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر پارٹی ٹکٹ پر موزوں امیدوار نامزد کرنے کے لیے ایک کمیٹٰی بھی تشکیل دی۔ ہنزہ بھر میں ایک سروےکرنے کے بعد یہ کمیٹی ابھی موزوں امیدواروں کے نام تشکیل دینے میں مصروف تھی کہ اچانک وزیر اعظم کے طرف سے امیداور کی نامزدگی کا خط موصول ہوا جس میں انھوں نے میر غضنفر کے صاحبزادے، سیلم خان کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ یوں میر غضنفر اور رانی عتیقہ کے ذاتی تعلقات اور اثر و رسوخ کا جادو ایک بار پھر چل گیا۔

اس غیر جمہوری عمل نے نہ صرف مقامی رہنماؤں کو پریشان کیا بلکہ کئی امیداروں اور کارکنان نے پارٹی سے بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یوں مسلم لیگ کی ایک جمہوری پارٹی ہونے کی- قلعی بھی کھل گئی۔

بعض لوگ وزیر اعظم کے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں. میرے خیال میں اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے۔ وزیر اعظم (بہت سارے پاکستانی سیاستداوں کی طرح) نہ صرف خاندانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔ اور یقیناََ وہ خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی نہیں کریں گے بلکہ ترغیب دینگے۔ ہنزہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔

میر غضنفر اور رانی عتیقہ کو اپنے بیٹے کو ہر صورت میں پارٹی امیدوار نامزد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں پیری عمر کی وجہ سے شاید وہ مستقبل میں عملی طور پر ہنزہ کی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے لہٰذا یہ بہترین موقع ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنےبیٹے کو منتخب کروایا جائے اور سیاست میں ان کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ چونکہ دوسری حالت میں ان کے بیٹے کی جیتنے کی امید بہت کم ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان پر الزام ہے کہ جب وہ سوست ڈرائی پورٹ میں ایک اچھے عہدے پر فائز تھے تو انھوں نے مبینہ طور پر من مانی کر کے نشنل بنک سے ڈرائی پورٹ کے نام کروڑوں روپے قرض لے کر خورد برد کیے۔ ( چند ہفتے پہلے اس قرض کی عدم ادائگی کی وجہ سے ایک عدلتی حکم میں ڈرائی پورٹ کو نیلام کرنے کا حکم دیا)۔ علاوہ ازیں سلیم خان کی ہنزہ میں اپنی سیاسی اور معاشرتی جڑیں نہ ہونے کے برابر ہے۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلم لیگ کے مرکزی اور علاقائی لیڈرز (بشمول وزیر اعلیٰ گللت بلتستان) اس خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے آج ہنزہ میں سرکاری مشینری استعمال کر کے سلیم خان کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ جس میں سرفہرست ماروی میمن صاحبہ ہیں جو حسب معمول بینظر انکم سپورٹس کا ہتھیار تھامے ہنزہ میں موجود ہیں۔

ہنزہ میں ضمنی انتخاب ابھی ہونا ہے۔ سلیم خان کے مقابلے میں کافی مضبوط امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے اسیر رہنما، بابا جان ایک دفعہ پھر جیل سے انتخابات لڑ رہے ہیں اور وہ نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہونے کی وجہ سے پچھلے سال انتخابات میں دوسرے نمبر پہ رہے تھے۔ اس دفعہ اگر انتخابات شفاف ہوئے تو ان کے جیتنے کا قوی امکان موجود ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اس دفعہ سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی وزیر بیگ امیدوار ہے جو سلیم خان کو پہلے بھی ہرا چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک تعلیم یافتہ اور قابل امیدوار، عزیر احمد بھی انتخابی دوڑ میں موجود ہے۔اس کے علاوہ آزاد امیدواروں میں کرنل(ر) عبیداللہ اور نیک نام بھی قابل ذکر ہے۔

اب دیکھنا یہ یہ کہ ہنزہ کے عوام 28 مئی کو کیا فیصلہ دیتے ہیں۔ اگر سلیم خان منتخب ہوجاتے ہیں تو اس کا منفی اثر نہ صرف ہنزہ کی سیاست پر ہوگا بلکہ گلگت بلتستان میں اقتدار کے ایک خاندان میں ارتکاز کی منفی مثال قائم ہوگی۔ جیسے کہ جون ڈلبرگ نے کہا تھا کہ طاقت بدعنوان بناتی ہے اور مطلق طاقت مکمل بدعنوان بنا دیتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments