آزاد ی ٔاظہارِ رائے بنام اسلام و مسلمان


مقدس شہر یروشلم کے مغربی حصہ میں ہولوکاسٹ میوزم کا دورہ کرنے کے بعد انتہائی شقی القلب شخص ہی اپنے آنسو روک پاتا ہے یا یہودیوں پر جرمن نازیوں کے ذریعے برپا ظلم و ستم کو صحیح ٹھہرا پائیگا۔ چند برس قبل میں نے اس میوزیم کا دورہ کیا۔

 استقبالیہ کاونٹر کے پاس کانوں میں لگانے والی کمنٹری مشینیں فراہم کروانے کے بعد ہماری بھارتی نژاد اسرائیلی گائیڈنے اندر رہنمائی کرنے سے معذوری ظاہر کی اور مشورہ دیا کہ اس میوزم کو انفرادی طور پر ، آزاد ذہن کے ساتھ بغیر نگرانی یا رہنمائی کے دیکھنا مناسب ہے۔

میں نے دیکھا کہ دیگر سیاحوں کو بھی گائیڈ اس میوزیم میں گھومنے کیلئے اکیلے چھوڑدیتے ہیں۔ مدہم روشنیوں کے درمیان ایک عجیب و غریب سوگوار فضا عالمی جنگ عظیم دوم اور یورپ کے شہروں کی نہ صرف عکاسی کرتی ہے، بلکہ لگتا ہے کہ زمان و مکان کو پیچھے دھکیل کر اسی دور میں پہنچ گئے ہیں۔

آپ ہال میں جس تصویر یا کسی شئے کے سامنے کھڑے ہیں اس کا اور ہال کا نمبر کمنٹری مشین میں دبائیں، تومطلوبہ زبان میں کمنٹری رواں ہو جاتی ہے اور لگتا ہے، جیسے یہ تصویر زندہ ہوگئی ہو۔

کریک ڈائون، سرچ آپریشنز، ہاتھ سروں پر رکھے قطاردر قطار مارچ کرتے ہوئے خواتین و مرد، ریل کی پٹڑیوں کی گھڑگھڑاہٹ، آہ و بکا کا ایک شور، پلیٹ فار م پر گوشت و پوست سے عاری انسانوں پر جرمن اہلکاروں کے برستے کوڑے ، عورتوں اور بچوں کی کسمپرسی اور پھر ان کو ہانک کر گیس چیمبر کی طرف لیجانا، غرض انسان کے وحشی پن اور انسانیت کی تذلیل کے ان واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے دم بخود ہونا لازمی ہے۔

ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے بعد مغربی ممالک خصوصاً یہودیوں کو انسانی حقوق اور انسانیت کے تئیں زیادہ حساس ہونا چاہئے تھا، مگر افسوس عذاب الٰہی کے بعد اسی روایتی بد عہدی اورریشہ دوانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے یہودی یا بنی اسرائیل کی قوم نے جنگ عظیم ختم ہوتے ہی نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پر شب خون مار کر ان پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے، بلکہ دیگر ممالک میں اپنے ذرائع و سائل کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بر انگیختہ کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے ہیں۔

ظلم تو یورپ کے عیسائیوں نے کیا ، مگر بدلہ ابھی تک مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ اسی کی ایک کڑی کے بطور حال ہی میں ہالینڈکے پارلیمنٹیرین گیرٹ وائلڈر نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کیا تھا۔وائلڈر نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ اس نے قتل کی دھمکیوں اور مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر مقابلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ دنیا بھر میں اس معاملے پر افرا تفری پھیلے۔

اس سے قبل ہالینڈکی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش روکنے کیلئے تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ واضح رہے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی اور سخت احتجاج کیا جا رہا تھا۔ یہ صرف ایک واحد واقعہ نہیں ہے، جس کو روکنے کی جیت کا سہرا مختلف تنظیمیں اپنے سر باندھنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

مجھے تو نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے سڑکوں پر اترنے یا دھمکیوں کی وجہ سے یہ مقابلے منسوخ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھی 2005ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع کردہ کارٹون اور پھر 2015 ء میں فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو کی اسکی دوبارہ اشاعت کرنے پر مسلمانوںکی یہ تنظیمیں سڑکوں پر آئی ہیں اور اسکا الٹا ہی اثر ہوتا آیا ہے۔

مغرب میں اسکو اظہار رائے پر حملہ کی صورت دیکر مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ کو بھڑکایا جاتا ہے۔ اب ایسے واقعات کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟ پاکستانی حکومت کے موجودہ رویہ میں ہی اسکا جواب پوشیدہ ہے ۔ تمام مسلم حکومتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر مغربی اور دیگر ممالک کیلئے ایک سرخ لکیر کھینچنی ہوگی، جس طرح کی لکیر مغرب نے ہولوکاسٹ کی نفی کیلئے کھینچی ہے۔

1988ء میں جب سلمان رشدی کی کتاب دی ستانک ورسز منظر عام پر آئی تھی ، تو ایران نے اس پر سخت موقف اختیار کیا، مگر دیگر مسلم ممالک نے اس کا ساتھ نہ دیکر عالمی برادری میں اسکو الگ تھلگ کروایا۔ آیت اللہ خمینی نے مصنف کی موت کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔

کئی سالوں تک اس پر زور دار بحث چھیڑی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جرنلزم کی پڑھائی کے دوران ، ہمارے ڈیپارٹمنٹ اور جواہر لال یونیورسٹی میں ایران کے اس موقف اور آیت اللہ خمینی کے فتویٰ کی نکتہ چینی میں چند عرب طالب علم پیش پیش ہوتے تھے، جو اپنے آپ کو روشن خیال ثابت کرنے کے زعم میں ایران اور شیعوں کو رجعت پسندثابت کروانے پر تلے ہوئے تھے۔

دو دہائی بعد جب افغانستان میں طالبان ، عرب میں القائدہ و داعش مغرب کے نشانہ پر آئے، تو شیعوں اور ایران نے اپنے آپ کو روشن خیال جتلا کر دہشت گردی کا ملبہ سنیوںپر ڈالنے کا کام کیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا نہ ہی کوئی مذہب نہ کوئی فرقہ یا مسلک ہوتا ہے۔

ابھی حال ہی میں سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات اس وجہ سے ختم کرلئے، کیونکہ کینیڈانے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر احتجاج درج کروایا تھا۔ کاش خادم الحرمین ایسا ہی موقف ان ممالک کے خلاف بھی اپناتے جو اظہار آزادی کی آڑ میں ان خاکوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

اگر مسلم ممالک کے حکمران بے حسی اور بزدلی کے آئے د ن ثبوت فراہم نہ کرواتے اور جسد ملت اپنی روح کے ساتھ موجود ہوتی، تو مغربی دنیا میں کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ پیغمبر اسلام و انسانیت کو نشانہ بناتا اور مسلمانوں کی دل آزاری کی ہمت جتاتا۔

بھارت میں بھی کئی افراد آزادی اظہار رائے کی آڑ میں پیغمبر حضرت محمدـــﷺ اور انکے اہل خانہ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرکے مسلمانوں کو زبردستی اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سیل سے مستعفی چند رضارکاروں نے آن ریکارڈبتایا کہ ان کو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔

بدقسمتی سے ہندو انتہاپسندوں کی ایما پر قائم ایک اور سیل کے انچارج پاکستان کے ایک مؤقر چینل کے بھارت میں نمائندے اور پریس کلب آف انڈیا کے سابق سیکرٹری جنرل اور سافما کے فعال رکن پشپندر کلوستے ہیں ، جو محمد رضوان کے نام سے آئے دن ویڈیو بنا کر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔

چونکہ موصوف علی گڑھ کے فارغ التحصیل ہیں نیزپاکستانی چینل کے نمائندے ا ور سافما کے رکن کی حیثیت سے پاکستان آنا جانا رہتا ہے، اسلئے اسلام سے متعلق واجبی سی اور مسلمانوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات رکھتے ہیں۔

 جب ان کی اس روش کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ہمدردی بٹورنے کیلئے اظہار آزادی رائے کو آڑ بناکر مسلمانوں کے رویہ کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ناموس رسالت ؐکے حق میں مسلمانوں کے ردعمل کو جمہوریت کے لئے خطرناک بتاتے ہیں۔

مگر یہی نام نہا ددانشور‘ ادیب ‘ مصنفین اور ٹی وی اینکر اپنے ملک کے اندر ہی اظہار رائے کی آزادی کا گلاگھونٹے جانے کے متعدد واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں ‘ گویا انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ابھی جس طرح پورے ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انکو حراست میں لیا گیا، اسکو یہ حق بجانب ٹھہرا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے ،کیونکہ یہ افراد دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے خلاف ہورہے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔ چار سال قبل فلم ساز نتیشا جین ‘ صحافی پرینکا بورپوجاری اور ستین باردولائی کو جب چھتیس گڑھ کے دانتے واڑہ میں گرفتار کیا گیا تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔وہ قبائلیوں پر ہونے والے مظالم اور نکسلی اور نکسل مخالف کارروائیوں کا جائزہ لینے گئے تھے۔

اظہار رائے کی آزادی کے یہ ’’مجاہد‘ ‘اس وقت بھی خاموش رہے جب 2010 میں امریکی مصنف اور دانشور پروفیسر Richard Shapiro کو حکومت بھارت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ویزا دینے سے انکار کردیا۔2010ء میں ہی جب مشہور براڈکاسٹر David Barasmian اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھارت پہنچے تو حکومت نے انہیں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے ہی بیرنگ واپس لوٹا دیا۔

کشمیر جانے کیلئے تو اب بھارتی وزارت خارجہ نے غیر ملکی نامہ نگاروں کے داخلہ پر ہی پابندی عائد کی۔ حقوق انسانی کے مشہور کارکن گوتم نولکھا، جن کے گھر پر ریڈ کرکے انکو فی الحال حراست میں لیا گیا ، اس سے قبل وہ 2011 ء میں بھی عتاب کا نشانہ بنے تھے۔

جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ چھٹیاں منانے گلمرگ جانا چاہ رہے تھے تو سری نگر ہوائی اڈہ پر انہیں رات بھر حراست میں رکھنے کے بعد دہلی لوٹنے کے لئے مجبور کردیا گیا۔2015 ء میں بھارت میں ایک اور ادیب اوراس کے ناول پر پابندی لگادی گئی ہے۔یہ تامل زبان کے ناول نگار رپرومل موروگن تھے۔ان کے ناول کے انگریزی ترجمے پر اس وجہ سے پابندی لگادی گئی ہے کہ اس میں موروگن نے ہندو مذہب کی قدیم رسم ’’نیوگ‘‘ کے بارے میں لکھا ہے۔

ناول نگار نے اس رسم پر نکتہ چینی کی ہے۔نیوگ رسم کے مطابق کوئی بے اولاد عورت بچہ پیدا کرنے کے لیے کسی غیر مرد یا پنڈ ت سے جنسی تعلقات قائم کرتی تھی اورا س رسم کو سماجی قدیم بھارت میں قبولیت حاصل تھی۔

موروگن نے اس ناول میں ذات پر مبنی طبقاتی کشمکش اور ظلم اور معاشرے کی برائیوں پر نکتہ چینی کی ہے جس سے ایک خاندان بکھر جاتا ہے اور ان کی ازدواجی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ان پر اتنی نکتہ چینی ہوئی اور ہوا ا س قدر برہم ہوئی کہ انہوں نے نہ صرف آئندہ قلم نہ اْٹھانے کی قسم لی بلکہ ناول کے ناشرین کو اس کی تمام کتابیں جلانے کی استدعاکی ۔

یہ تو صرف چند واقعات ہیںجن کا ذکر برسبیل تذکرہ آگیا ہے ورنہ ایسے واقعات کی گنتی مشکل ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا سب سے بڑا علم یورپ میں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے اس کی سب سے واضح مثال ہولوکاسٹ ہے۔ یہودیوں کے خلاف کوئی بات لکھنا یا ان کی مخالفت کرنا یا ہولوکاسٹ کو مفروضہ قرار دیناانتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔

یورپی یونین نے تو اپنے رکن ملکوں کے لئے باضابطہ ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ہولوکاسٹ کو غلط قرار دینے والے ادیبوں یا مصنفین کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ جس میں ایک سے تین سال قید بامشقت کی سزا بھی شامل ہے۔ 2003 ئمیں اس حکم نامے میں ایک اضافی پروٹوکول شامل کیا گیا جس میں ہولوکاسٹ کے خلاف انٹرنیٹ پربھی کچھ لکھنا قابل گردن زدنی جرم قرار پایا ہے۔

جن ملکوں میں ہولوکاسٹ کے خلاف کچھ بھی لکھنا انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے ان میں آسٹریا‘ ہنگری‘ رومانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ حالانکہ المیہ یہ ہے کہ یہی ممالک یہودیوں کے خلاف کارروائیوں میں آگے آگے رہے تھے۔1998 ء سے لے کر 2015 ء سترہ برسوں میں تقریباََ اٹھارہ ادیبوں اور مصنفین کو اظہار رائے کی آزادی کے علم برداروں کے عتاب کا شکار ہونا پڑا ہے۔

اس کی ایک فہرست یہاں دی جارہی ہے۔ تاریخ نام ملک سزا جین میری لی پین فرانس/ جرمنی جرمانہ فروری1998ء راجر گراوڈی فرانس دولاکھ 40 ہزار فرانک جرمانہ جولائی 1998ء یورگن گراف سوئٹزرلینڈ پندرہ ماہ قید جولائی1998ء گیرہارڈ فوسٹر سوئٹزرلینڈ بارہ ماہ قید مئی 1999ء جین پلانٹین فرانس چھ ماہ قید‘ جرمانہ اپریل 2000ء گیسٹن ارمانڈ سوئٹزر لینڈ ایک سال قید فروری 2006ء ڈیوڈ ارونگ آسٹریا ایک سال قید مارچ 2006ء جرمار روڈولف جرمنی ڈھائی سال قید اکتوبر 2006ء رابرٹ فائریسن فرانس 7500 یورو جرمانہ‘ تین ماہ نظربند۔

فروری 2007ء ارنسٹ زیونڈل جرمنی پانچ سال قید جنوری 2008ء وولف گینگ فرولچ آسٹریا چھ سال قید جنوری 2008 ء سلویا اسٹالس جرمنی ساڑھے تین سال قید مارچ 2009ء ہوسٹ مہلر جرمنی پانچ سال قید اکتوبر 2009ء ڈیرک زمرمین جرمنی نو ماہ قید۔

اکتوبر 2009ء رچرڈ ولیمسن جرمنی بارہ ہزار یورو جرمانہ جنوری 2013ء جیورگے ناگے ہنگری 18ماہ قید فروری2015ء وینسنٹ رینورڈ فرانس دو سال قید نومبر 2015ء ارسولا ہینر بیک جرمنی دس ماہ قید آزادی اظہار کے حق کے تعلق سے زیادہ دیر تک تعصب اور منافرت اور دوہرے معیار کی عینک نہیں لگائی جاسکتی۔ سب سے اول میڈیا کی آزادی کے حدود کا تعین کرنالازمی ا مر ہے۔

صحافت کومحض اسلام کی تضحیک سے یامسلم مخالف جنون کو مزید ہوا دینے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بقائے باہم ، کشادہ ذہنی اور مذہبی رواداری اور ایک دوسرے کے تئیں احترام کے جذبہ کو فروغ دیا جائے۔ مگر اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری مسلمانوں پر خود عائد ہوتی ہے، جنہوں نے اسلام کے سماجی، معاشی نیز افکار و نظریات کے انقلاب کو عام کرنے کے بجائے اسکو مسئلکوں کے کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید یہ کہ آوٹ ریچ کے ذرائع کو بند کرکے اپنے آپ کو ایک خول میں بھی بندکیا ہوا ہے۔ بائیں بازو کے ایک مفکر کوبڈ گاندھی جو دہلی کی تہاڑ جیل میں پارلیمنٹ حملہ میں پھانسی کی سزا پا چکے کشمیر ی نوجوان افضل گورو کے ساتھ کئی ماہ سیل میں ساتھ تھے،ان کا کا کہنا ہے کہ افضل کے ساتھ گفتگو کے دورا ن ان کو پتہ چلا کہ کمیونزم کے سماجی انصاف و برابری کا سبق تو اسلام 1400سال قبل سنا چکا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو تفرقوں کے کوزے سے باہر نکال کر اپنے کردار و اعمال سے ثابت کریں کہ اسکے افکار و نظریات ہی واقعی انسانیت کی معراج ہے۔

بشکریہ نائنٹی ٹو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).