امن کے لئے ذہنی نااہلی کی تصدیق


Khalid ahmadامریکیوں نے طالبان کے امیر ملا منصور کو پاکستان میں ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔ اس ڈرون حملے  نے طالبان اورتین انتہائی “غرض مند” ممالک یعنی امریکہ، چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ اب افغان طالبان کے گینگ مزید ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے اور اپنا لوٹ مار پر مبنی جہاد الگ الگ جاری رکھیں گے۔ کچھ داعش سے مل جائیں گے جس کے کارندے پہلے ہی کراچی تک پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان نے اس دخل اندازی کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے جو اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے کیوںکہ پاکستان تو غیر ملکی دہشت گردوں کی اپنے علاقوں میں موجودگی سے بھی منکر ہے۔ اس سے پہلے ملا عمر اور اس کی افغانوں پر مشتمل کوئٹہ شوریٰ کی پاکستان میں موجودگی سے بھی صاف انکار کیا گیا تھا، دنیا یہی سمجھتی ہے کہ ان کی نشونما میں پاکستان کا حصہ ہے مگر پاکستان کی جانب سے کبھی بھی نہیں مانا گیا۔ اسامہ بن لادن امریکیوں کے مارنے اور اس کے جسم کو ہمراہ لے جانے سے پہلے ایبٹ آباد میں تین سال تک رہا۔ اب امن مذاکرات ختم ہوچکے ہیں، یہ مذاکرات پاکستان کے لیے بہت اہم تھے کیوںکہ افغانستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک چین، چار ملکی مذاکراتی کمیٹی کا رکن تھا۔

ملا منصور کے لیے یہی بہتر تھا کہ وہ امن مذاکرات سے انکار کرے کیوںکہ وہ تمام طالبان گروہوں کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اب جبکہ اسے امریکیوں نے مار دیا ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان کا اگلا امیر سراج الدین حقانی ہوسکتا ہے۔ اس سے معاملات اور بگڑیں گے کیونکہ پاکستانی علاقوں میں موجود اس کے حقانی نیٹ ورک کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات پہلے ہی خراب ہو چکے ہیں۔ کابل اور اسلام آباد کو اب آنے والے خطرے کے لیے تیار رہنا چاہئے، دونوں پہلے ہی عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے (جی ہاں دونوں کہتے تو یہی ہیں)۔

دونوں بے حال متاثرہ ممالک، یعنی پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنے مسائل کا حل تو یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ مگر اسلام آباد میں بیٹھے چودہری نثار علی اس ضرورت سے لا علم معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو پاک فوج کی جانب سے انگور اڈہ کی سرحدی چیک پوسٹ افغان آرمی کے حوالے کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے یہ اقدام فی الواقع “پاک افغان برادرانہ تعلقات قائم کرنے اور سرحدی انتظام کی بہتری کے تزویراتی ارادے کے تحت کیا ہے۔”

اس کا مطلب ہے کہ ایک اور جھگڑا شروع ہونے کو ہے، مگر اس دفعہ ڈیورنڈ لائن کے اِس جانب۔ آرمی نے اگرچہ اس کا جواب دیا ہے: “اس معاملے کے درمیان یہ بتایا گیا تھا کہ تمام سرحدی تنازعات بھائی چارہ کی فضا میں باہمی مشورے سے حل کیے جائیں گے”۔ دفتر خارجہ اور وزارت داخلہ اس وقت احتجاج میں مصروف ہیں، یہ جانے بغیر کہ آخر یہ احتجاج ہے کس کے خلاف؟ نیز اس بات سے بھی مکمل لا علم ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان خطے اور دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا۔ ایسے میں سیاستدان اقتدار کی کھینچا تانی میں مصروف ہیں اور ایک حکومت کو مدت اقتدار کے درمیان میں ہی ہٹانے کی کوشش میں ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

بشکریہ  نیوز ویک پاکستان (ترجمہ ملک عمید )


Comments

FB Login Required - comments