چارلی ولسن کے ایصال ثواب کے لئے دو نفل


zafar kakarزندگی کی پہلی کہانی غالباَ ابن صفی کی ’گم شدہ شہزادی ‘ پڑھی تھی۔ اس کے بعد جب بھی عمران سیریز ہاتھ لگتی تو کوفت شروع ہو جاتی کہ کہانی صفدر یا جولیانا فٹز سے کیوں شروع ہوتی ہے۔ کتنے ایسے ابواب چھوڑنے پڑتے جس میں عمران کا ذکر نہ ہوتا۔ عرصے بعد سمجھ آیا کہ واقعات کی ترتیب پر غور کرنے سے کہانی سمجھ آتی ہے۔ پھر ایک دن درویش نے گتھی سلجھا دی۔ لکھا تھا، ’پلاٹ کہانی کے واقعات کو حسب منشا ترتیب دینے کا نام ہے۔ تو صاحب اگر منشا معلوم کرنا ہو تو واقعات کی ترتیب پر غور کرنا چاہئے‘۔ کچھ واقعات ہیں جو کرب و اضطراب کی جانگسل کہانی کو بیان کرتے ہیں۔

جارج کرائل سوئم مشہور امریکی صحافی تھے۔ انہوں نے تین دہائیاں سی بی ایس نیوز کے ساتھ کام کیا۔ 2003 میںان کی کتاب ’ Charlie Wilson’sWar‘   بیسٹ سیلر رہی۔ کتاب کا موضوع امریکی سی آئی اے کی افغانستان میں روس کے خلاف ’جہاد‘ ہے۔ اس کتاب میں جارج نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت کیسے کام کرتی ہے۔ اصل موضوع کتاب کا عنوان ہے۔ چارلی ولسن جون 1933 کو امریکی ریاست ٹیکساس میںپیدا ہوئے۔ 1956 سے 1960 چارلی نے امریکی نیوی میں بطور لیفٹین کام کیا۔ چارلی کو وہاں سے پینٹاگان بھیج دیا گیا جہاں وہ ایک انٹیلی جنس یونٹ میں پوسٹ ہوا جس کا کام سوویت یونین کے نیوکلئیر فورس کا تخمینہ لگانا تھا۔ آئندہ دنوں میں چارلی نے نیوی سے ایک ماہ کی رخصت لی اور ٹیکساس کے ریاستی الیکشن میں ڈیموکریٹک George Crile and Charli Wilsonپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن کے لئے کھڑے ہو گئے۔ یہاں سے چارلی نے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔ 1972 پہلی بار امریکی House of Representative کے لئے ٹیکساس سے منتخب ہوئے اور پھر 1996تک گیارہ مرتبہ منتخب ہوتے رہے۔ جارج کرائل کے مطابق چارلی ولسن 1980 میں United States House Committee on Appropriations کے سربراہ تھے جس کا کام سی آئی اے کو آپریشنز کے لئے فنڈز جاری کرنا تھا۔ تب ہی چارلی نے کانگریس کی ایک کیبل پڑھ
لی جس میں افغان ’ثور‘ انقلاب کے نمائندوں کی جانب سے سوویت یونین کو مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ چارلی نے کمیٹی کی میٹنگ طلب کی اور سی آئی اے کے خفیہ فنڈ برائے افغانستان میں دوگنے اضافے کا مطالبہ کیا جو منطور کر لیا گیا۔  1983 میں چارلی نے مزید چالیس ملین ڈالر افغانستان کے لئے حاصل کئے۔ ایک سال بعد سی آئی کے ایک افسر نے سی آئی اے کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست چارلی ولسن سے رابطہ کیا اور پچاس ملین ڈالر کا مزید مطالبہ کیا۔ چارلی کانگریس کو اس پر قائل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس موقع پر چارلی نے کانگریس میں ایک مشہور جملہ کہا۔ ’ امریکہ کو افغانوں کی جنگ سے بے شک کچھ نہیں لینا مگر تاریخ ہم کو کبھی معاف نہیں کرے گی اگر ہم نے ان کو پتھروں سے لڑنے دیا‘۔ اسی سال کے ختم ہونے سے پہلے اس مقدس فرض کے لئے چارلی مزید تین سو ملین ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ ڈالر کہاں جاتے رہے اور اس سے کونسی مقدس جہاد لڑی گئی یہ ایک پوری داستان ہے۔ اس داستان کے کچھ گوشے برگیڈئیر ریٹائرڈ محمد یوسف کی کتاب ’خاموش مجاہد‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

Charlie_Wilson_with_Afghan_man1978 میں واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی صفحے کے مدیر Kathleen McLean نے Good Time Charlie کے نام سے ایک سٹوری شائع کی جس میں بتایا گیا تھا کہ چارلی ولسن کی نجی مصروفیات کیسی ہیں۔ یہ ایک ہوش ربا مضمون تھا جس میں ہاٹ ٹب کے اوپر لٹکتی ہتھکڑیوں کا بھی ذکر تھا۔ پھر چشم رسا نے دیکھا کہ Elan-Washington Clubکے مالک، مشہور زمانہ پلے بوائے چارلی ولسن خود گلے میں بندوق لٹکائے افغان مجاہدین کے سنگ مصروف جہاد ہے۔

یہ وہی زمانہ تھا جب ماما عبدالخالق ایک ڈبل ڈور سرخ پک اپ میں اسلحہ برداروں کے ساتھ کوئٹہ سے قندھار آتے جاتے تھے۔ ماما عبدالخالق پرانی انگریزی فلموں کے اس ولن سے ملتے جلتے جس کی ایک آنکھ پر کالی پٹی بندھی ہوتی تھی اور ایک ٹانگ لنگڑی تھی۔ ولن تو صرف کردار نبھانے کے لیے ایسا بھیس بدلتے تھے جبکہ ماما حقیقت میں وہی تھے۔ جہاد کے ایک چھوٹے سے کمانڈر رہ چکے تھے۔ ٹانگ بارودی سرنگ کھا گئی جبکہ آنکھ میں روسی فوجی کی گولی لگی تھی۔ ماما نے ایک بار جہاد کا ایک واقعہ سنایا تھا۔ اگر یہ واقعہ کہیں اور نظر سے نہ گزرتا تو اس کو نقل کرنے کی ہمت نہ ہوتی لیکن مشہور افغان شاعر و مصنف عبدالباری جہانی نے اپنے ناول ’ war_effectکمندان‘ میں اس کا ذکر کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ واقعے میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہو گی۔ ماما کے بقول ثور انقلاب کے حامیوں اور مجاہدین کی لڑائی میں ایک جماعت کے کمانڈر نے تہیہ کیا تھا کہ وہ دوسری جماعت کے لوگوں کی لاشوں پر دو رکعت نفل شکرانہ کی نماز پڑھیں گے۔ پھر ایک وقت آیا کہ شدید لڑائی میں دوسری جماعت کے بہت سے لوگ کمانڈر صاحب کی فوج کے ہاتھ لگے۔ ان کو قتل کرنے بعد کمانڈر صاحب نے ان کی لاشوں کو اوپر تلے رکھوایا اور ان پر ایک قالین بچھا کر اوپر ہی نماز کے لئے نیت باندھی۔

ایک سجدہ یہ تھا اور ایک سجدے کا ذکر برگیڈیئر ریٹائرڈ محمد یوسف صاحب نے اپنی کتاب ’خاموش مجاہد‘ میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں، ’ جنرل اختر کی سب سے بڑی آرزو جو بدقسمتی سے پوری نہ ہو سکی ، یہ تھی کہ افغانستان میں روسیوں کی شکست کے بعد وہ کابل کا دورہ کریں گے اور اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں گے کہ اس نے افغان مجاہدوں کی سرزمین کو دشمنوں سے پاک کر دیا‘۔ آپ کڑیوں سے کڑیاں ملائیں تو کہانی کا پلاٹ واضح ہو جائے گا میں آپ کو اس پس منظر میں چارلی ولسن کی زندگی کا ایک اور مشہور واقعہ بتا دیتا ہوں تاکہ کہانی اور واضح ہو جائے ۔

جارج کرائل نے چارلی سے اس کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ پوچھا تو چارلی بتاتا ہے کہ 1980 کے گرمیوں کی وہ شام اسے یاد ہے جب ایک ہاٹ ٹب میں دوبرہنہ لڑکیوں کے ساتھ تھا جن کے پاس وافر مقدار میں کوکین تھی۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ شام کتنی پرسکون تھی۔

KABUL, AFGHANISTAN - NOVEMBER 20: A girl helps her father put on his leg braces at the International Committee of the Red Cross (ICRC), orthopedic centre on November 20, 2012 in Kabul, Afghanistan. The ICRC rehabilitation centre works to educate and rehabilitate land-mine victims, and those with limb related deformities, back into society and employment offering micro-credit financing, home schooling and vocational training to patients. The clinic itself is unique in that all of the workers are handicapped. The ICRC centre in Kabul has registered over 57,000 patients and 114,000 countrywide in all of their centres since its inception 25 years ago. (Photo by Daniel Berehulak/Getty Images)

 کل ہی کسی نے پوچھا کہ اختر منصور کی کہانی کیا ہے۔ سوچتا رہا کہ شاید دس سال بعد کوئی جارج کرائل کسی چارلی ولسن کی داستان لکھے گا تو معلوم ہو گا کہ اختر منصور یا ملا عمرکی کہانی کیا تھی اور مقدس سرزمین پر سجدوں کے خواہش مند کون تھے۔ چالیس سال ہونے کو آئے۔ افغانوں کے رنج و الم کی داستان تمام نہ ہوئی۔ یہ مسخ خوابوں کی داستان ہے۔ یہ انسانی خون پر تقدس کے غلاف کی کہانی ہے۔ اور ایسی کہانیوں کے کردار ماما عبدالخالق جیسے ہوتے ہیں ۔ جانے کس نے ایک دن ماما سے کہا کہ ماما امریکی جوتے بہت آتے ہیں۔ آپکی داہنی ٹانگ تو ہے نہیں توداہنے جوتے کا کیا کرتے ہو؟ ماما مسکرایا اور کہا، ’ہماری گلی کے تندور والے کی بائیں ٹانگ نہیں ہے‘۔ دیکھ لیجیے جہاں نسلوں کی آنکھیں گولیوں اور ٹانگیں بار ودی سرنگوں کی نذر ہو جاتی ہیں وہاںکمانڈر لاشوں پر شکرانے کے نوافل پڑھتا ہے۔ ممکن ہے جارج ولسن کے ایصال ثواب کے لئے پڑھے ہوں۔

(بھائی ظفراللہ جہاں اتنا لکھا تھا وہاں یہ بھی بتا دیتے کہ امیر المومنین جنرل  ضیاالحق  چارلی ولسن کے ساتھ تشریف لانے والی عفیفہ خواتین کے لئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا اہتمام کیا کرتے تھے۔۔۔۔ مدیر) 


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah