غرانا چھوڑیئے، گھر کی خبر لیجئے!


mujahid aliطالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے تین روز بعد پاکستان کے پالیسی ساز امریکہ کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز اور سیاسی و سفارتی حلقوں کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس حملہ کے بعد خفت مٹانے کے لئے اب امریکی حکام کو یہ باور کروانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ ملا اختر منصور کو مار کر انہوں نے اپنے پاﺅں میں خود ہی کلہاڑی مار لی ہے۔ اب ایک طرف طالبان سخت ناراض ہوں گے اور اپنے لیڈر کی موت کے بعد ان میں انتشار بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے لئے انہیں مذاکرات کے لئے آمادہ کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ دوسری طرف طالبان پر انتہا پسند گروہوں کے قابض ہونے کی صورت میں داعش جیسی تنظیم افغانستان میں پاﺅں جمانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ذرائع کے علاوہ ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ایک پریس کانفرنس میں امریکہ پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کی باتیں سن کر یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی نظام کی یہ خوبی بہرصورت موجود ہے کہ ہر شخص وہ کام کرنا چاہتا ہے جس کا بظاہر اس کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

چوہدری نثار علی خان ملک کے وزیر داخلہ ہیں۔ امریکہ کے ڈرون حملے اورطالبان کے ساتھ مذاکرات کے سوال پر وزارت خارجہ یا فوج کے نمائندے کو بات کرنی چاہئے۔ لیکن اس کی بجائے وقوعہ کے چار روز بعد وزیر داخلہ کو خیال آیا ہے کہ حکومت کو پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف امریکی جارحیت پر احتجاج کرنا چاہئے۔ چوہدری نثار علی خان نے اپنے مخصوص انداز میں یہ کام بخوبی سرانجام دیا ہے لیکن ان کی گرم سرد باتیں لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر سکیں گی۔ کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جارحیت کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ اس لئے اگر اس کا صدر اور وزارت خارجہ یہ اعلان کرتی ہے کہ امریکہ کے دشمن کہیں چین سے نہیں بیٹھ سکتے تو ان کا اشارہ صرف پاکستان کی طرف ہے۔ اگرچہ پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ نے مارچ میں یہ تسلیم کیا تھا کہ طالبان کے اہل خاندان پاکستانی علاقوں میں مقیم ہیں لیکن امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کو یہ بات برس ہا برس سے معلوم ہے کہ پاکستان طالبان کو ہر قسم کی مدد فراہم کرتا ہے اور ان رابطوں پر اعتراض سامنے آنے کی صورت میں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ یہ رابطے طالبان کو معتدل مزاجی کی طرف مائل کرنے کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ ان حالات میں امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کی باتوں کا اعتبار نہیں کرتا۔ وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے اس بداعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ بدستور اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ ہفتہ کے روز میزائل حملہ میں مارا جانے والا دوسرا شخص جو کہ ولی محمد کے نام سے سفر کر رہا تھا، ملا اختر منصور تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ مستعد پاکستانی حکام ڈرون حملہ کے تھوڑی ہی دیر بعد نوشکی کے مقام پر تباہ شدہ گاڑی سے جلی ہوئی لاشوں کو قبضے میں لینے کے لئے پہنچ گئے تھے۔ اس کے چند گھنٹے کے اندر ہی گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت کر کے اس کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی تھی۔ اب وزیر داخلہ بتاتے ہیں کہ دوسرے شخص کی لاش لینے کے لئے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملا اختر منصور کا رشتہ دار ہے۔ اس کی لاش اسے دی جائے۔ لیکن حکام پہلے اس شخص اور مرنے والے کا ڈی این اے DNA ملا کر دیکھیں گے کہ وہ واقعی سچ کہہ رہا ہے، پھر لاش کسی کے حوالے کی جائے گی۔ تو کیا اسے بھی حکومت پاکستان اور اس کے اداروں کی بدترین نااہلی سمجھا جائے کہ ان کے پاس طالبان کے ایک ایسے لیڈر کا ڈی این اے سیمپل بھی موجود نہیں تھا جس کے اہل خانہ کوئٹہ میں رہتے تھے اور جو پاکستانی پاسپورٹ پر ملکوں ملکوں سفر کرتا رہا تھا۔ وزیر داخلہ کو امریکہ کو اخلاقیات اور سیاسی بصیرت کا سبق سکھانے کی بجائے یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ ملا اختر منصور پاکستانی پاسپورٹ پر کیوں سفر کر رہا تھا۔ اور کیا وجہ ہے کہ حکومت اب تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان، طالبان کے مختلف دھڑوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ملا اختر منصور کی لاش اس گروہ کے حوالے کی جائے گی جو مستقبل کی قیادت کے سوال پر پاکستان کے منصوبہ پر عمل کرنے کا وعدہ کرے گا۔ گویا ایک مرے ہوئے شخص کو تجہیز و تکفین کے لئے اس کے خاندان کے حوالے کرنے کی بجائے اس کی لاش پر سیاست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان ماضی قریب میں اس قسم کے ہر ہتھکنڈے میں ناکامی کا منہ دیکھتا رہا ہے۔ اب بھی حقائق سے انکار کرنے اور امریکہ کو خوفزدہ کرنے کے لئے مختلف منظر نامے تراشنے سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پرامن افغانستان کے لئے پاکستانی خواہش کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اس وقت افغانستان کے امن کا نہیں ہے بلکہ پاکستان میں امن بحال رکھنے اور اسے امریکہ جیسی طاقت کے جارحانہ حملوں سے محفوظ رکھنے کا سوال ذیادہ اہم ہے۔ حکومت پاکستان اس ملک کی حفاظت کرنےکے لئےاس کے باشندوں کو جوابدہ ہے۔ پاکستان کے عوام یہ سادہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ تین دہائیوں سے جاری افغان حکمت عملی میں پاکستان کے شہریوں کو لاشوں اور تباہی کی سوا کیا تحفہ ملا ہے کہ فوج اور اس کے دباﺅ میں آئی ہوئی سیاسی حکومت بدستور افغانستان اور طالبان کے مسئلہ پر سیاست کرنے کے درپے ہے۔

اب تو چوہدری نثار علی خان سمیت ملک کے ہر ذمہ دار کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کیا کوئی ایسا راستہ باقی رہ گیا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملکوں میں “مسلمان بھائیوں“ کی مدد سے ہاتھ کھینچ کر اپنے ملک میں آباد یکساں طور سے “مسلمان شہریوں“ کی بہبود اور سلامتی کے لئے کوئی اقدام کر سکے۔ قیام پاکستان کے بعد سے پاکستانی عوام کو کشمیر کے نام پر بھارت کے خلاف آمادہ بہ جنگ کیا گیا۔ ملک کا تعلیمی سلیبس اور رہنمائی کرنے والا دانشور بدستور عوام کو یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ کشمیر پر پاکستان کے قبضہ کے بغیر نظریہ پاکستان کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے براہ رست جنگوں میں ناکامی کے بعد افغان جنگ کے تجربہ کی روشنی میں عسکری گروہوں کی مدد سے جنگجو مقبوضہ کشمیر روانہ کئے گئے۔ جب یہ کارروائی بھی کارآمد نہ ہوئی تو بھارت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ بھارت کی طرف سے جوابی کارروائی کے طور پر تخریب کاری اور سازشوں کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کے لیڈر اور طاقتور حلقے یہ سمجھنے اور سمجھانے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ کشمیر کے عوام کی آزادی کے لئے پاکستان صرف اپنی بساط کے مطابق ہی کوشش کر سکتا ہے۔ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ایک ناقابل عمل تصور ہے۔ اسے ترک کرنے اور کشمیری عوام کا یہ حق تسلیم کرنے میں ہی سب کی بھلائی ہے کہ وہ اپنے مقدر کا فیصلہ خود ہی کر سکتے ہیں۔ اہل علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی نسلوں کو کشمیر بنے گا پاکستان، کے نعرے کی بنیاد پر پروان چڑھانے پر مصر ہیں۔

ابھی اس نعرے بازی کے مہلک اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو سکی تھی کہ طالبان کے ذریعے افغانستان کو پاکستان کی پناہ گاہ بنانے کی محیر العقل حکمت عملی کا آغاز کیا گیا۔ 9/11 کے بعد یہ منصوبہ بندی منہ کے بل آ گری لیکن پاکستان اس رویہ کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسٹریٹیجک ڈیپتھ Strategic Depth کا نظریہ پیش کرنے والے کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ آخر اس سے اس کے سوا کیا مراد لی جا سکتی ہے کہ اگر بھارت کے حملہ کی صورت میں دشمن اپنی بے پناہ فوجی قوت کی بنیاد پر پاکستانی دفاعی لائن کو روندتا ہوا، اس کے شہروں اور رقبے پر قابض ہو جائے تو پاکستانی افواج افغانستان کی سرزمین میں دوسری دفاعی پوزیشن قائم کر سکیں۔ اس تصوراتی دفاعی حکمت عملی کے خالق زرخیز دماغوں کو اب یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دو دہائی سے جس متبادل کے لئے کام کرتے ہوئے ملک کو میدان جنگ بنا لیا گیا ہے اس سے آخر پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسی دورازکار حکمت عملی کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو اب کئی نئے دشمنوں کا سامنا ہے۔ ملک کے اندر گروہی اور فرقہ وارانہ تقسیم اور انتشار اس کے علاوہ ہے۔

کشمیر کو پاکستان بنانے اور افغانستان کو پاکستان کا دفاعی حصار بنانے کا زمانہ لد چکا۔ اب ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اہل پاکستان کو خود اپنے ملک پر توجہ دینے اور اپنے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان کے دشمنوں میں کمی ہو گی اور اس کی سرحدیں بھی محفوظ ہو سکیں گی۔ پاکستان خود دشمنی نبھانا چھوڑ دے تو ہمسائے بھی ہتھیاروں کا رخ پاکستان کی طرف نہیں کریں گے۔ یہ حکمت عملی دنیا کے کئی خطوں میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک شکست کے بعد شطرنج کی نئی بازی جمانے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ بھی ماضی سے مختلف نہیں ہو گا۔ پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ وہ جو مشورہ دوسروں کو دے رہا ہے، اس پر خود بھی عمل کرے۔ یعنی ہمسایہ ملکوں میں مداخلت کا سلسلہ بند کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali