“بددیانتی” کی تاریخ


shadab murtazaاشتراکیت کے “انسانیت کے خلاف جرائم” کے حوالے سے عبدالمجید عابد صاحب نے اپنے کالم میں اشتراکیوں پر تاریخ کو “بددیانتی” سے پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے.

عابد صاحب یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ آزادی نسواں، انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، اظہارِ رائے وغیرہ کے ضمن میں سوشلسٹ تحریک نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے لیکن دوسری جانب اشتراکیت کے خلاف مبارک حیدر صاحب کا حوالہ دیتے ہیں کہ سوشلسٹ نظریہ “خراب” ہے! خراب نظریہ رکھنے والوں نے عورتوں، محنت کشوں، آزادیٔ رائے، انسانی حقوق وغیرہ کے ضمن میں “نمایاں کامیابیاں” کیسے حاصل کیں، یہ گتھی ان کی “دیانت داری” ہی سلجھا سکتی ہے. ہماری عقل تو یہ کہتی ہے کہ خراب نظریے سے اچھے نتاٰئج برآمد نہیں ہو سکتے۔

اپنے “دیانت دارانہ” کالم کا آغاز انہوں نے کرائمیا کی تاتار آبادی کی “ظالمانہ” نقل مکانی کے واقعے سے کیا ہے۔ کہتے ہیں جس دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی ہو وہ دیوار آسمان تک بھی چلی جائے تو ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔ اس واقعے کا جائزہ ہی ان کے موقف کی پورے کالم میں بکھری ہوئی “دیانت داری” اور سوویت یونین کی تاریخ سے واقفیت کی جانچ کے لیے کافی ہے۔

22 جون 1941 کو ہٹلر کی فاشسٹ جرمن افواج نے آپریشن بارباروسا کے تحت سوویت یونین پر حملہ کردیا اور 1943تک یوکرین پر قبضہ کر لیا۔ 11 مئی 1944کو سوویت یونین کی اسٹیٹ ڈیفینس کمیٹی نے کرائمیا کے تاتاریوں کی نقل مکانی کا حکم نامہ جاری کیا جس میں وجہ یہ بتائی گئی کہ “وطن کے دفاع کی جنگ میں کرائمیا کے بہت سے تاتاریوں نے مادرِ وطن سے غداری کی اورکرائمیا کا دفاع کرنے والے سرخ فوج کے یونٹ چھوڑ کر سرخ فوج کے خلاف لڑنے کے لیے بنائے گئے جرمن فوجی یونٹوں میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوگئے….کرائمیا کے دفاع میں لڑنے والے سوویت شہری دستوں کے خلاف وحشیانہ حملوں میں جرمن فاشسٹ فوج کا ساتھ دیا…اور جرمن فوج کے ہاتھوں سوویت شہریوں پر پرتشدد کارروائیوں اور ان کی نسل کشی میں جرمن فوج کا ساتھ دیا…کرائمیا کے تاتاریوں نے “تاتار نیشنل کمیٹیوں” میں, جنہیں جرمنی کے انٹیلجنس اداروں نے منظم کیا تھا, شرکت کر کے, جرمن قبضہ گیر حکام کے ساتھ سرگرمی سے تعاون کیا…کرائمیا کے تاتاریوں کی مدد سے, تاتار نیشنل کمیٹیوں نے, جن میں سرکردہ کردار نقل مکانی کر کے کرائمیا میں آنے والے تاتار سفید محافظوں (سوویت حکومت کے اندرونی مخالف فوجی دستے) نے ادا کیا, کرائمیا کی غیر تاتار آبادی کو ظلم وجبر کا نشانہ بنایا اور جرمن فوج کے ساتھ مل کر کرائمیا کو بزور طاقت سوویت یونین سے الگ کرنے کی تیاریوں میں شرکت کی.”

عابد صاحب اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تاتاریوں کی جانب سے جرمن فوج کی مدد کو روس سے “غداری کے مترادف” ٹھہرایا گیا! گویا ان کی نظر میں وطن کے دشمن سے مل کر وطن کے خلاف لڑنا غداری نہیں بلکہ وفاداری ہے! لہذا, فاشسٹ جرمن فوج کے ساتھ مل کر سوویت حکومت سے لڑنے والے تاتاری ان کی نظر میں غدار نہیں بلکہ ہمدردی کے مستحق ہیں! ان کی یہ منطق ان کے “دیانت دارانہ” نکتہ نظر پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔

کرائمیا کے تاتاریوں کی نقل مکانی کس قدر ظالمانہ تھی اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہم اسٹیٹ ڈیفینس کمیٹی کے حکم نامے سے وہ ہدایات پیش کرتے ہیں جن میں نقل مکانی کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے. اس قسم کی نقل مکانی کی مثال کہیں اور دستیاب ہو تو اسے ضرور سامنے لایا جائے. حکم نامے میں کہا گیا کہ:

“…نقل مکانی کرنے والوں کو ذاتی استعمال کی چیزیں, کپڑے, گھریلو سامان, برتن اور پانچ سو کلو گرام غذا ساتھ لے جانے کی اجازت ہے

ہر رہائشی علاقے اور زرعی فارم میں لائیو اسٹاک, اناج, سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کی تبادلے کی رسیدیں جاری کی جائیں گی۔

اس سال پہلی جولائی تک تبادلے کی رسیدوں کے مطابق تمام نقل مکانی کرنے والوں کو لائیو اسٹاک, اناج, سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس فراہم کی جائیں گی.

نقل مکانی کے لیے افراد کو لے جانی والی ہر ٹرین میں ایک ڈاکٹر, دو نرسیں اور مناسب مقدار میں ادویات مہیا کی جائیں گی؛ ابتدائی طبی امداد کا بندوبست بھی کیا جائے گا.

ہر ٹرین میں گرم غذا اور ابلے ہوئے پانی کی روزآنہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا

نقل مکانی کرنے والوں کو (ازبکستان) میں صنعت و زراعت میں روزگار مہیا کرنے کے لیے ریاستی فارمز, مشترکہ زرعی فارمز, کاروباری فارمز اور فیکٹریوں سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی میں بسایا جائے گا.

نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو کاشتکاری کے لیے زرعی زمین الاٹ کی جائے گی اور گھر بنانے کے لیے تعمیری سامان دیا جائے گا۔

نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو زرعی بینک کی جانب سے گھر کی آرائش کے لیے 5ہزار روبل مالیت کا قرضہ دیا جائے گا جس کی واپسی 7 سال میں کرنی ہو گی۔

جون سے اگست کے دوران, تمام نقل مکانی کرنے والوں کو ان زرعی اجناس کے بدلے جنہیں ان سے خالی کرائے گئے علاقوں میں لیا گیا تھا, اناج, دلیہ اور سبزیاں مفت فراہم کی جائیں گی.”

یہ ہدایات اس ظالم و جابر سوویت حکومت اور اس کے آمریت پسند حاکم جوزف اسٹالن کی جانب سے ان “غداروں” کی نقل مکانی کے لیے جاری کی گئیں جنہوں نے سوویت یونین پر حملہ کرنے والی دشمن نازی جرمن فوج کا ساتھ دیا اور سوویت یونین کے شہریوں کے قتل و غارت میں ان کے ساتھ شامل رہے! اس سے بھی عابد صاحب کے “دیانت دارانہ” موقف میں کافی مضبوطی پیدا ہوتی ہے!

وہ سب جو کرائمیا کے تاتاریوں نے سوویت یونین کے خلاف کیا اگر وہی کچھ انہوں نے نازی جرمنی کے ساتھ کیا ہوتا تو ان کی نقل مکانی کے بجائے انہیں قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے اڑا دیا جاتا اور اجتماعی قبروں میں پھینک کر دفنا دیا جاتا جو کہ سفاک و درندہ صفت جرمن فوج کا عام طریقہ کار تھا۔

تاہم اشتراکیت کے نقادوں کو ہٹلر اور اسٹالن میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا. وہ ہٹلر کے جرائم بھول چکے ہیں اور اس کی جگہ اسٹالن کو کھڑا کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اشتراکیت کے نقاد بائیں بازو کے ہوں یا دائیں بازو کے,ان کا تنقیدی “مواد” فاشسٹ جرمن اور لبرل امریکی پروپیگنڈہ اور جرمن, جاپانی اور امریکی سامراجی قوتوں سے سازباز کرنے والی سوویت یونین کی “انقلابی” حزبِ اختلاف کے انکشافات سے ماخوذ ہوتا ہے۔

“…سرخ فوج کے افسرواور سپاہیو! ہم دشمن کے ملک میں داخل ہو رہے ہیں…آزاد کرائے گئے علاقوں میں موجود آبادیوں کو, چاہے وہ جرمن ہوں, چیک ہوں یا پولش, انہیں کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ خلاف وزری کرنے والے کو جنگی قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ آزاد کرائے گئے علاقوں میں عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق کی ممانعت کی جاتی ہے۔ تشدد اور آبروریزی کا ارتکاب کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی.”

یہ حکم “انسانیت کے خلاف جرائم” کا ارتکارب کرنے والے جوزف اسٹالن نے 19جنوری 1945کو اس وقت جاری کیا تھا جب سوویت یونین کی سرخ فوج دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمن فوج کو شکست دے کر جرمنی میں داخل ہو رہی تھی۔

علمِ تاریخ سائنس کا درجہ اختیار کرچکا ہے. تاریخ دانی اور تاریخ نویسی میں “پرائمری سورس” , “کاؤنٹر ایویڈینس” اور “سورس ریفرنس” کی کلیدی اہمیت سے تاریخ کے ہر طالبعلم کو واقف ہونا چاہیے۔ ویکیپیڈیا پڑھ کر کالم تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے لیکن تاریخی ماخذات کا مطالعہ کیے بغیر سچائی کو جانچنا کافی دشوار اور محنت طلب کام ہے.


Comments

FB Login Required - comments