دنیا میں موروثی سیاست کا عروج


usman ghaziجمہوری دنیا میں خاندانی یا وراثتی سیاست صرف پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا معاملہ نہیں ہے جہاں بھٹو، گاندھی اور شیخ خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسلیں سیاست میں اپنا فعال کردار ادا کررہی ہیں۔

امریکا میں بش اور کلنٹن خاندان اسی موروثی سیاست کا ایک سلسلہ ہیں، کینیڈا کا وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ایک وزیراعظم کا بیٹا ہے، فرانس کی نیشنل پارٹی کی سربراہ میرین لی پین نے اپنے والد کی جگہ لی ہے۔

کینیڈی فیملی کو اگرامریکا کی شاہی فیملی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، جان ایف کینیڈی صدربنا تو اس کے بھائی ٹیڈ اور رابرٹ وفاقی حکومت کی اہم ذمہ داریاں ادا کررہے تھے، رابرٹ اور جان کو 60کی دہائی میں قتل کردیا گیا، ٹیڈ کو کارحادثے کے ذریعے مارنے کی کوشش کی گئی، اس سے پہلے جوزف کینیڈی جونیئرجنگ عظیم دوم میں ہلاک ہوئے، کیتھلین کا طیارہ فرانس میں تباہ ہوگیا اور ان سب واقعات نے کینیڈی خاندان کو امریکا میں امر کردیا، 2011تک کینیڈی خاندان منتخب ہوکر ایوان میں پہنچتا رہا۔

برطانیہ پارلیمانی جمہوریت کی ماں ہے اور یہاں پر بھی سیاسی وراثت کی ایک طویل تاریخ ہے، موجودہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے دادا رکن پارلیمنٹ تھے، کیمرون نہ صرف ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ملکہ الزبتھ کے کزن بھی ہیں، جنگ عظیم دوم کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم رہنےوالے چرچل کا پوتا نکولس رکن پارلیمنٹ ہے، نکولس کے کزن 30سال تک رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے رہے، ونسٹن چرچل سے قبل بھی ان کے رشتے دار اہم سیاسی پوزیشنز سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

کیوبا میں فیڈل کاستروکے بعد اقتدار ان کے بھائی کو ملا اور راؤل کاسترو پوری شان سے حکومت کررہے ہیں، جاپان کی ہاٹویاما فیملی بھی سیاست میں فعال ہے اور اب تک اس خاندان سے دوافراد وزرائے اعظم بن چکے ہیں، شمالی کوریا کے کم خاندان کی تیسری نسل سیاست میں سرگرم ہےاور 1948سے کم خاندان کا یہاں مضبوط راج ہے۔

دنیا میں شاید ہی ایسا کوئی ملک ہوگا جہاں سیاسی خاندان نہیں ہیں، یہ تاثر بھی بڑا عجیب ہے کہ پاکستان میں دو پارٹیوں کا راج ہے۔

پوری دنیا میں دو پارٹیوں کا راج ہوتا ہے، یہ دوپارٹیاں دراصل دو نظریات کو لے کر چلتی ہیں، ایک نظریہ لبرل ہوتا ہے اور دوسرا کنزرویٹو۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاسی خاندان کا کسی ریاست پر راج نہیں ہوتا بلکہ سیاسی خاندانوں کے ذریعے مخصوص نظریات جیسے لبرل اور مذہبی وغیرہ ۔۔ ان کے ماننے والوں کا راج ہوتا ہے ۔۔ سیاسی خاندان تو محض علامتیں ہیں۔

سیاسی خاندانوں یا سیاسی وراثت کے یقینا بہت سے منفی پہلو ہیں مگر مثبت پہلوؤں کی بھی کمی نہیں ہے، یہ ایک مستقل بحث ہے کہ سیاسی وراثت ہونی چاہیے یا نہیں تاہم اس بات سے ہی انکار کردیتا کہ پوری دنیا میں صرف پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سیاسی وراثت ہے،ایک قابل بحث سوچ ہے۔

کچھ لوگ سیاسی وراثت کو اسلام سے متصادم قراردے دیتے ہیں جبکہ پوری اسلامی تاریخ میں خلافت راشدہ کے سوا کوئی ایک دن ایسا نہیں جب سیاسی وارثوں کا اقتدار نہ ہو۔

اب جن لوگوں کو سیاسی وراثت پسند نہیں، اور وہ ابتدائی تیس برس کو ہی ماڈل بنالیں تو یہ ان کی اپنی خواہش ہوسکتی ہے ورنہ اگر یہ سیاسی وراثت اسلام میں منع ہوتی توصحابہ، تبع تابعین، تابعین اورمحدثین نے بھی اسی سیاسی وراثت کے اقتدار میں اپنا وقت گزارا اورکوئی ایسی رائے سامنے نہیں آئی کہ یہ اسلام میں منع ہے یہاں تک کہ اسلام میں خلافت کے احیاء کی جتنی تحریکیں چلتی رہیں، وہ بھی امام کی سیاسی وراثت کے زیراثر رہیں۔

موروثی سیاست میں ایک کشش ہے، انسان فطری طور پر اسے پسند کرتا ہے، وراثت کا امین فرد بھی اپنے کاندھوں پر اس پسند کے بوجھ کو لےکر چلتا ہے اورتوقعات پر پورااترنے کی کوشش کرتا ہے، جدید دنیا میں بھی یہ طریقہ سیاست ماضی کی طرح مقبول ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments