نیا طالبان لیڈر، اندیشے اور امکانات


editطالبان شوریٰ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملا محمد اختر منصور کی ہلاکت کے بعد مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر مقرر کیا گیا ہے۔ سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب نئے امیر کے نائبین ہوں گے۔ نئے امیر نے کبھی عملی جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا لیکن وہ سابق امیر ملا عمر اور اس کے بعد ملا منصور کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں مولوی ہیبت اللہ عدالتی نظام کے سربراہ تھے ۔ وہ طالبان کی جارحانہ اور سنگدلانہ کارروائیوں کو اسلام کے عین مطابق ثابت کرنے کے لئے فتوے بھی جاری کرتے رہے ہیں۔

خبروں کے مطابق مولوی ہیبت اللہ کو ان کی مذہبی استعداد کی وجہ سے متفقہ امید وار سمجھتے ہوئے یہ پوزیشن دی گئی ہے۔ ان کے دونوں نائبین بھی امارت کے امید وار تھے اور بعض مبصرین کا خیال تھا کہ ملا عمر کے بیٹے نے مدرسے کی تعلیم مکمل کرکے عملی جنگی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ انہیں امیر بنانے سے انتہا پسند گروہ بھی طالبان کے اشتراک میں شامل رہیں گے۔ اس کے مقابلے میں سراج الدین حقانی ایک طاقتور عسکری گروہ کا سربراہ ہونے کے علاوہ طالبان کا آپریشنل کمانڈر بھی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں دہشت گردی کی سنگین کارروائیاں بھی حقانی نیٹ ورک نے ہی کی ہیں۔ لیکن انہیں پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے اور شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ اس لئے ان کا امیر بننا پاکستان کے لئے بھی مناسب نہیں تھا۔ اس طرح طالبان کی تمام جنگجوئی کا الزام پاکستان پر عائد ہوتا۔ اس کے علاوہ طالبان کے پاکستان سے فاصلہ رکھنے والے گروہ بھی ان کی قیادت میں مطمئن نہ ہوتے۔ جبکہ ملا یعقوب کم عمر ہونے کی وجہ سے نا تجربہ کار سمجھے جاتے ہیں۔

مولوی ہیبت اللہ بھی ملا عمر کی طرح کٹھ ملا اور دیہاتی ہیں۔ انہیں انتہائی قدامت پسند ہونے کی شہرت حاصل ہے ۔ لیکن وہ عملی جنگ کی بجائے مذہبی علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں اس لئے مذہبی رہنما کے طور پر ان کا احترام موجود ہے۔ ملا عمر کی موت کی خبر کے بعد ملا منصور خود کو متفقہ امیر قبول کروانے میں کافی عرصہ صرف ہؤا تھا۔ لیکن اس بار یہ فیصلہ تین روز کے اندر ہی کرلیا گیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت طالبان میں بہت زیادہ اختلاف موجود نہیں ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں متفقہ حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔ طالبان کے بیان میں امیر کی ہلاکت اور نئے امیر کے تقرر کی بات تو کی گئی ہے تاہم اس میں امریکہ یا ان عناصر کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا گیا ہے جو ملا اختر منصور کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں۔ اس لئے اس بات کا اندازہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں طالبان کے طرز عمل سے ہی ہو سکے گا کہ وہ مستقبل میں کیا حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

فوری طور پر جنگی اقدامات کا آغاز ہونے کی صورت میں تو یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ طالبان مذاکرات اور کابل کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت کرنے سے کافی دور ہیں۔ لیکن اگر آئندہ کچھ مدت تک کوئی بڑا حملہ نہ کیا گیا تو اس بات کا امکان ہوگا کہ اس شدت پسند گروہ میں مذاکرات کے لئے نرم گوشہ موجود ہے۔ تاہم اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ مولوی ہیبت اللہ کی قیادت میں طالبان کی طرف سے مذہبی پہلوؤں پر ذیادہ زور دیا جائے گا اور وہ شریعت کے نفاذ اور دیگر اسلامی اقدامات کو نمایاں شرائط کے طور پر پیش کریں گے۔ امریکہ اور افغانستان کی حکومتوں نے ملا اختر منصور کو امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اس کی ہلاکت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ ملا منصور کو مار کر امن مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس بارے میں پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات کافی غور وخوض کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس لئے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان امریکہ مخالف لب و لہجہ اختیار کرکے دراصل رائے عامہ کو مخاطب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا حقائق اور درپردہ طے پانے والے معاملات سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔

نئے طالبان لیڈر کے فوری انتخاب سے اس اندیشے کا خاتمہ تو ہو گیا ہے کہ قیادت کے سوال پر طالبان میں اب طویل المدت مقابلے بازی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اس طرح ذیادہ شدت پسندی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ نئے لیڈر کی قیادت میں اگر طالبان سنگین جارحیت کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو امریکہ کی نئی پالیسی کی روشنی میں وہ ان کی قیادت کو براہ راست نشانہ بنائے گا۔ اب وہ پاکستان میں سفر کرتے ہوئے بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ڈرون حملہ کے بارے میں پاکستان کی قیادت خواہ کیسے ہی سخت بیانات جاری کرلے ، وہ امریکہ کو ایسے حملوں سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ ایسی صورت میں اسے طالبان لیڈروں کی پاکستان میں نقل و حرکت کو محدود کرنا ہوگا۔

تاہم مستقبل میں امن مذاکرات کا انحصار امریکہ اور واشنگٹن کے رویہ پر بھی ہوگا۔ ان کی طرف سے مذاکرات کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اگر طالبان کے بعد پاکستان کے ساتھ بھی تصادم کی صورت حال پیدا کی جاتی ہے، تو اس خطے میں امن بدستور ایک خواب ہی رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali