یہ ہوتے ہیں اینکر پرسن


\"gul-e-naukhaiz-akhtar\"میں کافی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کمیٹی نکلنے والی ہے، کیوں نہ اس بار ایک آف شور کمپنی خرید لوں۔ اس بارے میں دوستوں سے مشورہ کیا اور پاناما کا طریقہ کار پوچھا۔ حیرت انگیز اطلاع ملی کہ پاکستان میں بھی یہ سہولت موجود ہے۔ آپ جب چاہیں پاکستان میں آف شور کمپنی قائم کر سکتے ہیں، اس وقت بھی ملک میں ہزاروں ایسی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتیں ، ڈبل کھاتے بناتی ہیں اور موجیں کرتی ہیں۔ انکم ٹیکس کا ریکارڈ دیکھیں تو اندازہ ہوتاہے کہ آدھے سے زیادہ ملک ’پاناما‘ بن چکا ہے۔ سو میرے دوستوں نے مشورہ دیا کہ اتنی دور جاکر آف شور کمپنی بنانے سے بہتر ہے کہ یہ تجربہ پاکستان میں ہی رہ کر کرلو۔ میرے دوستوں کا خیال ہے کہ میں یہ آف شور کمپنی صرف اس لیے بنانا چاہ رہا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس بچاؤں ۔ غلط! میں یہ تجربہ صرف یہ چیک کرنے کے لیے کر رہا ہوں کہ کیا واقعی بیس پچیس سال میں کوئی امیر ہوسکتا ہے؟ اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو حیرت انگیز صورتحال دیکھتاہوں۔ بے شمار ایسے لوگ نظر آتے ہیں جنہوں نے بیس پچیس سال میں ، پاکستان میں رہتے ہوئے خود کو اتنا امیر کرلیا ہے کہ اب ان کی بلندیوں کو دیکھیں تو ٹوپی نیچے گرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ان خوش قسمت ترین لوگوں میں سب سے پہلے اینکر پرسنز ہیں۔ یہ آج سے محض دس پندرہ سال پہلے ٹوٹی ہوئی موٹر سائیکلوں پر اخبار کے دفتر آیا کرتے تھے، مہینے کے آخر میں ادھار لیا کرتے تھے اورکرائے کے مکانوں میں رہا کرتے تھے۔ آج ماشاء اللہ یہ لینڈ کروزرمیں آتے ہیں ، لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں اور ایک صاحب کو تو اللہ میاں نے اپنی رحمت سے اتنا نوازا ہے کہ قبلہ نے آنے جانے کے لیے ایک ذاتی طیارہ لے رکھا ہے۔ ظاہری بات ہے اینکر پرسن کی کمائی سے زیادہ حق حلال کی کمائی کس کی ہوسکتی ہے، کسی کا ’حق‘حلال کے کرکے کمائی گئی اس رقم کے بارے میں ہم آپ کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا سکتے کیونکہ آج کا اینکر پرسن تھانیدار سے کم نہیں۔ وہ جس کو چاہے ذلیل کردے اورجس کو چاہے آسمان کی بلندیوں پر بٹھا دے۔ یہ رات کو آٹھ سے گیارہ بجے تک کھلی کچہری لگاتے ہیں اور جی بھر کے کسی کو بھی بھرے بازار میں رسوا کر دیتے ہیں۔ یہ خود ہمیشہ اپنی ذات کو مخفی رکھتے ہیں کہ کوئی ان کے بارے میں جان نہ پائے۔ کاش کبھی کوئی ان کے کرتوت بھی سامنے لائے تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ عوام اپنا سر دیوار میں دے ماریں۔ میں ان سب کو جانتا ہوں اور بڑی اچھی طرح جانتا ہوں۔ کسی کے ذاتی معاملات پر بات نہیں کروں گا کیونکہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ عملی زندگی میں اِن کی اکثریت کیا کرتی ہے۔ فی الحال ان کے کچھ اور پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔

ایک صاحب جو اپنے کالموں اور ٹاک شو میں گالیاں دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، گذشتہ دنوں فرمانے لگے کہ ’میں عنقریب دوبئی شفٹ ہونے کا پروگرام بنا رہا ہوں اور وہاں جا کر میں سب سے پہلے پوچھوں گا کہ یہاں سے پاکستان کس رخ پر ہے، اس کے بعد میں پاکستان کی طرف منہ کرکے پیشاب کروں گا۔ ‘‘ یہ جملے جس طرح میں نے لکھے ہیں اس سے کہیں زیادہ کرختگی اور بدبودار انداز میں بولے گئے۔ یہ صاحب پروٹوکول کے خلاف بہت بولتے ہیں اور خود یہ حال ہے کہ پچھلے دنوں ملتان روڈ پر ان کی جہازی سائز گاڑیوں کے آگے ایک شامت کا مارا موٹر سائیکل والا تیز رفتاری سے گذر گیا تو اسے اگلے چوک پر دھر لیا اور گن مینوں سے کہہ کر سرعام اس کی دھنائی کروائی پھر بڑے فخر سے بتایا کہ ’یہ ہوتا ہے ہمارا راستہ کاٹنے کا انجام‘۔ ایک اور ٹاک شو کے اینکر پرسن جھومتے ہوئے محفل میں یہ بتا رہے تھے کہ ’جب میں گریبان کے بٹن کھول کر ٹی وی پر آتا ہوں تو اُس رات مجھے لڑکیوں کی طرف سے بڑا بھرپور رسپانس ملتا ہے۔ ‘ مذہبی دانشوری کا لبادہ اوڑھے ایک کالم نگار اور اینکر پرسن کا یہ جملہ تو بہت سے دوستوں کی موجودگی میں سنا گیا کہ ’ہم تو طوائفیں ہیں، ہمیں کوئی بھی چینل زیادہ پیسے دے کر خرید سکتا ہے‘۔ ایک بابا جی ، جن کا ہر کالم اللہ نبی کے نام سے شروع ہوتاہے ، آج بھی لکشمی چوک کے ایک مشہور ہوٹل میں باقاعدگی سے تشریف لے جاتے ہیں اورڈرائیور انہیں صبح پانچ بجے کندھے پر اٹھا کر گاڑی میں لٹاتا ہے۔ ایک سینئر اینکر پرسن جو تین دفعہ ٹی وی چینل بدل چکے ہیں ، 50 لاکھ ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں اور ایک روپیہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، جناب نے چینل نے جو معاہدہ کیا وہ بھی اس شرط پر تھا کہ میری رقم میں سے کوئی ٹیکس نہیں کاٹا جائے گا بلکہ میں ٹیکس خود ادا کروں گا۔ تاہم ابھی تک یہ نوبت نہیں آسکی، یہ وہی اینکر پرسن ہیں جو رات کو اپنے شو میں کسی سہمے ہوئے سیاستدان کو بٹھا کر غصے سے پوچھتے ہیں کہ ’آپ لوگوں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟‘۔ ایک وہ بھی اینکر پرسن ہیں جو رو ز کوئی نہ کوئی چیختی چنگاڑتی سٹوری بریک کرتے ہیں اورقیامت کا اعلان کر کے سوتے ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو صحافیوں کے کوٹے سے ایک پلاٹ کی بجائے چھ پلاٹ وصول کرچکے ہیں،رات کو ٹی وی پر اپنا پروگرام شروع کرنے سے پہلے اپنے پروڈیوسر اور ٹیم کو یہ کہہ کر خوش کرتے ہیں کہ ’چلو بھئی! گدھوں کو مزید گدھا بنانے کے لیے تیار ہوجاؤ‘۔

سیاستدان، پولیس اور حکمرانوں کو گالیاں دینا بہت آسان ہے، یہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اور اگر بگاڑنے لگیں تو میڈیا آدھمکتاہے۔ روزانہ کے ٹاک شو دیکھ کر لگتاہے جیسے آج کل عدالتی فرائض بھی اِن اینکرز پرسنز نے سنبھال لیے ہیں۔ یہی الزام لگاتے ہیں،یہی کاروائی آگے بڑھاتے ہیں اور یہی فیصلہ بھی صادر فرما دیتے ہیں۔ ان سے کون ٹکر لے؟کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ قبلہ آپ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ آپ میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے تھے کہ آپ راتوں رات ارب پتی ہوگئے۔ کیا آج تک کسی نے کسی اینکر پرسن کی ٹیکس ریٹرن دیکھی ہے؟ ان کا تو معاہدہ ہی جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے، کنٹریکٹ میں دو لاکھ تنخواہ لکھی جاتی ہے جبکہ اصل تنخواہ یہ اس سے کہیں زیادہ وصول کرتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ایک ہفتہ ٹاک شو نہ دیکھیں تو ہمیں ہر طرف امن و امان نظر آنے لگتاہے، ہم بچوں کے ساتھ سیرو تفریح بھی کرتے ہیں، کھانے بھی کھاتے ہیں، دوستوں کے ساتھ گپ شپ بھی کرتے ہیں،بساط بھر شاپنگ بھی کرتے ہیں لیکن جونہی ہم ٹاک شو دیکھتے ہیں ہمیں لگتاہے کہ گھر سے باہر نکلنا بھی خطرے سے خالی نہیں، ملک لٹ چکا، دیوالیہ نکل گیا اور بس اب ہم فنا ہونے ہی والے ہیں۔ میں نے ایک اینکر پرسن سے پوچھا کہ حضور! آپ کے والد صاحب کی طبیعت اب کیسی ہے؟ آہ بھر کر بولے’بس ذرا ناساز ہی ہے‘۔ میں نے گھبرا کر کہا’اوہ! اس کا مطلب ہے ان کا آخری وقت قریب آگیا ہے‘۔ یہ سنتے ہی وہ تڑپ اٹھے اور غصے سے بولے’یہ کیا بیہودگی ہے، منہ اچھا نہ ہو تو بات تو اچھی کرلینی چاہیے‘۔ میں نے ان سے معذرت کی اور التجا کی کہ عالی جاہ! عوام بھی یہی امید مانگتے ہیں، آپ اپنے ٹاک شو میں جو ہولناک نقشہ کھینچتے ہیں اس سے ہمیں بھی بہت تکلیف ہوتی ہے، ہم ڈر جاتے ہیں، سہم جاتے ہیں، ہمارا ’تراہ‘ نکل جاتاہے۔ ۔ ۔ آپ تو ٹاک شو ختم کرنے کے بعد قہقہہ لگا کراپنی ٹھنڈی ٹھارگاڑی میں گھر چلے جاتے ہیں‘ ہم ساری رات آپ کی باتوں کو سچ سمجھ کر کڑھتے رہتے ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گل نوخیز اختر کی دیگر تحریریں
گل نوخیز اختر کی دیگر تحریریں