انسان آزادی مانگتے ہیں


naseem kausarحقیقتیں اب یک جہت نہیں رہیں، کثیر جہتی ہو چکی ہیں۔ حقیقتیں اب پرت در پرت اور تہہ در تہ مختلف ہیتوں کی حامل ہیں۔ کسی کا سچ اب مکمل سچ نہیں ہے۔ بلکہ بہت سی نا مکمل، بسا اوقات متضاد سچائیاں مل کر ایک مکمل سچ کا روپ دھارتی ہیں۔ وہ مکمل سچ بھی ایک مخصوص دور کے لیے کارآمد ہوتا ہے ۔بعدازاں اس کی افادیت بتدریج کم ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے میٹر کا اینٹی میٹر ہے، پروٹان کا اینٹی پروٹان ہے۔ مثبت چارج کا متقابل منفی چارج ہے جو نا صرف مثبت چارج کو جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اسکو متوازن اور نیوٹرل بھی بناتا ہے۔ ایسے ہی ہر تھیسس کا اینٹی تھیسس ہوتا ہے اور ہر ہائیپوتھیسسز کا اینٹی ہائیپوتھیسز ہے۔ ہائیپوتھیسسز کی حقیقت کو جانچنے کے لیےاینٹی ہائیپوتھیسسز کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک ہے تو لازم ہو گا کہ اس کے متقابل کوئی اس کا اینٹی تھیسز پیش کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش دے کہ فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک نہیں ہے۔ دونوں قضیئے اپنی ویلڈٹی اور حقانیت کو ثابت کرنے کے عمل سے گزرتے ہوئے بہت سے اہم علمی و فکری مراحل عبور کر کے ناصرف منطقی اور حقیقت سے نزدیک تر نتائج پر پہنچ جائیں گے بلکہ فکری تنوع بھی جنم لے گا۔ یہاں کوئی تیسرا مفکر یہ دعویٰ بھی کر سکتا ہے کہ فرد کی آزادی فرد کے لیے تو مہلک ہے لیکن سماج کے لیے مفید ہے

اب ذرا ایسی صورتحال کا تصور کریں جہاں یہ تھیس قائم کرنا تو قابل ستائش ہے کہ فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک ہے لیکن وہاں کسی فرد یا گروہ کو اس کا انکار کرنے کی اجازت نہیں تو کیا خیال ہے وہاں ذہنی ارتقا اور فکری نمو کی مشق ہو سکتی ہے؟ میرا خیال ہے نہیں۔۔

ایسی سوسائٹی میں جہاں متضاد حقائق ، متضاد نظریات یا متضاد ہائیپوتھیسسز کو جگہ میسر نا ہوں وہاں فرد کے ذہنی ارتقا کا عمل رک جاتا ہے۔ وہ نظریات و حالات کا مختلف زاویوں سے ادراک حاصل کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کی فکر ایک نقطہ پر مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ ایک یا چند ایک حقائق کی اندھی تلقید شروع کر دیتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پھر من پسند حقائق انتہاؤں کو چھونے لگتے ہیں کیونکہ متقابل اور متضاد حقائق اسے چیلنج کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے۔ یوں توازن بگڑنے لگتا ہے۔ مثال تو خطرناک ہے لیکن سوشل میڈیا کے تناظر میں یہی مثال جائز بنتی ہے۔ فرض کریں اگر کسی کالونی میں کوئی مذہب بے زار خاندان رہائش پذیر ہے وہ ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں اس کے ساتھ والے گھر میں مذہب پسند خاندان کو بسنے کی اجازت ہے۔ عین ممکن ہے کہ مذہب پسند ہمسائے کی پرسکون اور آسودہ زندگی ہمیشہ اسے شک میں مبتلا کیے رکھے اور وہ اپنے نظریات پر مسلسل نظر ثانی پر مجبور رہے گا۔ مذہبی شخص بھی اپنے ہمسائے کی زندگی سے ضرور کچھ نا کچھ مثبت یا منفی نتائج اخذ کرکے اپنے نظریات و طرز زندگی میں ترامیم کرنے پر آمادہ ہو گا۔ گویا وہ علاقہ فکری واخلاقی حوالوں سے معتدل اور متنوع ہو گا۔۔۔ جمود کے خلاف مزاحمت پر آمادہ ہو گا۔۔ وہاں طرز زندگی کے نئے امکانات زیر بحث رہیں گے۔ ۔

لیکن ایسے معاشرے میں شدت پسندی جنم لے گی جہاں کے افراد کو کسی نا کسی طریقے سے یہ باور کروایا گیا ہے کہ حق کے علمبردارصرف وہ ہیں ۔اس فیصلے کا اختیار صرف انہی کے پاس ہے کہ باقیوں نے کیا کرنا ہے۔ یہ رویہ خطرناک ہے۔ ہر فرد عقلمند ہے۔ ہر فرد کے پاس شعور ہے۔ ہر فرد کے جنیٹک میک اپ میں ایسا پروگرام انسٹال ہے جو اسے بہتر کا انتخاب کرنے، ضرر سے بچنے اور بقا کی جنگ لڑنے جیسے رویے اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ لہزا انسانیت کے منشور کی پہلی شق یہ ہے کہ ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی زندگی کی سمت کا تعین کرے اور اپنے فیصلے جبرا ان پر مسلط کرے۔ ہم اس فرد کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں، اسے قائل کرنے کے لیے اس سے مکالمہ کر سکتے ہیں لیکن اسے اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ ہم سے ہر حال میں متفق ہو۔ جبرذدہ سماج میں چند افراد اپنی دانش کے مطابق طے کر لیتے ہیں کہ افراد کے لیے کیا درست ہے، یہ ناقابل ترمیم ہو گا۔ باقی سب غلط اور خرافات کا ایسا مجموعہ ہے جس پر مکالمے کی گنجائش بھی نہیں نکلتی۔ ایسا سماج یا ریاست نا صرف فرد کی آزادی کے غاصب ہیں بلکہ اس کی ذہانت، دانش اور قوت فیصلہ کی بھی دشمن ہے۔ ایسے سماج کا فرد کبھی بھی ذہین، باشعور اور اعلی اخلاقیات کا حامل نہیں ہو گا۔ داخلی خواہشات کے سیلاب، متنوع مزاجی کے طاقتور جنیٹک پریشر اور بیرونی جبر کی آہنی بندشوں میں جکڑا یہ فرد یا تو مجذوب ہو گا۔ یا پھر منافق۔۔

میرے پاس امیرکن ایکونومسٹ فریڈرک اے ہائیک کا ایک آرٹیکل ہے۔ ہائیک کہتا ہے۔ علم کسی فرد یا مخصوص گروہ کی ملکیت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سماج کے تمام افراد میں پھیلا ہوا ہے۔ کسی ایک فرد کے پاس نالج کا کچھ حصہ تو پو سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ سوسائیٹی کا کل علم کسی ایک شخص کے پاس مرتکز ہو سکتا ہے۔۔ احمقانہ خیال ہے۔ عملی طور پر یہ ممکن نہیں۔ لہذا یہ تصور بھی احمقانہ ہی ہو گا کہ کسی فرد یا قلیل التعداد افراد کے ایک گروہ جس کے پاس کل علم کا ایک چھوٹا سا پورشن ہے کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ ان افراد کی زندگیوں کے فیصلے کرے جو زائد علم کے مجموعہ کے حامل ہیں ۔ آپ میں سے بہت سے لوگ کبھی نا کبھی ایسے تجربات سے گزرے ہوں گے جب آپ نے دیکھا کہ ایک اخبار فروش کی سیاسی بصیرت پارلیمنٹ میں بیٹھے کسی قد آور اور نامور سیاستدان سے زیادہ ہے۔ یا ایک پرچون فروش مسئلہ طلب و رسد پر زیادہ اچھے طریقے سے بحث کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یا کھیتوں میں بھینسیں چراتی دیہاتی عورت اے سی کی ٹھنڈک تلے بیٹھی کسی خاتون ڈرامہ نویس سے زیادہ پائیدار بات کرتی ہے۔ تو خدارا فرد کو مکمل جاہل اور بےکل مت سمجھیے۔

ماضی قریب میں چرچ نے عرصہ دراز تک ایک مخصوص سماجی و مذہبی بیانیے کی سر پرستی کی اور جمود میں لپٹی ہوئی انارکی کا شکار رہا۔ جہاں سرکاری سرپرستی کی گود میں کھیلنے والے تھیسز کی نفی کرنے والوں اور راج کرتے تھیسز کا اینٹی تھیسز پیش کرنے والے مطعون ٹھرائے گئے۔ فکری و علمی طور پر منفرد معصوم مگر مظلوم افراد پر مظالم ڈھائے گیے۔ چرچ نے کہا زمین چپٹی ہے۔ گلیلیو نے اس سچائی سے انکار کیا اور کہا نہیں زمین گول ہے۔ یہ بات سرپرست اور جابر چرچ کو ناگوار گزری اور ہزار ہا صعوبتیں دے کر گلیلیو کو مجبور کیا کہ وہ اپنا یہ بیان واپس لے کیونکہ یہ لوگوں کے ایمان متززل کرنے کا باعث ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں مصر کی ایک ہائی پیشیا نامی خاتون جو ریاضی دان ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفی اور سائنسدان بھی تھی۔ سکندریہ کی ایک درس گاہ میں فلسفہ اور علم فلکیات پڑھاتی تھی اور فارغ اوقات میں زمین سمیت مختلف سیاروں کی حرکیات کے مسائل حل کرنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ وہ کلاسک پیریڈ کے علوم اور شہر کی سب سے بڑی لائیبریری کی کتابوں کی حفاظت کرتی ہوئی سماجی و مذہبی شدت پسندی کے ہاتھوں ناحق ماری گئی۔ اسکندریہ جو تہذیب اور معشیت کا بہت بڑا گڑھ تھا اور ہزار سال تک مصر کا دارلحکومت رہا۔ یہ اندوہناک المیہ اس شاندار شہر کے وسط میں وقوع پذیر ہوا۔ اس خاتون کو مارنے والا ایک کٹر عیسائی تھا۔ چرچ سے لے کر مسجد تک آپ کو ایسے لاتعداد واقعات ملیں گے جو اینٹی تھیسز پہیش کرنے والوں کی دشمنی کی گواہی دیں گے۔

چرچ تو زوال پذیر ہو گیا اور آجکل ماضی کی غلطیوں پر نا صرف شرمندہ ہے بلکہ معافیاں بھی مانگ رہا ہے۔ لیکن ہم اس وقت تاریخ کے اسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پانچ سو سال یا ہزار سال پہلے چرچ کھڑا تھا۔ لائن توڑنا اور فراہم کردہ تصور سے منہ موڑنا ہمارے یہاں جرم اور گناہ ہے۔ میرا سوال ہے۔۔ جب آپ لوگوں کو روایت سے ہٹ کر سوچنے نہیں دیں گے۔ بولنے نہیں دیں گے۔ پڑھنے نہیں دیں گے۔ تجربات کرنے نہیں دیں گے تو آپ کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ ایسے سماج میں ترقی بڑھوتری اور ارتقائی عمل وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔۔ہم نے اپنی ایک سمت متعین کی۔ اپنے لیے ایک زاویہ نظر طے کیا اور باقی سب دروازے بند کر لیے۔ یوں ہم تازہ ہوا اور نئی روشنی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ ہم کچھ نیا دیکھنے،نیا سننے ، نیا جانچنے، نیا پرکھنے اور نتیجتا کچھ نیا کرنے سے نابلد ہیں۔۔ ہم ہر شے، ہر بات اور ہر حقیقت کو مغرب کی سازش، جانبداری اور تعصب کا نام دے کر نہیں ٹال سکتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ، دنیا کی بہترین تہذیب کے ضامن ہونے کے دعواہدار ہو کربھی ۔ کیمسٹری، الجبرا ،طب سمیت تمام سائنسی علوم کے بانی ہو کر آج تہی داماں ہیں ۔ دنیا کی یونیورسٹیوں کی ریکنگ ہوتی ہے تو ہم اس لسٹ میں دور دور کہیں موجود نہیں ہوتے۔ وہ اس لیے کہ ہم نے اپنے فرد کو روشن امکانات سے محروم کر کے اسکی سوچ پر تالے لگا رکھے ہیں۔ اس کے شکم میں نوالا تو ہے مگر ذہن کے طاقچے میں نئی روشنی کا چراغ نہیں ۔۔اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکامی سے لے کر فرقہ واریت کی آگ میں جلنے تک کی بنیادی وجوہات فرد کی آزادی اور احترام آزادی کی ناکامی کے مقدمے میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔۔

جن اقوام نے متنوع سچائیوں کو افراد کی زندگیوں میں جگہ دی۔ اور فرد کو حصول علم کے لیے اور راہ جستجو کے انتخاب کے لیے آزاد چھوڑ دیا وہ علمی و فکری حوالوں سے ترقی یافتہ ہیں۔ انکی سوچ ، علم اور فکر مختلف ڈائمینشنز میں پھیلی ہے۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو فرد کی ذہنی وجسمانی آزادی کی حفاظت کے کسی نا کسی حد تک ضامن ہیں۔ متنوع اورآزاد ماحول کی فراہمی فرد کی ذہنی ترقی کی موجب ہے۔ اور یہی ان معاشروں کی مادی ترقی کا باعث بنی ہے۔کیونکہ فکری تبدیلیاں ہی مادی تبدیلیوں کا ماخذ ہیں۔ ورنہ قدرتی وسائل کی کثرت اور افرادی دولت مل کر بھی سماجی و سائنسی ترقی برپا نہیں کر سکتی۔ نرگس موالوالا ہرگز نرگس موالوالا نہیں بن سکتی تھیں اگر اسکی فردی شناخت اور آزادی کا بندوبست نا ہوتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نا کرے لیکن یہ سچ ہے کہ یہ بندوبست کم از کم پاکستان میں اسے میسر نا آتا کیونکہ یہاں کی سماجی پابندیاں کسی بھی فطین خاتون کی صلاحتیوں کو نگلنے کے لیے کافی ہیں۔ صادق خان کا انتخاب کرنے والوں نے اس سے نام، شجرہ، نسب، حلیہ یا مذہب تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ شخصی آزادی کی فراہمی، اس کے تحفظ اور مثبت ثمرات کی جاندار مثالیں ہیں۔

ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ فرد کی آزادی کے تصور کو ہمارے یہاں بطور گالی استعمال کیا جاتاہے۔ جیسے یہ معیوب ہو۔ اور اسکے حصول کی کوشش جرم ہو۔ اکثر فیس بک پر مذہبی پیجز اور مختلف پوسٹس نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ جنہیں پڑھ کر یہ تاثر ملتا ہے جیسے فرد کو آزادی ملتے ساتھ ہی معاشرے میں افرتفری، جرائم کی بھرمار، لوٹ کھسوٹ اور بے حیائی کا دور شروع ہو جائے گا۔ خصوصا اگر آزادی کا یہ لفظ عورت ذات سے منسوب ہو تو یوں ردعمل آتا ہے جیسے آزادی ملتے ساتھ ہی عورتیں برہنہ ہو کر گلیوں میں نکل آئیں گی۔ ایسی بات کرنا نہایت نا معقول اور بات کرنے والے کے ذہنی دوالیہ پن کا اظہار ہے۔میری نظر میں یہ بات کرنا عورت کی توہین ہے۔ گویا عورت وہ نجس اور مخبوط الحواس مخلوق ہے جسے مرد نے زبردستی کپڑے پہنا کر تہذیب یافتہ بنا رکھا ہے اور جیسے ہی پہناوے کا حق عورت کے پاس گیا وہ کپڑے پہہنے سے انکار کر دے گی۔ میں یہاں عورت کا دفاع نہیں کروں گی بس ایک چھوٹا سا واقعہ گوش گزار کروں گی۔ ایک صاحب جن کا تعلق ایک نامور مذہبی جماعت سے ہے۔ شادی شدہ ہیں۔ ستڈی ویزہ پر برطانیہ میں مقیم ہیں۔ایک دن انکا میسج آیا۔ میری گرل فرینڈ بن جاؤ۔ میں نے کہا محترم۔ آپ پاگل ہیں؟ برطانیہ کی خوبصورت، داد نظارہ دیتی گوریوں کو چھوڑ کر آپ مجھ پر کیوں مہربان ہیں۔ وہ صاحب افسردگی سے گویا ہوئے۔ سوچا کچھ تھا اور نکلا کچھ۔۔۔۔ یہ گوریاں بہت عیار ہیں۔ لفٹ نہیں کرواتیں۔ جلدی دام میں نہیں آتیں۔۔۔ تو عورت جب اپنی تمام تر ذمہ داری کے ساتھ باہر نکلتی ہے یا نکلے گی تو اس کے بائیولوجیکل سسٹم میں کم ازکم اتنی ذہانت تو فیڈ ہے کہ وہ اپنے لیے مناسب چیزوں کا چناؤ کر سکے۔ اگر ایسا نا ہوتا تو انجلینا مرکل سینٹ کے اجلاس میں قابل اعتراض لباس پہن کرجاتی اور ہیلری کلنٹن بھی فحش انداز سے الیکشن کمپین چلاتی۔

مرنا اور بعد ازمرگ زندگی کا حساب یقینا ضروری ہو گا۔ لیکن صاحب مرنے سے پہلے جینا اس سب سے زیادہ اہم ہے۔ فرد کی زندگی، اس کا معیار۔ بامقصد کائنات کے رازوں کو فتح کرتے ہوئے اذہان کی موجودگی کسی بھی سماج کی صحت مندی کے لیے اہم ہے۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم میں سے ہر شخص اپنے ہمسائے کو۔ کولیگ اپنے کولیگ کو باپ اپنے بچے کو، دوست اپنے دوست کو، بھائی اپنے بھائی کو خود سے مختلف سوچنے اور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بطور فرد ہمیں فرد کی آزادی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اپنے اردگرد دیکھیےً افراد اپنی شخصی ازادی اور انفرادی شناخت کے لیے لشکر کی مانند آگے بڑھ رہے ہیں اگر ہم مہذب طریقے سے انہیں راستہ نہیں دیں گے تویہ طے ہے کہ ہم انہیں روک نہیں پائیں گے کیونکہ بغاوت ان کے اطوار سے عیاں ہے اور فتح ان کی پیشانیوں پہ ثبت ہے.


Comments

FB Login Required - comments

نسیم کوثر

نسیم کوثر سائنس کی استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سماجی و سائنسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں شاعری، موسیقی اور فکشن سے لگاؤ ہے۔ موصوفہ کو گھڑ سواری اور نشانے بازی کا بھی شوق ہے۔

naseem has 8 posts and counting.See all posts by naseem