یہ معجزہ سیکولر ازم ہی میں ممکن ہے


 Samanلندن کی ا علیٰ تر ین مسند ( میئر کی سیٹ) پاکستانی پس منظر رکھنے والے صادق خان کے نام رہی۔ وہ برطا نیہ کی تار یخ میں لندن کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لندن کا میئر ہونا برطا نیہ کے وز یر اعظم کے بعد سب سے بڑی توقیر ہے۔ ہم برطانیہ میں علاقائی اسمبلیوں اور شہری کونسلوں کے ا نتخابات کو مسلمان صادق خان اور یہودی زیک گولڈ اسمتھ کے مابین مقابلہ سمجھ رہے تھے۔ اُدھر صادق خان کی کامیابی کو اسلام کی فتح سے تعبیر کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جو اسے یورپ میں تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ خیر سے اہل حکم بھی اس کامیابی کا پر ا پنی ٹوپی میں سجا کر داد سمیٹنے کی سعی فرما نے میں لگے ہوئے تھے۔ تعجب نہ ہو گا کہ اگلے چند روز میں لندن کے نو مولود میئر کے نام کے ساتھ کوئی دھڑلے دار سابقہ یا لاحقہ (یا دونوں) بھی استعمال کیا جانے لگے۔ عین ممکن ہے کہ زمانے کی اونچ نیچ اور اپنی نشست کے تقاضوں سے بے خبر اور اپنی ذمہ داریوں سے نا آشنا ( ہماری دانست میں) اس نئے نویلے میئر کی رہنمائی کے لئے مشورہ جات، ہدایات اور مطالبات کا ایک نسخہ بھی جاری کر دیا جائے۔

چنانچہ توقع کی جا سکتی ہے کہ صادق خان کو مشورہ دیا جائے کہ لندن شہر میں موجود تمام اداروں میں موجود غیر مسلم (کافر) سربراہوں کو بیک جنبش قلم فارغ کر دیا جائے اور اُن کی جگہ دیندار، ایماندار اور پر ہیزگار مسلمان (ترجیحاً پاکستانی) شہر یوں کو مقرر کیا جائے۔ لائق مسلمان دستیاب نہ ہونے پر پاکستان سے در آمد کر لئے جا ئیں۔ اپنے برادر صادق خان کو یہ موقع ﷲ تعالیٰ کی طرف سے اِس بے راہ معاشرے کو سدھارنے کے لئے دیا گیا ہے جس کے لئے اُسے ا یسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ یہ معاشرہ صدیوں تک اس راہ سے نہ ہٹنے پائے جس پر اسے لگا جائے۔ چنانچہ فوری طور پر ا توار کی بجائے جمعہ کی چھٹی کا نو ٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ نماز کے اوقات میں تمام دکانیں بند کرنے کا حکم جاری ہو۔ شراب کی دکانوں کی تالا بندی کر دی جائے۔ عورتوں کی تصاو یر والے اشتہارات پر سیا ہی پھینکنے کے لئے فوری طور پر خدائی فوجدار بھرتی کئے جائیں۔ بس تین ماہ کے اندر عالمی شہر لندن کی شکل بدل جائے اور یاروں کو معلوم ہو کہ کوئی مسلمان اور وہ بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والا اِس شہر کا ناظم ِ اعلیٰ ہے۔

ایک ا ندازے کے مطابق لندن میں 80 لاکھ افراد ر ہائش پذیر ہیں جن میں سے 30 لاکھ غیر مقامی باشندے ہیں۔ اِن 30 لاکھ غیر مقامی باشندوں میں پاکستا نیوں سے زیادہ ہندوستانی اور بنگلہ د یشی ہیں۔ گویا صادق خان کو ووٹ ڈالنے والوں کی اکثر یت غیر مسلم اور غیر پاکستانی تھی۔ صادق خان کی کا میابی میں لیبر پارٹی کے یہودیوں کے ووٹ بھی ہوں گے۔ سچ تو یہ ہے (اگر ہم تسلیم کرنے کو تیار ہوں تو) کہ صادق خان کی ا ہلیت اُس کا مسلمان ہونا نہیں بلکہ لیبر پارٹی کا امیدوار ہونا تھا۔

 مدتوں سے سنتے آئے ہیں کہ اِس عالم فانی میں ایک ”یہودی لابی“ ہوا کرتی ہے۔ لابی کیا ہے اقوام عالم میں ہر برائی کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے۔ پوری مغربی د نیا کی جان اُس کی مٹھی میں ہے۔ اِن ممالک میں کوئی فیصلہ، کوئی پالیسی یہو دی لابی کی مرضی کے خلاف نہیں بن سکتی۔ حکو متیں بنا نا اور گرانا اِس کے با ئیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ امر یکہ میں یہودی لابی کے بارے میں ہمارے ہاں تراشیدہ رائے کے مطابق امریکی صدر ہر کام (نہانے دھونے کا ارادہ باندھنے سے قبل بھی) کرنے سے پہلے اسرا ئیلی صدر سے مشورہ کرتا ہے۔

مان لیا اہل مغرب ایسے ہی چغد ہیں جےسے ہم نے سوچ رکھا ہے اوروہ (بے چارے) یہو دی لابی کی طاقت، دولت اور اثر آفرینی کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں۔ تو صاحب ہمارے گھڑے گئے خیال کے تناظر میں پاکستانی پس منظر رکھنے والے (ایک ڈرا ئیور کے بیٹے ) اپنے صادق خان کا ارب پتی زیک ا سمتھ کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں بنتا تھا۔ پھر یہ معجزہ کیسے ہوا؟

 ایک خیال ہمارے ہاں یہ بھی عام ہے کہ مغرب کو اسلام فو بیا ہو گیا ہے۔ گورے دہشت گردی سے جڑے ہر معاملے کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ صاحب یہودی امیدوار زیک اسمتھ نے اپنی انتخابی مہم میں صادق خان کا تعلق دہشت گردوں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی تا ہم اسلام فو بیا کے شکار گوروں نے زیک کی نفرت ا نگیز مہم کا جواب صادق خان کو اپنے اعتماد کا ووٹ دے کر کیا۔ گو یا انگریزوں نے اسلام فو بیا وا لے رجحان سے بھی صاف انحراف کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ صادق خان کی جیت نے ہمارے بہت سے مفروضوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

مذہب، فرقہ اور ذات کی بنیاد پر تعصب کے حصار سے نکل پانے کی صلاحیت سے محروم ہم لوگ صادق خان کے جیتنے کی سادہ ترین کلید کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ چنانچہ ہم درجنوں تو جیحا ت پیش کریں گے مگر یہ اقرار کرنے کی جرات نہیں کریں گے کہ صادق خان کی جیت صرف اور صرف سیکولرازم کا معجزہ ہے۔ سیکولرازم (جس کو ہم نے لادینیت کا نام دے رکھا ہے) سے مراد یہ ہے کہ کسی ر یاست میں آبادی کے کسی حصے کو کسی بنیاد پر ( مذہب، فرقہ یا د یگر ) کوئی برتری نہیں ہو گی علاوہ ازیں ریاست کے معاملات میں مذہب کا دخل نہیں ہو گا۔ صادق خان کی کامیابی کے پیچھے ایک سیکولر معاشرہ، سیکولر انداز فکر اور سیکو لر اقدار ہیں جو ہمارے ہاں احباب کو نظر تو آتی ہیں تاہم پیوستہ مفادات پر ضرب پڑنے کے خوف سے ان کا اقرار نہیں کیا جاتا۔

گاؤں میں دوپہر کے وقت ایک کمرے میں چند دوست تاش کھیل رہے تھے۔ پاس ہی ا یک صاحب کا 9 سالہ بیٹا کھیل رہا تھا۔ کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر۔ بچے کی نظر اچانک میز پر پڑی عینک پر پڑی۔ اُس نے گہرے بھورے رنگ والی عینک اٹھائی اور باہر نکل گیا۔ باہر جا کر عینک چہرے پر چڑھائی تو چند لمحوں میں بھاگ کر اپنے باپ کے پاس آ گیا اور بولا،”ابا، شام پے گئی اے، نھیری آ گئی اے۔ چھیتی نال گھر چلئیے“ (ابو، شام ہو گئی ہے، آندھی آ رہی ہے۔ جلدی سے گھر چلیں)۔ باپ اور اُس کے دوست ہنسنے لگے۔ بچے کے چہرے سے عینک اتار تے ہی بچے کے چہرے سے پر یشانی کے تاثرات بھی دور ہو گئے ۔

کوئی اپنی آنکھوں سے برسوں سے تراشیدہ رائے عامہ کی عینک اتار کر صادق خان کی جیت کے اسباب کی کھوج کرے تو بے اختیار پکار اٹھے گا کہ صادق خان کی جیت سیکولرازم کی جیت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments