ملا منصور واقعی مر گیا کیا….؟


 haider sheraziہمیں خبر بغیر کسی تحقیق کے بس ایک چیختی چلاتی بریکنگ نیوز میں سنا دی جاتی ہے چاہے رات ہو یا دن۔ میں ملا منصور کی ہلاکت سے پہلے ایک سابق جنگجو لیڈر کی موت کی ڈرامائی کہانی لکھتا ہوں آپ پڑھیں اور سچائی کو داد دئیے بغیر اگر گذر گئے تو یقینا ناانصافی ہو گی۔ اسامہ بن لادن کا کردارافسانوی تھا یا اسے افسانہ بنایا گیا۔ زیادہ دور نہیں جانا چاہتا (میری تحقیق یہ کہتی ہے اور یاد رہے میری تحقیق میں غلطی کی گنجائش ہے) کہ بے نظیر بھٹو سے جنہوں نے 2007 میں ڈیوڈ فراسٹ (الجزائر ٹی وی ) کے میزبان کو انٹرویو میں کہا تھا “عمر شیخ نے بن لادن کو قتل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ سابق سی آئی اے آفیسر رابرٹ بیئر نے 2008 میں ایک ریڈ یو پروگرام میں کہا تھا کہ اسامہ مر چکا ہے ، مشرف صاحب بھلا کسی سے پیچھے ہٹنے والے تھے اسامہ کی موت کا اعلان کر دیا جسے بے یقینی سے سنا گیا اس کے بعد 2001 میں فاکس نیوز نے اسامہ بن لادن کی موت کی خبر نشر کی۔ اس کے ساتھ 2002 افغانستان کے صدرحامد کرزئی نے سی این این کو کہا تھا کہ میر ایقین ہے کہ اب وہ مر چکا ہے ،جسے ہنسی میں اڑا دیا گیا۔ اس کے بعد ایک امریکی سینیٹر ہیری ریڈ نے انکشاف کیا تھا کہ اکتوبر 2005 میں آنے والے زلزلے میں اسامہ مارا گیا ہے۔ ان تمام باتوں نے اسامہ کی موت کواتنا افسانوی بنا دیا کہ یہ تمام کسی جاسوسی فلم کا سین لگا اس کے بعدایبٹ آباد آپریشن ہوا جس میں مسٹر اوباما نے بذات خود مانیٹرنگ کی اور عوام کو خوشخبری سُنائی کہ اسامہ ہم میں نہیں رہا۔ ایبٹ آباد آپریشن کے بعدامریکی صحافی سیمور ہرش نے پاکستان اوراُسامہ کو موضوع قلم بنایا انہوں نے 10,350 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون لکھا جس میں اسامہ بن لادن کی موت کے بارے میں شکوک شبہات کو کھل کر بیان کیا اس نے لکھا کہ ُاسامہ کی موت کی کہانی لیوس کیرل نے لکھی اور جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو بھی شامل کیا اِس آپریشن کو سیمور نے ایک بڑا ڈرامہ قرار دیا تھا۔

خیر سے اسامہ بن لادن اِس لئے یاد آیا کہ آج طالبان لیڈر اختر منصور کا کہا جارہا ہے کہ اسے ڈرون حملے میں مار دیا گیا ہے کیا بن لادن کی طرح یہ بھی تو کوئی ڈرامہ تو نہیں یا کسی ڈرامے کا ڈراپ سین ہے اسامہ کے بعد اختر منصور کی پاکستان میں موجودگی پر مجھے تشویش ہے کیسے ایک ایسا شخص جو انتہائی مطلوب تھا اتنی خاموشی سے پاکستان میں رہا، آیا اور مارا گیا۔ مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری ہر سطح کی قیادت نااہل ہے کیوں کوئی بھی ملک ہماری سرحدوں کو پھلانگتا ہوا آئے اور کوئی بھی آپریشن کر کے چلا جائے۔ یہ سوال تو ہمیں کرنا چاہیے لیکن بھلا ایسے ملک سے کیسے بدمعاشی کی جا سکتی ہے جس سے بھیک مانگ کر گذارا کیا جاتا ہو۔ یہ بات طے ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے چند انچ اوپر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بیانات بھی تو ایسے انداز میں دئیے جاتے ہیں جس سے صاحب کی توہین بھی نہ ہو اور صاحب کے کردار پر بھی آنچ نہ آئے ہمیں ہماری قیادت نے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ کوئی اعتماد کرنے سے پہلے ڈھائی لاکھ بار سوچے اتنے میں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ منصور مارا گیا اس حوالے سے تھوڑی بہت معلومات اور آخر میں نتیجہ…. اسامہ بن لادن کی موت …. ملا منصور …. اور پیرس حملے میں چند پہلو مشترک ہیں۔ منصور اور لادن کی موت کا منظر براہ راست اوباما دیکھ رہے تھے۔۔ اور پیرس حملے اور منصورکی موت میں قدر مشترک پاسپورٹ تھا۔۔

منصور کے پاسپورٹ سے یاد آیا کہ بتا دوں کہ ڈرون کیا ہے اور ُاس کو vشکل کا اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ تیزی سے پرواز کر سکے اس میں لیزر گائیڈڈ بم یا میزائل نصب ہوتے ہیں اور اس میں ٹارگٹ کو فوکس کر کے اس پر میزائل داغا جاتا ہے اس میں نشانہ خطا ہونے کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں اور پاکستان افغانستان سرحد پر اس وقت MQ-1B Predator اور MQ-9 Reaperاستعمال ہو رہے ہیں ان کی ناک پر یا سامنے والے حصے پر بے شمار سینسر لگے ہوتے ہیں، اس کے ساتھ بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین تصاویر کے لئے کیمرے نصب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ تصاویر کے لئے امیج انٹین سیفائر لگے ہوتے ہیں جو انتہائی کم روشنی میں عکس بندی کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ریڈار نصب ہوتے ہیں۔ اور انتہائی تیز لیزر ہوتی ہے جس کے ساتھ لیزر گائیڈڈ میزائل نصب ہوتے ہیں یہ ڈرون USائیر بیس سے ریموٹ کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں ان کے میزائل حملے کی اوسطاََٹائمنگ کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ ایک نارمل لیزر گاینڈڈ میزائل کی ایوریج رفتار 1600میل فی گھنٹہ ہے اور ہماری زمین کا ڈایامیٹر 7926 میل ہے۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اختر منصور جس گاڑی میں سوار تھا وہ تباہ ہو گئی اور ایک کارڈ بچ گیا وہ بھی صحیح سلامت اور یہ بھی عجب کہانی ہے کہ کارڈ گاڑی سے چند قدم فاصلے پر پڑا ملا۔ یہاں سوال تو بنتا ہے کہ اتنی رفتار سے آنے والے میزائل نے ملا منصور کو وقت کیسے دیا کہ وہ بیگ سے نا سہی جیب سے پاسپورٹ نکال کر باہر پھینک دیں یا ان کا بیگ محفوظ رہے۔ ایسی باتوں پہ یقین کون کرے گا ا ور ہاں اتنا ضرور ہو گا کہ ایک وفد امریکہ جائے گا جو جاتے ہوئے خود مختاری اور سرحدی سلامتی کے نعرے لگائے گا اور واپسی پرامریکی امداد اور ضرب عضب کی کامیابی کی دعائیں کرے گااور عوام سے بھی دعا کی اپیل کرے گا۔ اور بھر ہمارے نئے دن کی شروعات ہو جائے گی نئی صبح نیا شو اور نیا مہمان تو روزانہ ہی شام 7سے 11 دیکھنے کو ملتا ہے اور اللہ خیر کرے ابھی تو رمضان میں حور وں کے قصے اور اسلام کی باتیں ناچنے والوں سے سننے کو ملیں گی بات کہاں سے کہاں آگئی تو نا جانے کیوں ہم صرف بیانات سے کام لیتے ہیں۔ کہیں کوئی واضح پالیسی نہیں جس سے اندازہ ہو کہ ہم دنیا میں اچھے نام سے جانے جائیں۔ میرا سادہ اور آسان سا سوال اس ڈاکٹر اینکر سے ہے جو اسامہ کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اب تبدیلی آچکی ہے تب کیانی صاحب تھے اب کسی میں ہمت نہیں۔ محترم نہ جانے کیوں تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے ایک جملہ کہ ہم حفاظت کرنا جانتے ہیں یہ نہیں بتایا کہ کس کی۔ جناب عوام کو تو اس وقت سے کہانی کے اُس حصے کا پتا ہے جب آنند آرنی (انڈین ریسرچ اینڈ اینلائز ونگ آفیسر ) نے انڈین ائیرلائن فلائٹ 814 کی ہائی جیکنگ کی ایک کڑی کو جیش محمد (مسعود اظہر) سے جوڑا اور ملا منصور کی محبت بھی تو بھولی نہیں جا سکتی۔ بڑے نمک حلال تھے۔ صاحب شکر ہے ابھی تک مجھے غائبانہ نماز جنازہ کی خبر نہیں ملی ورنہ یہاں تو ملا عمر کے مرنے پر بیوروکریٹ تما صحافی (آہ ملا عمر۔۔ اور امیر المومنین ملا عمر ) جیسے کالم لکھے تھے۔ صرف نادرا کو اس بات کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس نے جو پاکستان کے ہوائی اڈے جو استعمال کئے اس جانب بھی تو نظر ہو …. اب بھی وقت ہے بعد میں نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔

کل رات میں دوست کے ساتھ چائے پینے باہر نکلا خوشبودار کوئٹہ ہوٹل پر اجمل خان دیر والے سے میری ملاقات ہوئی وہ بھی گذشتہ شب سے ہمیں ملنے کے لئے بےتاب تھا کہنے لگا”بھائی آپ لوگوں کا جان پہچان بہت ہے ہمیں بھی ایک بم پروف پاسپورٹ بنوا دو ہم چائے کا کام کرتا ہے ایک بار ہمارے پاسپورٹ پر چائے گر گیا ہمیں پولیس کی وردی والے نے اجمل خان تو دور پاکستانی ماننے سے انکار کر دیا بعد میں کچھ لے دے کر معاملہ پر تیلی ڈالا…. میرے دوست نے لفظ دیا بھائی تیلی نہیں پانی ڈالا …. اب یا پانی ڈالو یا مٹی پاﺅ آپ کی مرضی نواز شریف تو مسکراتے رہیں گے اگر ایسا ایک آدھ معاملہ اور ہو جائے یقینا حکومت مدت پوری کر لے گی۔ اور واقعی کیا ملا منصورمر گیا ؟ یا جب کنفرم ہوا تب وزارت داخلہ بیان دے گی۔


Comments

FB Login Required - comments