جانِ من ، ناچنے کا کتنا لے گی؟


usman ghaziپشاور میں قتل ہونے والی علیشاہ بھی کراچی میں اسی سہراب گوٹھ کی مکین تھی، جہاں نوشکئی میں ڈرون حملے میں مارا جانے والا طالبان کا امیر رہتا تھا۔

دونوں کے دونام تھے، سہراب گوٹھ کا علی شاہ دنیا کے لیے علیشاہ تھی، اسی طرح طالبان کے امیر سہراب گوٹھ کے مکینوں کے لیےمحمد ولی تھے اور دنیا کے لیے وہ ملا اختر منصور تھے، دلچسپی کی بات یہ ہے کہ دونوں کا تعلق افغانستان سے تھا، دونوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا تھا، ایک پشاور میں ماری گئی، ایک نے نوشکی میں جان دی مگر یہ سب مماثلتیں یہ بات ثابت نہیں کرتیں کہ ان دونوں کا مقام ایک تھا۔

آٹھ گولیاں لگنے کے بعد جب علیشاہ کو اسپتال لے جایا گیا تو طبی عملے کےلیے مسائل کھڑے ہوگئے، اب بھلا علیشاہ کو مردانہ وارڈ میں لے کر جایا جائے یا زنانہ وارڈ میں۔

اس لیے طبی عملے نے علیشاہ کو اسپتال کے کوریڈور میں ہی تڑپتا ہوا چھوڑدیا۔

آٹھ گولیاں لگی تھیں، خون بہہ رہا تھا، علیشاہ مدد مدد پکار رہی تھی اور اسپتال عملہ اس مخمصے میں مبتلا رہا کہ علیشاہ کے فارم میں مس لکھا جائے یا مسٹر۔

مئی کی 22 تاریخ کو علیشاہ زخمی ہوئی اور اگلےدو دن اسپتال کے کوریڈورمیں پڑے اسٹریچر پر اس کا وجود ادھر ادھر کیا جاتا رہا۔

خواجہ سرا جب اپنی زخمی دوست کے اسٹریچر کے اطراف افسردہ کھڑے تھے تو پتہ ہے ڈاکٹرز اور میل اسٹاف ان سے کیا پوچھ رہا تھا۔

جانِ من، ناچنے کا کتنا لے گی؟

علیشاہ ساری زندگی خود کو مکمل عورت سمجھتی رہی اور ایسا سمجھنے میں علیشاہ اکیلی نہ تھی، اس سے لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھنے والے بہت سے لوگوں نے علیشاہ کو بالکل مکمل عورت کی طرح ہی سمجھا، اسپتال عملہ بھی علیشاہ کی دوستوں کو عورت کی طرح ہی ڈیل کررہا تھا مگر علیشاہ کو پھر بھی مردوں کے وارڈ میں جمع کرا دیا گیا۔

اچھا چلیں چھوڑیں ، اصل مدعا پر آتے ہیں، ہوا کچھ یوں کہ ہفتے کو ہونے والے ڈرون حملے میں شہادت کے بعد طالبان کے امیر کے جسدخاکی کو کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں پہنچایا گیا اوراتوار کو لاش بھانجے رفیق کے حوالے کردی گئی ۔

علیشاہ کے دوستوں سے تو ناچنے کے نرخ پوچھ لیے، یہاں اسپتال عملے نے بھائی رفیق سے کچھ پوچھا ہی نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments