افسوس ڈبل شاہ نہ رہے ورنہ معیشت سنور جاتی


پاکستان کی معیشت کا برا حال ہے۔ کاروبارِ مملکت چلانے کے لئے فوراً کہیں سے بارہ ارب ڈالر قرضہ مہاجن کی شرائط پر لینا ہو گا اور سال بھر کے لئے کوئی 27 ارب ڈالر کی رقم درکار ہو گی۔ جبکہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد کو چھو رہے ہیں۔ وسط جولائی میں سٹیٹ بینک کے پاس کل 9 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود تھے۔ ایسے میں ہمارے وزیراعظم ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے معیشت بہتر ہو اور مغرب کی غلامی سے نجات ملے۔ ایسے وقت خیال آیا ہے کہ ہم نے کیسے کیسے ہیرے گنوا دیے ہیں اور ان کی قدر نہیں کی۔

افسوس ڈبل شاہ صاحب نہ رہے۔ نئے پاکستان میں ان کو وزیر خزانہ لگا دیا جاتا تو ہماری معیشت دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی۔ ڈبل شاہ صاحب محض پندرہ دنوں میں رقم دگنی کر کے واپس کر دیا کرتے تھے۔ یعنی سٹیٹ بینک کے یہ نو ارب ڈالر انہیں دے دیے جاتے تو تیس دن بعد وہ اس کے 36 ارب ڈالر بنا دیتے۔ اگر ہمارے وزیراعظم اپنے سو دن کے پروگرام کی تکمیل کو مدنظر رکھتے ہوئے نو ارب ڈالر کی یہ رقم ڈبل شاہ صاحب کے حوالے کرتے تو سو دن بعد 11 کھرب ڈال پاکستان کے قومی خزانے میں موجود ہوتے۔

اس رقم سے نہ صرف ہر شہری کو گھر بنا کر دیا جا سکتا تھا بلکہ اسے معقول ماہانہ وظیفہ بھی دینا ممکن تھا۔ سو دن کا ہی یہ حساب ہے تو آپ سوچیں کہ اقتدار کے پانچ سال بعد، جس میں 1825 دن ہوتے ہیں اور 121 پندھواڑے، پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ ہم حساب لگانے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارا کیلکولیٹر جواب دے گیا ہے۔

ڈبل شاہ صاحب تھے بھی صحیح العقیدہ سید۔ ان پر کسی کو اعتراض کرنے کی جرات بھی نہ ہوتی۔ ہمارے وزیراعظم چیک کریں شاید ڈبل شاہ صاحب کا کوئی جانشین مل جائے تو ہمیں آئی ایم ایف کے کفار کی منت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ہمیں اس نازک گھڑی میں ایسے ہی پیر کی ضرورت ہے جو یا تو دیکھتے ہی دیکھتے ہانڈی میں ڈالا سونا ڈبل کر دے ورنہ پندرہ دن میں دی گئی رقم۔ کاش ہمارے وزیر اعظم تدبر سے کام لے کر شاہ محمود قریشی کو وزیر خزانہ بنا دیتے۔ وہ بھی ایک بڑے پیر ہیں۔ بہرحال بات ڈبل شاہ صاحب کی ہو رہی تھی۔

ڈبل شاہ صاحب ہم میں نہیں رہے تو پھر بھی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ پاکستانی دنیا کی سب سے زیادہ باصلاحیت قوم ہیں۔ اگر ایک پاکستانی اتنقال بھی فرما گیا تو اس کی جگہ لینے کو بے شمار موجود ہیں۔ مثلاً یہ نو ارب ڈالر ہم ان مفتی صاحبان کو بھی ڈبل کرنے کی نیت سے سرمایہ کاری کے لئے دے سکتے ہیں جو مضاربہ کی سکیم چلا کر عوام کے سرمائے کو ڈبل کرتے رہے ہیں۔ نیب سے بات کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر ان پر سے مقدمات ختم کر دے تاکہ انہیں وزیر خزانہ یا اقتصادی کمیٹی کا ممبر بنایا جا سکے۔

مدارس کے ان معاشی جادوگروں کی بات چلی تو ایک مزید سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔ کیا ہمیں حکومت کی راہنمائی کے لئے کسی مقامی مدرسے سے کوئی بین الاقوامی سطح کا ماہر معاشیات نہیں مل سکتا ہے جو ہم کفار کو مشیر رکھ رہے ہیں؟

ہم نے چند دوستوں کے سامنے یہ سوال رکھا تو انہوں نے ہماری راہنمائی کی کہ یہ مٹی واقعی بہت نم ہے۔ علم ہوا کہ ”قوم کی کوتاہ نظری ہے ورنہ دکتور طاہر القادری ہر فن مولا ہیں بلکہ غالباً انھوں نے سالوں سے معیشت کا اصلی تے سچا فارمولا بھی کتاب کی شکل میں لکھ رکھا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا شہزادہ ڈاکٹر حسن محی الدین بھی ہے“۔

ایک دوسرے عزیز نے نشاندہی کی کہ ”مفتی تقی عثمانی بڑے کمال کے ماہر اقتصادیات ہیں، آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب ہیں، ڈاکٹر عزیز البازی صاحب“۔

شکر الحمد للہ دو تین نام مل گئے ہیں۔ ہمیں تو ان کی صلاحیتوں پر بے انتہا یقین ہے لیکن بد عقیدہ لوگوں کی تسلی کے لئے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا ان بے مثل ماہرین کے پیپرز بین الاقوامی جرنلز میں باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں اور ان کی تھیوریوں پر عالمی یونیورسٹیوں میں کام ہو رہا ہے؟ یا صرف ہمیں ہی پتہ ہے کہ یہ سب عالمی سطح کے اکانومسٹ ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر ان علما کے پیپرز عالمی جریدوں میں کفار کی سازشوں کی وجہ سے شائع نہیں بھی ہو رہے ہیں اور انہیں ابھی تک نوبل انعام بھی نہیں دیا گیا ہے تو اس کی وجہ ان کی کوئی خامی نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہودی مارک ذکربرگ معاشی میدان میں ان کے درخشندہ کارناموں سے اہل مغرب کو روشناس کرانے سے انکاری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar