چیف کی تشویش۔۔۔۔ نتیجہ؟


editیہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے چار روز بعد امریکی سینیٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں 800 ملین ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن پاکستان کے وزیراعظم سے لے کر آرمی چیف تک 21 مئی کو ہونے والے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے ، اس بات سے بھی انکار کر رہے ہیں کہ ملا اختر منصور اس حملہ میں ہلاک ہونے والا دوسرا شخص تھا۔ آج طالبان نے جب مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تو ملا عمر کی موت کا اعلان ہونے کے دس ماہ بعد تک قیادت کرنے والے سربراہ ملا منصور کی موت کی تصدیق بھی کر دی گئی۔ یہ اطلاع پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے محض 24 گھنٹے بعد سامنے آئی ہے کہ حکومت پاکستان ملا اختر منصور کی موت کی تصدیق نہیں کر سکتی۔ ابھی تو 21 مئی کو مرنے والے دوسرے شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا جائے گا اور پھر اسے اس کے عزیزوں کے ڈین این اے سے ملا کر دیکھا جائے گا کہ کیا وہ واقعی ملا اختر منصور ہی تھا۔ اس قسم کی بدحواسیوں کی بنا پر ہی ملک کے اندر اور باہر کوئی بھی حکومت پاکستان کے اعلانات و بیانات پر یقین نہیں کرتا۔

پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل نے آج صبح جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق اس ملاقات میں بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملہ پر بات کی گئی۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور امریکی سفیر کو بتایا کہ یہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ ملاقات اور تشویش کا اظہار تقریباً اس وقت ہو رہا تھا جب واشنگٹن سے خبر آ رہی تھی کہ سینیٹ نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں 800 ملین ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی کانگریس سے پاکستان کے حوالے سے صرف بری خبریں ہی سامنے آ رہی تھیں۔ پہلے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لئے  طے شدہ 430 ملین ڈالر دینے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو بتایا گیا کہ اگر وہ آٹھ ایف 16 طیارے خریدنا چاہتا ہے تو ان کی کل قیمت 700 ملین ڈالر اسے اپنی گرہ سے ادا کرنا ہو گی۔ اس کے چند روز بعد ہی امریکی کانگریس نے پاکستان کو فوجی امداد میں ملنے والے 450 ملین ڈالر فراہم کرنے کے لئے  کڑی شرائط عائد کیں۔ ان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی جیسے عام طور سے جانے پہچانے معاملات کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کرنے سے باز رہے جو بھارت کو نشانہ پر لینےکے مقصد سے بنائے جا رہے ہیں۔

حالانکہ اس دوران یہ اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ بھارت نے آبدوز پر نصب اینٹی بلاسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ اس میزائل سسٹم کی تیاری کو بحر ہند میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کی طرف ایک قدم قرار دیتے ہوئے یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تیاری بھارت کی طرف سے سیکنڈ اسٹرائیک آپشن کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ایسا دفاعی نظام استوار کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کہ اگر اچانک حملہ کی صورت میں دشمن، بھارت کے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کو ضائع کر دے تو بھی بھارت کے پاس جوابی کارروائی کرنے کا متبادل نظام موجود ہو۔ پاکستان نے اس اینٹی بلاسٹک میزائل سسٹم کی تیاری پر سخت احتجاج کیا اور یہ واضح کیا تھا کہ اگر بھارت ان جنگی تیاریوں سے باز نہ آیا تو پاکستان کو بھی اس عسکری صلاحیت اور قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے  اقدام کرنے پڑیں گے۔ لیکن پاکستان کا احتجاج اور شور و غوغا نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوا۔ واشنگٹن کے کار پردازوں کو برصغیر اور بحر ہند میں اس بدلتی ہوئی صورتحال اور اسلحہ کی خطرناک دوڑ پر کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔ یہ بالکل وہی رویہ تھا جو مارچ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد اختیار کیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ شخص انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز تھا اور یہ تخریب کاری، دہشت گردی اور گوادر پر حملہ جیسے جارحانہ منصوبوں کے سلسلہ میں انتظامات کرنے کے لئے  پاکستان آیا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا۔

اس پس منظر میں اہل پاکستان موجودہ حالات میں امریکہ سے کسی خیر کی امید نہیں کرتے۔ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی صرف ڈرون حملوں کی صورت میں ہی نہیں کی جاتی رہی بلکہ مئی 2014 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کے لئے  امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فضائی حدود کے اندر پرواز کی اور زمین پر موجود ایک ٹارگٹ کو نشانہ بنا کر اطمینان سے واپس چلے گئے۔ اس سانحہ پر احتجاج تو ایک طرف شروع میں تو صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک دہشت گرد کی ہلاکت پر مسرت کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں بھی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پر کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا کیونکہ اس صورت میں پاکستان کو اس سوال کا جواب دینا پڑتا کہ دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کیوں کر اس کی سرزمین پر چھپا ہوا تھا۔ امریکی صحافی سیمور ہرش کا تو دعویٰ ہے کہ یہ حملہ بھی امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے ہی کیا تھا۔ اور اسامہ بن لادن کو زندہ حوالے کرنے کی بجائے سعودی عرب کے مشورہ سے پہلے قید رکھا گیا اور جب یہ راز کھلنے کا امکان پیدا ہوا تو امریکی حکام کی حملہ کے لئے رہنمائی کی گئی۔ سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ اسامہ بن لادن زندہ امریکیوں کے ہاتھ لگے۔ پاکستان کے حکمران دوسروں کی ناجائز خواہشات اور اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے  کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ لیکن عوام کے سامنے ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے گویا دنیا کے سارے ملک مظلوم اور معصوم پاکستان کو اس کی دیانتدارانہ حکمت عملی کے باوجود نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

 2011  میں ہی سلالہ کے مقام پر دو پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کر کے امریکی افواج نے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا۔ اس پر احتجاج کرنے کے لئے  چند ماہ کے لئے  نیٹو کی سپلائی ضرور معطل کی گئی لیکن جب امریکہ نے وسطی ایشیا کے ذریعے متبادل راستہ تلاش کر لیا تو اچانک یہ سپلائی لائن بحال بھی کر دی گئی۔ اس لئے حکومت پاکستان کی طرف سے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد ردعمل کے طریقہ اور لب و لہجہ سے پورا سچ سامنے نہیں آ رہا۔ خاص طور سے جب ملک کے وزیر داخلہ طالبان کے اعلان سے ایک روز پہلے تک یہ دلیل دیتے رہے ہوں کہ طالبان کا رہنما کیا معمولی پرانی ٹویوٹا کرولا میں سفر کرے گا۔ گویا اس کی نقل و حرکت کے لئے حکومت سرکاری پروٹوکول کے ساتھ انتظامات کرنے کی پابند ہو۔ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے پاکستان مکمل طور سے لاعلم نہیں تھا۔ چونکہ ایسے معاملات کے ثبوت اور شواہد فراہم نہیں ہو سکتے اس لئے حکومت کا جو ترجمان جب چاہے جو بیان بھی جاری کرنے کا مجاز ہے۔ البتہ اب پاک فوج کا ردعمل سامنے آنے کے بعد یہ بات ضرور واضح ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان کے جو نمائندے گزشتہ تین روز سے ملا منصور کی ہلاکت اور ڈرون حملہ پر احتجاج میں ہلکان ہو رہے تھے، وہ دراصل بہتر سول ۔ ملٹری تعلقات کے پیش نظر یہ فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ اسی لئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا اگرچہ خارجہ یا دفاعی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کل کی پریس کانفرنس میں انہوں نے انہی دونوں شعبوں کے بارے میں تفصیل سے گوہر افشانی کی۔

پاکستان میں ڈرون حملے کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان بدستور ان حملوں پر احتجاج کرتا رہا ہے لیکن درپردہ میڈیا کو یہ بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ ان حملوں سے کیسے خطرناک دہشت گرد نیست و نابود ہو رہے ہیں۔ یہ بات بھی کبھی کسی سے چھپی نہیں رہی کہ پاکستان ان ڈرون حملوں کے لئے انٹیلی جنس بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ 2011 میں سلالہ حملہ تک تو امریکی ڈرون قبائلی علاقوں میں میزائل داغنے کے لئے  پرواز بھی پاکستانی اڈوں سے ہی بھرتے تھے۔ اس کے باوجود پاکستان نے کبھی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اس مشن میں کیوں اور کس حد تک تعاون کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ ہر حملہ کے بعد روٹین کے طور پر احتجاج ضرور ریکارڈ کروایا جاتا رہا ہے۔ اس بار یہ فرق ضرور ہے کہ اس دفعہ ڈرون حملہ پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان کے علاقے میں کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کو خفیہ طور سے قبول کرتے ہوئے امریکیوں پر واضح کر دیا تھا کہ وہ باقاعدہ پاکستانی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں ڈرون حملہ نہیں کریں گے۔ ملا اختر منصور کو مارنے کے لئے  یہ حملہ بلوچستان میں کیا گیا ہے جو پاکستان کی طرف سے ریڈ لائن قرار دیئے جانے والے علاقے میں شامل ہے۔

اگر اس اطلاع کو درست مان لیا جائے تو ڈرون حملوں کی ضرورت اور اس حوالے سے پاکستان کے تعاون کو سمجھنے کے لئے یہ کہنا پڑے گا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے  اس ناپسندیدہ امریکی فعل کو قبول کر رہا تھا۔ کیونکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ دہشت گرد بھی پاکستانی علاقوں کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔ پھر یہ سوال سامنے آئے گا کہ اگر قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف غیر ملکی حملے قبول کئے جا سکتے تھے تو انہی دہشت گردوں کے خلاف بلوچستان کے علاقے میں حملہ کیوں کر مختلف ہو سکتا ہے۔ کیا ملا اختر منصور، ولی محمد کے نام سے سفر کرتے ہوئے کم خطرناک اور معصوم ہو گیا تھا۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ملا منصور کو مارنا سیاسی طور سے کس حد تک دانشمندانہ اقدام تھا لیکن اس بات سے تو انکار ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک دہشت گرد تھا اور پاکستانی علاقے میں غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔ وہ تو ریاست پاکستان کا براہ راست مجرم تھا۔ پھر بھی اس کی لاش پر قبضہ کرنے کے باوجود، اس کی شناخت سے بدستور گریز کیا جا رہا ہے۔

یہ سارے حالات ملا کر دیکھنے سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ فوج ہو یا سیاسی حکومت ، عوام کو مکمل اور درست معلومات فراہم کرنے کے لئے  تیار نہیں ہیں۔ اگر پاک فوج واقعی ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتی ہے تو ایک دہشت گرد گروہ کو کس طرح پاکستانی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔ ملا منصور کی ہلاکت کے صرف چار روز بعد کسی تنازعہ کے بغیر جس طرح طالبان کے نئے لیڈر کا تقرر ہوا ہے، اس سے یہ اندازہ قائم کرنا بھی مشکل نہیں ہے کہ بہت سا ہوم ورک ڈرون حملے سے پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔ ہو سکتا ہے ملا اختر منصور بھی بعض کھوٹے سکے جیبوں میں لئے گھومتا ہو۔

قوم کو سہانے خواب دکھانا شاید ضروری ہو سکتا ہے لیکن اب بہت سے سپنوں کی حقیقت عوام پر آشکار ہوچکی ہے۔ پاکستان صرف اس وقت امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے، جب وہ خود دہشت گرد عناصر کے حوالے سے دوہری حکمت عملی مکمل طور سے ترک کر دے گا۔ اس وقت تک خواہ جنرل راحیل شریف ہی تشویش کا اظہار کریں، امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali