جیو اور جینے دو


Kashif Rafiqueسمجھنا آسان نہیں، سمجھانا مشکل اور پھر ضروری تو نہیں کہ ہر سچ نے سچ ہی کے بطن سے جنم لیا ہو بہت سے سچ، سچ ہونے کے باوجود کسی ایسے جھوٹ سے جڑے ہوتے ہیں کہ دل سچ کو سچ ماننے پر راضی نہیں ہوتا تو دماغ جھوٹ تک بہ سہولت رسائی نہیں پا سکتا۔ جھوٹ اور سچ کے اس گورکھ دھندے میں پراپیگنڈے کا موثر ہتھیار مسلسل متجسس ذہنوں پر ہتھوڑے برساتا رہتا ہے ایسے میں تین طرح کے گروہ تشکیل پاتے ہیں ایک وہ جو پراپگینڈے کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں دوسرے وہ جو سچ کو جھوٹ کی آبیاری سے جنم لیتا جان لینے کے باوجود محض سچ ہونے کی وجہ سے تسلیم کر لیتے ہیں اور تیسرا گروہ وہ جو سچ و جھوٹ کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں لگانے کے باوجود اس حد کی خلاف ورزیاں روکنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔

ایک ایسا معاشرہ جس کی بنیاد جھوٹ یا متنازعہ سچ پر رکھی جائے اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کبھی تہذیب کے سانچے میں ڈھل سکے گا، تخریب کی مخالفت میں تعمیر کیلئے اٹھ کھڑا ہوگا، بندوق پھینک کر قلم اٹھا لے گا مورچے چھوڑ کر مکالمہ کیلئے مذاکرات کی میز پر آ جائے گا، دیوانے کا خواب تو ہو سکتا ہے کسی ہوشمند سے ایسی خواہشات کا اظہار ایسے ہی ہے جیسے کسی ماہر ریاضی دان کو اپنے سر کے بال گننے پر لگا دیا جائے اور توقع رکھی جائے کے اپنی مہارت کے سبب وہ اس نا معقول سوال کا بھی بلکل صحیح جواب ڈھونڈ نکالے گا۔

میری تعمیر میں مُضمِر ، ہے  اِک صورت خرابی کی

جب کسی قوم کی اجتماعی بنیادی سوچ ہی سچ اور جھوٹ کی بھول بھلیوں میں کھو جائے تو اس فکری قحط سالی سے جہاں تعمیر و ترقی کے تمام در دیوار بن جاتے ہیں وہاں قوم کی باگ ڈور ایسے دانشوروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے جن کی نظر میں رات محض تاریکی اور دن محض روشنی سے زیادہ کسی اہمیت کا حامل نہیں ہوتا سو دن بھر کی روشن خیالی رات کی تاریکی میں تنگ نظری کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک دوہری شخصیت کی حامل قوم کی تشکیل میں یہ فکری قحط زدہ دانشور اس طرح جت جاتے ہیں جیسے فکر امن عالم میں مبتلا کوئی عالمی رہنما ایٹمی اسلحہ کے ذخیروں کو دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے کم جان کر مزید اسلحہ سازی میں مصروف ہو جائے۔

وہ اپنے جنہیں ہم اپنا نہ کہہ سکیں وہ اپنے نہیں ہوتے محض سپنے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلی آنکھوں سے ترقی معکوس کر کے غاروں کی دنیا میں واپسی کے سفر کی متلاشی قومیں کائینات کی تسخیر میں مگن چاند و ستاروں پر کمندیں ڈالنے والی قوموں سے پنجہ آزمائی کا شوق پورا کر کے بے شک اپنے خواب کو حقیقت بنا سکتی ہیں اپنے سفر کی شروعات دوبارہ نقطہ آغاز سے کر سکتی ہیں مگر ترقی کی کم و بیش اتنی ہی منازل دوبارہ طے کر کے انھیں ایک بار نہیں سو بار یا تو پنجہ آزمائی کر کے دوبارہ نقطہ آغاز کی طرف لوٹنا ہوگا یا تہذیبوں کے تصادم میں اپنے وجود کی بقا کے لئے عالمی معاشرے میں خود کو ضم کرنا ہوگا۔

یہ انضمام نہ تو کسی کی فتح ہے نہ ہی شکست بلکہ بقائے باہمی کے اس عالمگیر نظریئے کو ہم نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ

” جیو اور جینے دو “


Comments

FB Login Required - comments