’ہم سب‘ کے نام


adnan Kakarکل کا دن کافی ہنگامہ خیز تھا۔ اس دن کی ابتدا ایک مشکل سے ہوئی اور اختتام ایک نہایت اچھے انداز میں ہوا۔ سویرے ہی وجاہت مسعود صاحب کی طرف سے سناﺅنی آ گئی تھی کہ “سب ٹھاٹھ پڑا رہ گیا ہے‘ اب لاد چلا ہے بنجارہ” اور ساتھ ہی حکم ملا تھا کہ بنجارے کی نئی منزل کا فوری طور پر بندوبست کیا جائے۔

ہنگامی بنیادوں پر سائٹ کا نام “ہم سب” فائنل کر کے اس کی ویب ہوسٹنگ کا بندوبست کیا گیا اور ایک دن سے بھی کم وقت میں یہ ویب سائٹ آپ کے سامنے اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہے۔ اس میں آہستہ آہستہ بہتری آتی رہے گی۔ دنیا پاکستان کے تقریباً سارے مصنفین اور بہت سے قارئین نے بھی نئی ویب سائٹ کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ امید ہے کہ ہم سب ملک کر اس سائٹ کو اچھے انداز میں چلا پائیں گے اور یہ باہم مکالمے کی روایت کو مزید فروغ دے گی۔ ہم سب مل کر ایک دوسرے کو نئی روشنی دکھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہماری یہ چھوٹی سی انفرادی کوشش، ہمارا ایک چھوٹا سا مضمون، ہماری ایک چھوٹی سی تحریر، پڑھنے والے کی فکر میں ایک چھوٹی سی تبدیلی لا سکتی ہے۔ ہم سب مل کر یہ چھوٹی چھوٹی ذہنی تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو کہ مل کر ہمارے معاشرے میں ایک بڑی فکری تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔

ہم سب مل کر اپنا معاشرہ بہتر کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف دوپہر کے قریب میرے ایک سابقہ ملازم کا فون آیا۔ اسے ہیپاٹائٹس سی کا عارضہ لاحق ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے سوالدی نامی گولیوں کے ایک پیکٹ کی قیمت امریکہ میں تقریباً ایک لاکھ روپے بنتی ہے۔ چھے مہینے کے لیے اس دوائی کے چھے پیکٹ چاہیے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی ابتدائی قیمت پچپن ہزار روپے فی پیکٹ تھی۔ بعد میں کم کر کے بتیس ہزار کے قریب کر دی گئی۔ دوا درآمد کرنے والا ادارہ اسے اپنا رضاکارانہ قدم بتاتا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اس ادارے کو مجبور کیا تھا۔ بہرحال، حقیقت جو بھی ہو، اب چھے مہینے کا مکمل کورس پاکستان میں سوا تین لاکھ کی بجائے دو لاکھ کے آس پاس کی قیمت میں میسر ہے۔

لیکن یہ دو لاکھ بھی ایک غریب شخص کے لیے بہت بڑی رقم ہے۔ پہلے چار مہینے کی دوائی کا بندوبست تو ادھر ادھر سے ہم سب نے مل جل کر کر دیا تھا، لیکن آخری دو ماہ کی دوا کا بندوبست مشکل ہو رہا تھا۔ اس عاجز نے اپنی وال پر دوائی کے بارے میں دریافت کیا کہ آیا یہ کہیں سے رعایتی نرخوں پر یا مفت مل سکتی ہے یا نہیں۔ ایسے کسی فلاحی ادارے کو تو پتہ نہیں چلا لیکن محض چار پانچ گھنٹے میں ہی وال پر موجود دوستوں کی طرف سے ایک مہینے کی بجائے دو مہینے کی دوائی کے پیسوں کی یقین دہانی آ گئی اور آج پیسے موصول ہونے بھی شروع ہو گئے ہیں۔ چار دوستوں نے خاصی بڑی رقم صرف اس عاجز کے اعتبار پر اس مریض کو بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ وال پر کمٹ کرنے کی بجائے اپنا نام چھپاتے ہوئے ان باکس میں پیغام بھیجنے کو مناسب جانتے ہیں۔

اپنے ارد گرد بعض ظالموں کو دیکھ کر انسانیت پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے تو ہم سب کو ایسے فرشتے بھی میسر ہیں جن کے دم سے دنیا قائم ہے۔

پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے کی زبوں حالی کے باعث درست اعداد و شمار اکٹھے کرنا تو تقریباً ناممکن ہے، لیکن اندازہ یہی لگایا جاتا ہے کہ پانچ سے آٹھ فیصد پاکستانی ہیپاٹائٹس سی کے مریض ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے چیئر پرسن ڈاکٹر سعید حامد کے مطابق کراچی کے علاقوں ملیر اور لانڈھی میں یہ شرح چوبیس فیصد تک بلند ہے، یعنی وہاں ہر چوتھا شخص اس مرض کا شکار ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی قیمت آپ جان ہی چکے ہیں۔ پہلے اس کے علاج کے لیے انجکشن لگتے تھے جن کے اثر سے کئی دن تک بدن میں شدید درد اور بخار کی شکایت ہوتی تھی۔ سوالدی گولیوں کو اس مرض کے لیے ایک انقلابی ایجاد کہا جاتا ہے۔ بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ حکومت جلد از جلد اور کم ترین قیمت پر اس کی فراہمی کو ممکن بنائے۔ وزیراعظم نے غریبوں کے لیے مہلک بیماریوں کے علاج کی سہولت کا اعلان تو کیا ہے، لیکن دیکھیں کب تک اس اعلان کو حقیقت کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔

جب تک حکومت یہ ذمہ داری نہیں سنبھالتی ہے، ہمیں مل جل کر اپنے ارد گرد کے لوگوں کی ان کی خوشی غمی میں مدد کرنی چاہیے۔ ہم سب مل کر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو کہ مل کر ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہم سب مل کر اپنا معاشرہ بہتر کر سکتے ہیں۔

تو آئیے، ‘ہم سب’ کے پلیٹ فارم سے مل کر فکری تبدیلیوں کا باعث بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی مشکل میں مدد کر کے ان کو ایک نئی زندگی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کا دن ہم سب اچھے انسانوں کے نام ہے۔

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “’ہم سب‘ کے نام

Comments are closed.