انسانوں کا ڈیجیٹل ڈیٹا چاند پر محفوظ کرنے کا منصوبہ


digitel daitaآج تک آپ اپنی تصویریں اور ویڈیوز مختلف ڈرائیوز میں اور کلاوڈ سروسز پر محفوظ کرتے رہے ہوں گے لیکن اگر آپ اپنا ڈیٹا چاند پر محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو لونار مشن یہ کام آپ کے لیے مفت کرنے کو تیار ہے۔
برطانوی کمپنی کے شروع کردہ لونار مشن ون کا ارادہ 2024 میں چاند پر اترنے کا ہے۔ اس منصوبے میں کوئی انسان تو چاند پر نہیں جائے گا البتہ روبوٹک شپ میں 2 طرح کے ڈیجیٹل خزانے ضرور بھیجے جائیں گے۔ لونار مشن کے بانی کا کہنا ہے کہ ہم چاند پر ایک گہرا سوراخ کر کے ڈیٹا کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کا ماحول حاصل کریں گے اور پھر اس ڈیٹا کو وہاں دفن کر دیں گے۔
چاند کی زمین پر دفن ہونے والے اس ڈیٹا کی 2 قسمیں ہوں گی۔ ایک ڈیٹا تو لوگوں کا ذاتی ہو گا جو خواہشمند افراد چاند پر دفن کرنے کے لیے جمع کروائیں گے اور دوسرا ڈیٹا انسان کی تاریخ پر مبنی ہو گا۔ اس میں زمین پر انسان کی تاریخ کے حوالے سے تمام معلومات موجود ہو گی۔ حالیہ دہائی کا انٹرنیٹ پر موجود زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کر کے بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔
چاند پر بھیجنے کے لیے اتنا زیادہ ڈیٹا جمع ہونے کی امید ہے کہ اس کے سائز کا ابھی سے اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ کئی ٹیرا بائٹ بلکہ پیٹا بائٹ پر محیط ہو سکتا ہے۔ عوامی ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اینڈروئیڈ ایپلی کیشن بھی متعارف کروا دی گئی ہے جس کے ذریعے جو چاہے اپنی تصویریں، آڈیو، ویڈیوز وغیرہ چاند پر دفن ہونے والی ڈیجیٹل میموری باکس میں شامل کرنے کے لیے بھیج سکتا ہے۔ ڈیٹا کس فارمیٹ میں محفوظ ہو گا کہ آنے والے وقت میں دیکھنے کے قابل ہو اس پر بھی سائنسدان کام کر رہے ہیں۔ البتہ یہ ڈیٹا چاند کے ساو¿تھ پول پر بورنگ کے ذریعے سوراخ کر کے محفوظ کیا جائے گا۔ کئی صدیوں بعد اگر چاند پر کوئی مخلوق اس ڈیٹا تک پہنچ جاتی ہے تو وہ زمین پر موجود انسانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکے گی۔


Comments

FB Login Required - comments